ڈاکٹر آصف جو کہ امریکہ میں اپنی نوکری اور گرین کارڈ سب چھوڑ کر خیبر پختونخواہ میں آئے تاکہ عوام کی خدمت کرسکیں، آج انکو تحریک انصاف حکومت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے نکال دیا
یہ رہا 14 سالہ تبدیلی کا انجام!
اس نوسرباز ٹولے نے اوورسیز پاکستانیوں کو سب سے زیادہ ذلیل کیا۔
Multiple governments of the "civilized" West support this vile state, where rape is used as a state sponsored policy.
The level of hate embedded in the psyche of a nation is unbelievable.
پہلے کہتا تھا اوقات ہے تو گرفتار کر کے دکھاو اب کہتا ہے مزید حراست میں رہنا خطرناک ہے اور تین سال مکمل ہونے کی خبر بھی دے رہا ہے
یہ والا ایموجی 🤣🤣 اب ٹھیک رہے گا
آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرسکتا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
1 Aug 2026
#waliullahmaroof
یہ 1979ء کی بات ہے…
بابر اُس وقت صرف چار یا پانچ سال کا معصوم بچہ تھا۔ والد کا نام اصغر اور والدہ کا نام سید بی بی تھا۔ خاندان ایک کچے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
بابر اپنے ماں باپ کا لاڈلا اور اپنے دو بھائیوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ گھر بھر کی آنکھوں کا تارا… وہ خود کہتا ہے:
"مجھے گھر میں بہت زیادہ پیار کیا جاتا تھا۔ میں اپنی مستیوں میں گم، اپنی چھوٹی سی دنیا کا بادشاہ تھا۔"
پھر ایک دن اُس کی معصوم دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
بابر کے ماموں نے کہا:
"چلو، پتاسے کھانے چلتے ہیں۔"
ننھے بابر نے خوشی خوشی ماموں کی انگلی پکڑی اور اچھلتا کودتا اُن کے ساتھ چل پڑا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ماں کی گود، باپ کے سائے اور اپنے گھر سے نصف صدی کی جدائی کا آغاز ہے۔
ماموں اسے ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر (ماموں ٹرک چلاتا تھا) بٹھا کر صبح سے سفر کرتے ہوئے سہ پہر کے وقت لاہور کے ایک علاقے میں لے آئے۔ وہاں ماموں نے بابر سے کہا:
"تم یہاں رکو، میں ابھی آتا ہوں۔"
ماموں تو واپس نہ آئے…
اور وہ دن اور آج کا دن، بابر اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا۔
ایک ننھے بچے سے اس کا بچپن چھن گیا۔۔ایک گھر اجڑ گیا۔
ایک ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں رہ گئی۔ایک باپ اپنے لاڈلے کو ترستا رہا۔
بابر کو ایک یتیم خانے نے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہاں اس کی اچھی پرورش ہوئی۔ ادارے کی میڈم نے اسے اپنے بچوں کی طرح محبت دی۔ بابر کی فائل آج بھی اسی ادارے میں موجود ہے۔
بچپن کی تصویر بھی ادارے کے ریکارڈ سے ملی ہے۔
ادارے کے منتظمین کے مطابق جب بابر وہاں آیا تھا تو وہ فارسی زبان میں کوئی نغمہ گنگنایا کرتا تھا، جس کے آخر میں شاید "لولولولو" کے الفاظ آتے تھے۔ ممکن ہے وہ اپنی ماں کی سنائی ہوئی کوئی لوری گاتا ہو… شاید ماں کی وہ لوری ہی تھی جو اس معصوم بچے کو اتنی بڑی جدائی کے باوجود یاد رہ گئی۔
آج تقریباً 47 سال گزر چکے ہیں۔
بابر خود بچوں کا باپ بن چکا ہے، مگر اس کے دل میں آج بھی اپنے ماں باپ کی محبت ویسی ہی زندہ ہے۔ وہ آج بھی اپنے والد اصغر اور والدہ سید بی بی کو یاد کرتا ہے اور اُن کی محبت کے لیے ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی کے لیے تڑپتی ہے۔
اسے اپنے والدین کے نام کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کا نام یاد نہیں۔
لیکن امید ابھی زندہ ہے…!
ہو سکتا ہے بابر کے والدین دنیا میں نہ ہوں، لیکن شاید اس کے بھائی، رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص آج بھی موجود ہو جو اصغر اور سید بی بی کے اس بچھڑے ہوئے بیٹے بابر کو پہچان سکے۔
اللہ کا نام لے کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کیا معلوم یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو بابر کے خاندان کو جانتا ہو۔
اللہ بچھڑوں کو ملانے والا ہے۔ ان شاء اللہ، بابر کا خاندان بھی مل سکتا ہے۔
کسی بھی قسم کی اطلاع ہو تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829
29 جولائی 2026
#WaliullahMaroof
یہ ہے خیبر پختونخوا کا سرکاری ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان۔ یہ ہے وہ تبدیلی اور وہ مثالی پختونخوا جس کا بارہ سال قبل وعدہ کیا گیا تھا۔
آج اسی ہسپتال میں مریضوں کو قدرتی آکسیجن کے نام پر کھلی فضا میں لیٹا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ اس طریقے سے مریضوں کو زیادہ بہتر آکسیجن مل سکتی ہے۔
کیا یہ منظر صوبے کے صحت کے نظام پر ایک تمانچہ نہیں؟ کیا حکمران اس منظر کو دیکھ کر ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوتے؟ کیا انہیں اپنے ان بلند بانگ دعووں پر شرم نہیں آتی جن کے تحت انہوں نے اس صوبے کو “پیرس” بنانے کا خواب دکھایا تھا؟
اگر بارہ سالہ حکمرانی میں صرف احتجاجی سیاست اور دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے ان ہسپتالوں کی حالتِ زار پر بھی توجہ دی جاتی، تو آج یہ المناک مناظر دیکھنے کو نہ ملتے۔
کیا وہی عوام جو ایک پارٹی کو مسلسل تین بار الیکٹ کر کے اپنا خلوص ثابت کر چکی ہے، اس سلوک کی مستحق ہے؟ کیا اس خلوص کے بدلے عوام کی صحت، ان کی عزت اور ان کی خدمت کا خیال رکھنا حکمرانوں کا فرض نہیں تھا؟ مگر افسوس کہ حکمران اپنی خدمت میں مصروف ہیں۔ اپنے خاندانوں، اپنے بچوں کے مستقبل اور اپنے ذاتی بینک بیلینس بڑھانے میں۔
اور مریض ؟ وہ آج بھی کھلی فضا میں لیٹے ہوئے ہیں… آکسیجن کے انتظار میں۔ یہ ہے اس خلوص کا صلہ جو انہوں نے دیا تھا۔
Dear Meezan bank
I am writing to report an urgent issue regarding my account and debit card. My ATM password/PIN appears to have been changed without my knowledge or request, and I am currently unable to log in or use my card.
@MeezanBankLtd
🚨🚨 اسلام آباد کے علاقے پھلگراں کی پرنس روڈ پر 28 کروڑ روپے مالیت سے تعمیر شدہ حفاظتی دیوار کی گزشتہ روز کی ہلکی بارش کے بعد کی صورتحال۔۔۔ یاد رہے حفاظتی دیوار چند ماہ قبل لوکل گورنمنٹ کی جانب سے بنائی گئی تھی۔۔۔
غفلت کسی کی بھی ہو۔۔۔ جلد یا بدیر خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
الحمدللہ پنجاب کے دیہاتوں کو جدید اور پختہ راستوں سے منسلک کرنے کا وژن اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ 79 ارب روپے کی لاگت سے ریکارڈ 75 دنوں میں 1567 سڑکوں کے مقررہ ہدف میں سے 1129 رابطہ سڑکیں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 40 ارب روپے کی لاگت سے جاری اس منصوبے میں کڑی نگرانی سے قوم کے 11 ارب روپے بچائے گئے۔ انشاءاللہ بنیادی ڈھانچے کی یہ پائیدار تبدیلی دیہی معیشت کو نئی زندگی دے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کے نئے افق روشن کرے گی۔پنجاب کے تمام شہروں اور دیہات میں پہلی بار ترقی کے یکساں موقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
میں انہیں دیکھ رہی تھی کہ جب کوئی ویڈیو بنانے آتا تھا تو یہ مزید تیز ہو جاتے تھے تاکہ سوشل میڈیا پر ثابت کیا جا سکے کہ ہم بہت( وڈے ڈیموکریٹ) ہیں۔ پارٹی کے اندر ان کا یہ پرابلم ہے کہ چند یوٹیومرز اور سوشل میڈیا کے ٹائیگر ان کے گٹے گوڈوں میں بیٹھ گئے ہیں۔یہ بیچارے جو منتخب نمائندے ہیں ان کو اپنی جسٹیفیکیشن ان لوگوں کو دینی پڑتی ہے جو نہ تو ہاؤس کے نمائندے ہیں نہ وہ جمہوریت پہ یقین کرتے ہیں اور نہ ان کا پنجاب اور پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔
جب دشمن کی بمباری سے بچنے کے لئے گھر چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف بھاگتے لبنانیوں کو دیکھا تومضبوط دفاع کی اہمیت کا احساس ہوا لبنان میں ہر طرف اسرائیلی ڈرون پرواز کرتے نظر آتے ہیں انہیں روکنے کے لئے لبنان کے پاس کوئی ائر ڈیفنس سسٹم نہیں ہمیں پاکستان کے ائر ڈیفنس پر فخر کرنا چاہیئے
سی سی ڈی بیگناہوں پر سیدھی گولیاں چلاتی ہے اور ایسے درندوں کے صرف نیفے والے بیان ہی آتے ہیں ۔ حالانکہ اصل حقدار تو یہ درندے ہیں جو معصوم بچیوں کو بھی نہیں بخشتے
https://t.co/NUCMZEePKm
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon.
The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland.
We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard.
With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi