ان اللہ علی کل شئی قدیر.Hodophile Adventurer Hiker.💚+💙=🧬.Stay away if you can't digest difference of opinion.Universe turns differently when FIRE LOVES WATER
آ
یہ ویڈیو کسی عام پتھروں کے ڈھیر یا سادہ لینڈ سلائیڈنگ کی نہیں، بلکہ چلاس (گلگت بلتستان) میں آج آنے والے خوفناک سیلابی ریلے کی صورتحال کو ظاہر کر رہی ہے۔
چلاس (گلگت بلتستان) میں آنے والے شدید سیلابی ریلے نے صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ پانی کے ساتھ بڑے بڑے پتھر اور ملبہ بہہ کر آیا ہے جس کے باعث سڑکیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں۔
سیاح اور مقامی عوام سے گزارش ہے کہ اس وقت چلاس ایریا کا سفر ہرگز نہ کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
اللّٰہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ 🤲
🏑💔 بھارتی ہاکی کے کھلاڑی سندیپ سنگھ نے اپنے کیریئر میں تقریباً 110 گول کیے۔ 2006 میں ایک المناک حادثے کا شکار ہوا، موت کے منہ سے واپس آیا اور دوبارہ میدان میں اترا۔ اس کی جدوجہد کو سراہنے کے لیے بھارت نے 2018 میں اس کی زندگی پر فلم "سورما" بنا دی، جسے کروڑوں لوگوں نے دیکھا اور آج بھی سندیپ سنگھ کو قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 🇮🇳🎬
مگر ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے...
پاکستان کے پاس سہیل عباس جیسا عظیم کھلاڑی تھا، ہے اور رہے گا۔ وہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہاکی تاریخ کا سب سے بڑا پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔
🔥 348 بین الاقوامی گول!
جی ہاں، 348 گول... ایک ایسا عالمی ریکارڈ جو آج بھی قائم ہے اور جس تک پہنچنا دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے لیے خواب ہے۔
2001 میں اس نے ایک ہی سال میں 100 سے زائد گول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ جب سہیل عباس پینلٹی کارنر لینے آتا تو مخالف گول کیپر کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا تھا۔ اس کی ڈریگ فلک بجلی کی طرح گول پوسٹ میں جا لگتی تھی۔
2002 ایشین گیمز کے طلائی تمغے سے لے کر چیمپئنز ٹرافی اور اولمپکس تک، پاکستان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک نام بار بار سامنے آتا تھا: سہیل عباس۔
لیکن افسوس...
نہ اس پر کوئی فلم بنی۔
نہ کوئی بڑا ڈرامہ۔
نہ کوئی یادگار۔
نہ کوئی مجسمہ۔
آج کی نسل کے بہت سے نوجوان شاید اس عظیم نام سے بھی واقف نہیں۔
یہ صرف ایک کھلاڑی کو بھولنا نہیں...
یہ اپنی تاریخ کو بھولنا ہے۔
یہ اپنے اصل ہیروز کو فراموش کرنا ہے۔
ہم فلمی کرداروں اور وقتی شہرت رکھنے والوں کو تو یاد رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کرتے رہے، خاموشی سے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
سہیل عباس صرف ایک کھلاڑی نہیں...
وہ پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی آخری روشن یادوں میں سے ایک ہے۔
🏑🇵🇰 سہیل عباس ہمارا فخر ہے، ہمارا ہیرو ہے، ہماری تاریخ ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے اصل ہیروز کو وہ مقام دینا چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ نئی نسل جان سکے کہ دنیا کی ہاکی کا سب سے بڑا گول اسکورر پاکستانی تھا!
سہیل عباس زندہ باد!
پاکستان ہاکی زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰❤️
منقول
غیرملکی سیاح پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟
گرمیوں میں پاکستان کے شمالی/سیاحتی علاقوں میں ایسا منظر دیکھنے کو عام ملتا ہے جو اس تصویر میں ہے۔
یہ تصویر 13 جون کو صُبح آٹھ بجے ہنزہ کے علاقے کریم آباد کے بازار میں ایک ہوٹل کے باہر لی گئی۔
اس تصویر میں خاص تو کچھ نہیں، صرف وقت اہم ہے یعنی صُبح کا۔
شہر کا رات دیر گئے تک جاگنے والا مصروف ترین بازار سو رہا تھا، ریستوران بند پڑے تھے، ہوٹلوں کے گیٹ بھی مقفل تھے، زیادہ تر پاکستانی سیاح ابھی بستروں میں پڑے یا بعض ناشتے میں کیا کھائیں، کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے، تب یہ غیرملکی ٹریکنگ کر کے اپنے بیگ پیک سے لدے واپس ہوٹل کو آ رہے تھے۔
یہ سب اپنی عمر کے چوتھے حصے میں تھے یعنی 45 سے اوپر۔ 16 افراد کی ٹیم تھی، خواتین کی تعداد چھ رہی ہوگی، دو اِن کے ساتھ گائیڈ تھے۔
گزشتہ 17 برسوں کے دوران جب بھی سیاحتی مقامات گیا اور خاص طور پر ایسے پہاڑی علاقوں میں جہاں ہائیکنگ ٹریک بنے ہوئے ہیں سویرے کے منظر میں غیرملکی زیادہ نظر آئے۔
لگ بھگ دہائی قبل ناران میں ایک بزرگ آئرش جوڑے کو دیکھا جن کے مطابق وہ ہر سال ایک ہفتے کے لیے اس علاقے میں آتے تھے۔
صُبح سویرے اُٹھتے، جنگل میں ٹریکنگ کرتے، ساڑھے آٹھ بجے واپس آتے، نہا دھو کر ناشتہ کرتے۔ اور پھر سارا دن ہوٹل کے لان میں بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھتے۔
ایک بار ہوٹل کے مینیجر نے پوچھا کہ اتنی جلدی کیوں اُٹھتے ہیں؟ تو اُن کا جواب تھا کہ اُس وقت قدرت/نیچر اپنے جوبن پر ہوتی ہے، باہر انسان کم ہوتے ہیں، ہمیں جنگل/پہاڑ/ راستے میں کچھ نئے چرند پرند دیکھنے کو ملتے ہیں، اُن کی آوازیں سُنتے ہیں، حشرات کو رینگتے دیکھتے ہیں۔ اور فطری حُسن، خاموشی اور سُکون سے رُوح کے لیے تازگی کشید کرتے ہیں۔
اے وحید مراد