@grok@valerielwl@realstewpeters Dude see Stew's other tweets that "style" (quotation marks and paraphrasing) is his way of showing the underlying (not spoken) message of the statement(s).
Listen to @1:20 a couple of times to understand what this tweet that you are getting @grok to verify actually means.
@dschorrnyc@realstewpeters@grok Dude see Stew's other tweets that "style" (quotation marks and paraphrasing) is his way of showing the underlying (not spoken) message of the statement(s).
Listen to @1:20 a couple of times to understand what this tweet that you are getting @grok to verify actually means.
ہنسی آتی ہے جب یہ وطن فروش ٹوئیٹس کر کے شرطیں رکھتے ہیں کہ ہم تب پاکستان کو سپورٹ کریں گے جب یہ کرو گے، جب وہ کرو گے۔
تم پر اور تمہاری سپورٹ پر لعنت۔۔۔ نہیں چاہیئے۔ تمہارے بڑے کے بغیر جب انڈیا جیسے دشمن کی درگت بنا دی تھی تو تمہارے مسلح ونگ کی تو اوقات ہی کیا ہے۔
تیس سال کی سیاست میں نہ کوئی لیڈر بنا سکے، نہ کوئی اچھا وزیر، نہ اچھا سیاستدان، نہ اچھی پارٹی، نہ اچھی حکومت۔۔۔ اگر تیس سال کے سیاسی سفر میں صرف وہ بے غیرت تیار کیے ہیں جو جنگ کے دوران مادرِ وطن کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو لعنت ہی آپ کی اس تیس سال کی سیاست پر۔
Asma Jahangir or Hina Jilani were/are brilliant human rights lawyers - judges like Justice Dorab Patel and Justice Fakhruddin Ebrahim will also always be remembered for their clear and unequivocal stance on the issue of human rights - let’s not equate these giants with 30 something lawyers who main claim to fame is screaming abuses at the top of their lungs
رضی بھائی یہ واقعی صحافی تنظیموں کے الیکشنوں میں “واردات “ در آئی ہے ابھی چند روز پہلے سپریم کورٹ رپورٹرز ایسو سی ایشن کے بھی انتخابات تھے ان کو بھی اڈیالوی بنیادوں پر تقسیم کے ذریعےلڑنے کی کوشش کی پھر جب شکست سامنے دیکھی تو کاغذات واپس لیکر بھاگ دھنو بھاگ کہہ کر ”عجت “بچانی پڑی ، ورنہ جمانت بھی جبط ہو جانی تھی 🙈
موضوع کوئی بھی ہو کرائے کےنسل پرست اپنی تنخواہ پکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں پختونوں کی اتنی نسل کشی ہو چکی کہ آج پختونوں کا سب سے بڑا شہر کابل یا پشاور نہیں کراچی ہے۔ پنجاب کا ایک تہائی کاروبار پشتونونو ں کے ہاتھ میں ہے۔ فوج اور سول سروس میں پشتونوں کا حصہ آبادی کے حصے سے زیادہ ہے۔ چار میں سے دو مارشل لا پشتون جرنیلوں نے لگائے۔انہوں نے یہ تمام کامیابیاں اپنی محنت اور ایمانداری سے پاکستانیوں کےطور پر حاصل کیں۔ بلوچوں کی نسل کشی کا یہ عالم ہے کہ دو تہائی بلوچ پنجاب اور سندھ میں آباد میں ہیں اور سندھ اور جنوبی پنجاب کی زمینیں اور طاقت کا بڑا حصہ ان کے پاس ہے۔ویسے اتنی گندی زبان کسی پاکستانی پختون خاتون کی نہیں ہوسکتی۔اردو اور زبان سےافغان معلوم ہوتی ہیں۔ اگر آپ ستیش چندر ہیں تو گزارش ہے کہ کم از کوئی مرد کا نام استعمال کرلیں۔