محسن نقوی کو چھوڑ دیں وہ کیا کہہ رہا آپ یہ چیک کریں کہ جس طاقت کے بل بوتے پر موجودہ بندوبست کھڑا اس میں نون لیگ نے شہباز شریف کی قیادت میں خود کو اس پاتال میں گرا لیا اور ملک میں عوام میں اپنے لئے اتنی نفرت پیدا کر لی کہ ایک غیر منتحب سیاسی یتیم بھی ان پر بھاری پڑ رہا ایک پریس ٹاک سے سب لرز جاتا ہے آج وہ سہارا کھینچ لیں تو شہباز شریف اور نون لیگ دھوبی کا کتا بن کے رہ جائے گی
2024 کی الیکشن مہم میں اگر آپ کو یاد ہو تو بلاول نے نون بارے بہت سخت زبان استعمال کی بلکے نواز شریف بارے ٹھیک ٹھاک بدتمیزی کی اس وقت میرا بھی ان کے سوشل میڈیا سیل کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ٹاکرا ہوا تھا مگر جیسے ہی الیکشن ختم ہوا پی پی نے اعلان کیا ہمیں نواز شریف بطور وزیراعظم قبول نہی اور شہباز شریف فورا زرداری سے ملنے پہنچ گے اور آنہوں نے مل کر حکومت بنا لی زرداری کی صدارت کے ووٹ نون نے دیے ہیں
اس لئے ان کی لڑائی کو سنجیدہ مت لیا کریں یہ دیے گے رول کے مطابق ایکٹنگ کرتے ہیں
اس ک ت ت ے محسن نقلی کے دور میں پنجاب کے غریب ملازمین سے لیو انکیشمنٹ چھینی گئی تھی جسکی بحالی کا وعدہ مریم نواز نے کیا تھا، بحالی کی بجائے مریم سرکار نے مزید کٹ لگا دیے، غریب ملازمین اور پنشنرز انکے بڑھاپے میں خوار کر دیا
دنیا بھر میں اصول یہی ہے اگر آپ کوئی سلیب کراس کرتے تو جو یونٹ اس سلیب کے اس کے پیسے زیادہ ہوتی جیسے پیک آور کا ریٹ الگ رکھ لیتے تو صرف اس دوران والے یونٹ پر وہ لگتا ہے
یہ ایک یونٹ پر پورا سلیب چھ مہینے بدل دیتا شہباز حکومت کا تحفہ ہے
گرین بس تقریباً 8.5 کروڑ میں پڑتی ہے 85 کروڑ مالیت کی 10 گرین بسیں پنجاب سرکار نے آزاد کشمیر بجھوائی ابھی مزید جانی ہیں
لیکن اپنے غریب سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو دینے کے لیے پنجاب سرکار کے پاس کچھ نہیں الٹا ان سے انکی برسوں کی کمائی پینشن اور گریجویٹی چھین لی،
اللہ پچھے گا
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊
بلوچستان سے 6 مزدور جن میں 4 کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق KPK سے ہیں جنہیں BLA نے قتل کر دیا ہے
KPK ہنگو میں حملہ ہوا 10 اہلکار شھید ہو گے
کشمیر میں فساد الگ
چئیرمین کرکٹ بورڈ بزنس کمیونٹی کو لیکچر دے رہا ہے
تمھارا SHO کہاں ہے بھئی تمھاری کارکردگی کہاں ہے ؟
نوجوانوں کو آپ نوجوان کہہ لیں یا کاکروچ وہ میرٹ پر روزگار اور اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ سیاستدان ناکام ہوئے ہیں ۔ انکو کوئ وظیفہ یا لیپ ٹاپ/ٹیب نہیں چاہئیں ۔ یہ سسٹم ناکام ہوا ہے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا ذو معنی خطاب ۔
برادر۔
سب نے سب کچھ چھاپا ہے۔ ہم سب اس اجلاس میں شریک تھے جہاں یہ ڈیٹا شئیر کیا گیا اور رپورٹ ہوا۔ سات ہزار ارب ادائیگی کی خبر بھی بریک کی گئی۔ اب تک ہم خود اس پر تین ٹی وی پروگرام @NeoNewsUR پر کر چکے جس میں سینٹر ایمل خان، سینٹر عبدالقادر اور سینٹر آبڑو جو وہاں اجلاس میں موجود تھے کو بھی شو میں بلا کر بات کر چکے ہیں۔
ان شوز کے کئی ٹوئٹس اور کلپ شئیر کر چکے۔ آج رات پھر ہمارے شو کا یہ موضوع ہے۔ آپ تک بھی یہ خبریں بھی اسی میڈیا کے زریعے ہی پہنچی ہیں۔
بتیس لاکھ کی سرخی کی بھی وجہ ہے کہ اپنی تنخواہ اس چیرمین نیپرا نے خود بڑھا لی اور پرفارمنس زیرو ہے۔ائی پی پی ایز کے ساتھ مل کر عوام کو بجلی بلز میں کھال اتارنے میں جو چیرمین نیپرا مدد دے رہا ہے وہ بتیس لاکھ روپے ہر ماہ اس عوام سے ہی لے رہا ہے۔
پورا ملک بلوچستان سے کمشیر تک ڈسٹرب ہے لیکن ایوان صدر کو ایک ہی فکر ہے بڑے صاحب کے لاڈلے دوست کی بیگم صاحبہ کو کسی طرح کراچی سے لا کر OIC Comstech میں کوارڈینیٹر ڈاکٹر اقبال کی جگہ لگایا جائے۔
مزے کی بات ہے ڈاکٹر اقبال کو کہا گیا ہے وہ اپنے خلاف خود ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے خلاف کاروائی کر کے ہٹایا جائے۔ ڈاکٹر اقبال کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری صدر زرداری نے آڈر کی تو انہوں نے جوابا صدر کو لکھ بھیجا کہ مجھے بتایا تو جائے میرے خلاف کیا الزامات ہیں تاکہ میں ان کا دفاع کر سکوں۔اب انہیں بتایا گیا ہے وہ سب دستاویزات خود ہی کمیٹی کو فراہم کریں پھر کمیٹی کسی نتیجہ پر پہنچے گی۔۔
ایوان صدر تو نہیں بتا رہا لیکن میں بتا رہا ہوں ڈاکٹر اقبال پر ایک ہی سنگین الزام ہے جب صدر صاحب کے لنگوٹیے نے انہیں فون کر کے “فرینڈلی مشورہ” دیا کہ وہ استححفی دے دیں تاکہ وہ اپنی بیگم صاحبہ کو وہاں لگوا سکیں تو انہوں نے انکار کیوں کیا۔ اس سے بڑا سنگین جرم اور کیا ہوسکتا ہے۔😎🤓😬
@CMShehbaz@MoitOfficial@TararAttaullah@JunaidAkbarMNA@SyedAliZafar1@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@AseefaBZ@sherryrehman@SenatorSaleem@BarristerGohar@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif
اسحاق ڈار کو کینیڈین وزیر خزانہ نے کیسے شرمندہ کیا، دلچسپ واقع :
اسحاق ڈار کینیڈا میں ایک ولیمہ میں شرکت کرنے ٹورنٹو آئے۔ ٹورنٹو کونسلیٹ نے انکی کینیڈین صوبے اونٹاریو کے وزیر خزانہ سے ریسٹورنٹ میں ملاقات کا اہتمام کیا۔ میرے علاؤہ فارن آفس کے دو اور سینئر افسر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ہمیں امید تھی کہ وہ ملک کے فائدے کے لیے کوئی بات کریں گے لیکن ڈار صاحب نے اپنی قابلیت کی تعریفیں شروع کر دیں، پھر اپنے اور اپنے بیٹے کے دنیا میں پھیلے کاروبار اور دولت بارے شیخین بگاڑنے لگے جیسے وہ کسی پاکستانی پر اپنی دولت کا رعب جما رھے ھوں۔ کینیڈین وزیر خاموشی سے سنتا رھا، پھر اس نے صرف ایک سوال کر کے ڈار صاحب لاجواب کر دیا کہ آپ وزیر خزانہ پاکستان کے ہیں اور آپکا کاروبار اور انویسٹمنٹ اس ملک سے باہر ھے جہاں کے آپ وزیر خزانہ ہیں۔ ڈار صاحب کی شرمندگی دیکھنے کے لائق تھی۔
ایک پرانی کہاوت یاد آئی۔ ایک بچے نے کسی بڑے بندے کے ساتھ بدتمیزی کی تو اس نے ڈانٹ کی بجائے جیب سے سکہ نکال دے دیا۔کسی نے حیرانی سے پوچھا یہ کیا کیا۔ وہ بندہ بولا یہ سمجھے گا اچھا کام ہے اس کا تو انعام ملتا ہے۔کسی دن بڑے سے ٹکرائے گا اور بڑی کٹ کھائے گا۔
لگتا ہے پولیس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے موٹے لوگوں سے انعام لیتی رہتی ہے اور ایک دن پیالہ بھر جاتا ہے تو ان کا Karma انہیں اٹارنی جنرل کے گھر لے جاتا ہے یا رات کے دو بجے مجسٹریٹ کے گھر غیرملکی خواتین کے بیانات دلوانے دیوار پھلانگ جاتے ہیں۔۔ یہ سب کرما کے پھل ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر سیر کا سوا سیر موجود ہے۔
ویسے پولیس سے یاد آیا لاہور میں دو غیرملکی خواتین کے اغوا اور مارپیٹ کا کیا بنا یا رات گئی بات گئی؟
آئی پی پیز کے حوالے سے رؤف کلاسرا کے خوفناک انکشاف💣
108 پاور پلانٹس میں سے 30 کے بارے میں تو بتایا جا رہا ہے کہ وہ موجود ہیں، جبکہ باقی 78 کو آج تک کسی نے دیکھا تک نہیں، قوم کی جیب سے ہر سال 1,800 ارب روپے نکلوائے جا رہے ہیں جو ضائع ہو رہے ہیں۔ مگر ادائیگیاں مسلسل جاری ہیں۔ اور معاہدے مزید 15 سال کے لیے بڑھا دیے گئے ہیں۔ اگلے سال یہی بوجھ 2,000 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں نون لیگ کی موجودہ حکومت اور شہباز شریف کی وزارت اعظمی سے پہلے بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم تو تھا مگر یہ ایک یونٹ ایکسٹرا استعمال کرنے سے بل تین ہزار سے گیارہ ہزار تک وہ بھی چھ مہینے پہنچنے والا عذاب نہی تھا ، اس پر فکسڈ ٹیکس نہی تھا ، گیس کے بل پر فکسڈ ٹیکس نہی تھا اور پیٹرول 150 روپے لیٹر تھا جس دن شہباز شریف وزیراعظم بنا ڈالر 186 کا تھا
آپ بتائیں پاکستان کے عام بندے کو شہباز شریف نے کیا رلیف دیا اس کی زندگی تو جہنم بن چکی ہے
نون لیگ والے دعوی کرتے صرف وہی ملک سنبھال سکتے آپ فگرز دیکھیں کہ قیام پاکستان کے وقت سے لے کر شہباز شریف کے اقتدار سنبھالنے تک 75 سال میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے تک پہنچی شہباز شریف اور نون کے تجربے نے چار سال میں اسے 335 روپے تک پہنچا دیا یعنی پورے 185 روپے کا اضافہ اتنا اضافہ پاکستان کی 75 سال کی تمام حکومتیں مل کر بھی نا کر سکیں
آپ پھر بھی ناشکرے ہیں