خان الیاس خان
کور ممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خان الیاس خان صاحب کا اہم پیغام ملاحظہ فرمائیں۔
2 اکتوبر 2026 | بعد نمازِ جمعہ | منگ بازار۔۔
اج سے 30 سال پہلے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیریوں نے جو کام چھوڑ دیے تھے اپنی زمین کاشت کرنا اپنے لیے سبزیوں اگانا گندم مکئی اب وہ وقت اگیا ہے کہ سب کچھ زیرو سے شروع کیا جائے حمزہ نصیر بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے
🚨 DADYAL, PAKISTAN-ADMINISTERED KASHMIR
Footage emerging from Dadyal reportedly shows Pakistani security forces present during the demolition of the home of the father of JAAC core member Khawaja Mehran Arshad.
If confirmed, targeting a family home because of a person’s political or civic activism raises serious concerns regarding collective punishment, intimidation and the protection of civilians.
We urge @UNHumanRights, @amnesty, @hrw, @ICRC, @RSF_inter and the international media to urgently monitor the situation, seek independent verification and ensure that the rights and safety of affected families are protected.
The world must not look away from Pakistan-administered Kashmir.
#RightsMovementAJK #Kashmir #HumanRights #Dadyal
فوری عالمی اپیل
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، آزادیٔ صحافت اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ
28 ستمبر 2026 کو پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے مظفرآباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر سنگین الزامات عائد کیے گئے اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ JAAC سے متعلق متعدد مطالبات اور حالیہ احتجاج کے بارے میں ریاستی مؤقف درست ہے۔ دوسری جانب JAAC اور اس کے حامی ان دعوؤں کو مسترد کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے بنیادی مطالبات اور احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافی حیدر شیرازی نے حالیہ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے مظاہرین کی لاشوں سے متعلق سوال کیا۔ دستیاب ویڈیو اور متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی پولیس لیاقت ملک نے صحافی سے مائیک لینے کی کوشش کی، جس پر صحافتی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صحافیوں کا سوال کرنا جرم نہیں ہے۔
ریاستی عہدیداروں سے مشکل اور حساس سوالات پوچھنا آزاد صحافت کا بنیادی حصہ ہے۔ کسی بھی سرکاری افسر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تنقیدی سوال کا جواب دلیل اور شواہد کے ساتھ دے، نہ کہ صحافی کو خاموش کرنے کی کوشش کرے۔
ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والی تمام ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں، لاپتہ افراد اور مبینہ طور پر تحویل میں لیے گئے افراد کے بارے میں آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں۔
خواجہ مہران ارشد کے گھر کی مبینہ مسماری
اسی دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن اور وکیل خواجہ مہران ارشد سے متعلق ان کے گھر/جائیداد کے انہدام کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس معاملے میں سرکاری مؤقف مختلف ہے۔ ایک حالیہ سرکاری مؤقف سے منسلک رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈڈیال می�� متعلقہ تعمیرات سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر قائم تھیں اور کارروائی سے قبل قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے میں نوٹس، ملکیت کے ریکارڈ، عدالتی احکامات اور انہدام کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے لائی جائے، تاکہ حقیقت آزادانہ طور پر معلوم ہو سکے۔
عالمی برادری سے مطالبہ
ہم اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر ��لکی حکومتوں، پارلیمانوں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی آزادانہ نگرانی اور تحقیقات کی جائیں۔
2. حالیہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اور وجوہات کی آزادانہ تصدیق کرائی جائے۔
3. تمام گرفتار، لاپتہ یا زیرِ حراست افراد کے بارے میں معلومات ان کے خاندانوں اور وکلا کو فراہم کی جائیں۔
4. صحافیوں کو آزادانہ طور پر سوال کرنے اور رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے۔
5. کسی بھی شہری کے گھر یا کاروبار کے خلاف کارروائی قانونی طریقہ کار اور عدالتی نگرانی کے بغیر نہ کی جائے۔
6. انٹرنیٹ، مواصلات اور دیگر ش��ری سہولیات کی بندش کو ختم کیا جائے تاکہ عوام، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن آزادانہ طور پر معلومات حاصل اور شیئر کر سکیں۔
7. احتجاج کرنے والے شہریوں اور عام آبادی کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
8. تمام فریقین پر زور دیا جائے کہ اختلافات کا حل پرامن سیاسی اور آئینی طریقے سے نکالا جائے۔
ہم بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، فلسطین یا دنیا کے کسی بھی حصے میں شہریوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
اگر کسی ریاست کی جانب سے دوسرے علاقوں میں شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوال اٹھایا جاتا ہے، تو اپنے زیرِ انتظام علاقے میں بھی شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام ضروری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری صورتحال کو نظر انداز نہ کیا جائے اور وہاں کے شہریوں کے جان، آزادی، عزت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور آزادانہ بین الاقوامی نگرانی یقینی بنائی جائے۔
شوکت نواز میر کی مبینہ گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اُن کے اہلخانہ کے مطابق میر کو حراست میں لیے جانے کے شواہد موجود ہیں جبکہ کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ 42 کیسز میں مطلوب شوکت میر روپوش ہیں۔
https://t.co/JI80FxUxbp
ڈڈیال میں اس وقت فورسز کی تمام نقل و حرکت کو ڈرون کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ خواجہ مہران ایڈووکیٹ کے گھر کے اردگرد عوام بڑی تعداد میں موجود ہے۔ 🚩✊