براہ مہربانی ہمیں انصاف دے شاہدے بھوکی جیسے دہشت گرد کو گرفتار کریں اور قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دے دو سال سے زیادہ عرصہ کا یہ اشتہاری ہے ان جیسے اشتہاری ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے
تونسہ شریف انچارج سی سی ڈی جناب خرم ریاض خان کھر صاحب اک نظر اس Fir پہ بھی،جناب یہ Fir اس وقت صدر تھانہ تونسہ شریف کی سب سے بڑی Fir ہے 7At ,302 کے مجرم آج بھی اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں کیا یہ لوگ قانون سے اتنے بالاتر ہے ہمارے بھائی حارث کو ان لوگوں نے 27/01/23 کو شہید کیا
اور سپاہی سالک جس جو پنجاب پولیس میں تھا اسکی Fir بھی شاہدے بھوکی پر ہے اسکا دوسرا مقدمے وار اب بھی جیل میں ہے جو سپاہی سالک کے قتل میں ملوث تھا ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ اور تونسہ شریف انچارج سی سی ڈی جناب خرم ریاض خان کھرسےپرزور اپیل ہےسر جی اس کیس پہ نظر ثانی کریں
اگر آج یہ ظلم کسی بلوچ نے کیا ہوتا تو پورا پاکستان سراپا احتجاج ہوتا، آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا۔ مگر جب مظلوم بلوچ، چاہے مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا بچہ، نوجوان ہو یا ضعیف، ریاستی ظلم کا شکار بنتا ہے تو سب کے لیے یہ ایک نارمل بات بن جاتی ہے۔ یہی منافقت سب سے بڑا جرم ہے۔
اگر آج یہ ظلم کسی بلوچ نے کیا ہوتا تو پورا پاکستان سراپا احتجاج ہوتا، آسمان سر پر اُٹھا لیا جاتا۔ مگر جب مظلوم بلوچ، چاہے مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا بچہ، نوجوان ہو یا ضعیف، ریاستی ظلم کا شکار بنتا ہے تو سب کے لیے یہ ایک نارمل بات بن جاتی ہے۔ یہی منافقت سب سے بڑا جرم ہے۔
پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں کوئٹہ سے بلوچ طالبہ ماجبین بنت غلام مصطفی سکنہ ضلع واشک جبری لاپتہ :
ماجبین بلوچ بلوچستان یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور BS Library Science میں زیرِ تعلیم ہیں۔
جسے کوئٹہ سول ہسپتال سے لاپتہ کیاگیا ہے
#SaveBalochWomen#Balochistan
پروپیگنڈہ اکاؤنٹس زکریا کو مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، اگر ہمارا بس چلتا تو کراچی یونیورسٹی کی پچھلے پانچ سالہ اٹینڈنس شیٹ نکال کر ان کے منہ پہ مارتے، کہ جس بیگناہ کی زندگی کو آپ خطرے میں ڈال رہے ہیں وہ جامعہ کراچی کا ریگولر سٹوڈنٹ ہے
#ReleaseZakriaBaloch
پروپیگنڈہ اکاؤنٹس زکریا کو مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، اگر ہمارا بس چلتا تو کراچی یونیورسٹی کی پچھلے پانچ سالہ اٹینڈنس شیٹ نکال کر ان کے منہ پہ مارتے، کہ جس بیگناہ کی زندگی کو آپ خطرے میں ڈال رہے ہیں وہ جامعہ کراچی کا ریگولر سٹوڈنٹ ہے
#ReleaseZakriaBaloch
My Response to the DG ISPR and the Violence in Balochistan
Lastday , the Director General of the Inter-Services Public Relations (DG ISPR) once again accused me of being a "proxy of terrorists", a serious and recurring allegation made without a single shred of credible evidence. This pattern of unsubstantiated claims has become a disturbing hallmark of the DG ISPR's public statements.
He further stated: "She (I) was the one who came seeking the dead bodies of the terrorists killed in the Jaffer Express hijacking incident. Who is she to seek the corpses?"
Let me be clear: that particular press conference was widely misused, fabricated, and taken out of context to distort my message During my press conference in March, I did not condone any act of violence. My only demand was transparency. I asked for the identities of unidentified individuals, beyond the twelve named militants, who were buried in the dead of night at Quetta's Kasi graveyard. These unidentified bodies deserve to be named, and their families have a fundamental right to know the fate of their loved ones. This demand is not only moral but a legal right in any civilized society.
For years, a disturbing pattern has emerged in Balochistan: following any violent incidents, law enforcement agencies have been involved in killing and secretly burying forcibly disappeared persons, later labeling them "militants." In the Jaffer Express case, the armed group responsible publicly released the names, photos, and details of the twelve men involved. Yet over two dozen bodies were brought to Civil Hospital Quetta. My question was: who were the others? Why were they buried in secrecy?
Once again, in response to the DG ISPR's latest accusations, I ask: where is the evidence? If Pakistan's intelligence and military institutions are as capable as they claim, why has no proof ever been presented against me?
My activism is peaceful, principled, and grounded in universal human rights values. I have consistently condemned violence, whether committed by non-state actors or the state itself. But Balochistan today is a landscape scarred by systemic repression, enforced disappearances, and a complete breakdown of justice and accountability. Rather than address these realities, the state chooses to vilify those who dare to speak the truth.
The international community must take note. The people of Balochistan deserve justice, not smear campaigns. They deserve answers, not threats. And above all, they deserve to live without fear.
Sincerely,
Mahrang Baloch
Zakria Baloch is not a threat. He is a student, brilliant, committed. He is from Nasirabad, Kech, a region that knows too well what it means to be punished for existing.
#EndEnforcedDisappearnces
Zakria Ismail a recent law graduate from the University of Karachi, was meant to sit for his GAT exam today, the next step in a journey toward justice, But last night, from Hazara Town in Karachi, he was forcibly disappeared by the Counter-Terrorism Department and Military Intelligence. No warrant. No accusation. Just the machinery of a state that disappears whenever they want.
Zakria Baloch is not a threat. He is a student, brilliant, committed. He is from Nasirabad, Kech, a region that knows too well what it means to be punished for existing.
#EndEnforcedDisappearnces
کوئی بچی یہ نہیں چاہتی کہ وہ اپنے والد کی مسخ شدہ لاش دیکھے لیکن آپ نے ڈاکٹر ماہ رنگ کے والد کو بارہا لاپتہ کیا اور انکی مسخ شدہ لاش بھی اس بچی کو دی۔ لیکن اس نے پھر بھی ہتھیار نہیں اٹھایا، بلکہ اپنی آواز اٹھائی، اپنے جیسے تکلیف اور غم میں مبتلا لوگوں کا سہارا اور امید بنی۔ اپنی تکلیف کو نفرت میں نہیں تبدیل کیا اور پُر امن جدوجہد کا انتخاب کیا۔ آپ لوگوں نے تو آدھا ملک غدار بنا کر لاپتہ یا قید کردیا جب آپ کی بلڈنگز پر حملہ ہوا۔
جب ایک ریاستی یا حکومتی اہلکار ایک پریس کانفرنس میں ایک خاتون ایکٹیوسٹ کے خلاف اتنا زہر جھوٹ اور نفرت اُگلے تو یہ ریاست کے لیے شرم کا مقام ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کی حقیقی آواز ہے اور اس ریاست کے تمام جبر اور ظلم کے باوجود آج تک وہ آواز امن، انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پُر امن لوگوں کو دہشتگرد کہنے سے آپ بلوچستان میں جاری نسل کشی کو چھپا نہیں سکتے۔
مسخ شدہ evil شکل تو انکی ہوتی ہے جو اپنے ہی لوگوں کو اغوا کر کے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکتیں ہے اور پھر ان کے بچوں پر کبھی لاٹھیا برساتے ہے تو کبھی قید کرتے ہے۔
بلوچستان میں ہزاروں لوگ ہے جو کسی لاش کی خبر سن کر ہسپتال پہنچ جاتے ہے کہ کہی وہ لاش ان کے پیارے کی نا ہو کیونکہ بلوچستان میں ایک بھی گھر ایسا نہیں جہاں کسی کو جبراً لاپتہ یا ماورائے عدالت قتل نا کیا ہو۔
اگر آپ ظلم نہیں کرینگے، لوگوں کے بچے نہیں اٹھائینگے تو کوئی پاگل ہی ہوگا جو اپنی پوری زندگی سڑکوں پر لاٹھیا اور ٹیر گیس کھاتا پھرے گا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ سچ کی آواز ہے اور اس طرح کے جھوٹے پروپیگنڈا سے سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔
یہ گالی ماہرنگ بلوچ کو نہیں پوری بلوچ قوم کو دی گئی ہے۔ تمام بلوچوں کی متفقہ لیڈر کا نام ماہرنگ بلوچ ہے۔ اگر کوئی پراکسی والی بات ہوتی تو ماہرنگ بلوچ پر مقدمہ چلتا نہ کے ایم پی او کے تحت قید میں رہتیں۔ جرنیلوں کو پنجابی سکھ زیادہ پیارے ہیں اور پاکستانی بلوچوں سے نفرت ہے
میں بلوچ ہوں اور پنجاب میں رہتا ہوں۔ ماہرنگ بلوچ کو تمام بلوچوں کی لیڈر مانتا ہوں۔ماہرنگ بلوچ اور بی وائی سی کے بارے میں میں جرنیل کی باتوں سے تکلیف میں ہوں۔ جو بلوچ بلوچستان میں رہتے ہیں انکی تکلیف کا اسے اندازہ نہیں ہے۔ نفرتیں خرید رہے ہیں۔ #MahrangBalochIsLeaderOfBal
ochNation
She could have stayed.
White coat. Bright ward.
The clean clink of surgical steel.
But how do you stitch wounds
while the land itself is torn open, daily?
How do you save a life,
while your homeland is dying
#ReleaseBYCLeaders@MahrangBaloch_
An interactive session will be organized in Karachi by @BsacKarachi on #BalochLiteracyCampaign. The session is included career counseling, panel discussion on educational issues, speeches and other education awareness segments.
اگر ان ہنستے اور مسکراتے چہروں کو منظرنامے پر ہٹانے سے آپ ترقی کرسکتے ہیں تو یہ آپکی واہمات ہے۔ واہمات ایک نفسیاتی مرض ہے، جسکا علاج قلم اور کتاب کے وارث کرسکتے ہیں
#ReleaseChairmanJavidBaloch#ReleaseGuhramBaloch