یوم یکجہتی کشمیر پر منظوم پیغام
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
” گھائل کی گھت گھائل جانے
اور نہ جانے کوئی “
کشمیری کے درد کو جانے
جانے صرف مہاجر جانے
اور نہ جانے کوئی
#یوم_کشمیر#KashmirSolidarityDay
I extend my heartfelt condolences on the sad demise of the His Highness Prince Kareem Al-Hussaini, Aga Khan IV, 49th hereditary Imam of the Shia Ismaili Muslims.
#princekarimagakhan
In this moment of sorrow, I, along with all the members of @OfficialMqm, stand in solidarity with the Ismaili community residing in Pakistan and around the world in their grief.
Prince Kareem Agha Khan will always be remembered for his humanitarianism and his philanthropic services in the fields of education, healthcare, economy, and other sectors.
I pray that Allah elevates the ranks of Prince Kareem Agha Khan and grants patience and strength to all the bereaved. Ameen. @akdn@AKF_Global
میں اسمٰعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر سوگوار اہل خانہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم
اسمٰعیلی برادری سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔
#PrinceKareemAghaKhan
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت @OfficialMqm کے تمام کارکنان سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
پرنس کریم آغا خان اپنی انسانیت دوستی کے ساتھ ساتھ
تعلیم، طب ،معیشت اور دیگر شعبوں میں کی جانے والی فلاحی خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی، پرنس کریم آغا خان کے درجات بلند فرمائے اور تمام سوگواران کو صبر جمیل عطا کرے، آمین
@akdn
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھےہےحکمِ اذاں لاالہ الااللّہ:
تاریخ کےاوراق سے؛
منگل،3فروری1981
جامعہ کراچی
آج سے44برس قبل بانی وقائدِتحریک الطاف حسین بھائی،APMSOکےداخلہ مہم اسٹالزپر
اسلامی جمعیت طلبہ کےتھنڈراسکواڈنے
مسلح حملہ کیااورانہیں جامعہ کراچی سےاسلحہ کےزورپربےدخل کیا
الطاف حسین بھائی، تحریک کے بانی، قائد اور بابائےمہاجرقوم ہیں۔آج میں وہ واقعہ تحریرکررہا ہوں جو آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کےابتدائی دنوں کاہے۔ہم سب جانتےہیں کہ11جون1978 کو الطاف حسین بھائی نےAPMSO کی بنیادرکھی۔اس سےقبل مہاجر نام توموجود تھا، مگرمہاجرمختلف مذہبی اورسیاسی جماعتوں میں منقسم تھےاوران کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی۔الطاف حسین بھائی نےاس بکھری ہوئی قوم کوایک جگہ متحد کیااوراسےپوری دنیامیں شناخت وعزت دی اوراسےتسلیم کروایا۔
اختصارسے بیان کردوں کہ جبAPMSOکاقیام عمل میں آیا تو اس سےسب سےزیادہ تکلیف اسلامی جمیعت طلبہ کوہوئی۔1979 میں APMSO نےپہلی بارجامعہ کراچی میں طلبہ یونین کےانتخابات میں حصہ لیا اور90 ووٹ حاصل کئےاور اس سےاگلےبرس1980 میں900 ووٹ حاصل کئے۔اسلامی جمعیت طلبہ کی منافق صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔یہ ضیاء الحق کےمارشل لاء کا دورہے اور1979میں افغان جہاد شروع ہوگیاتھا۔جماعتِ اسلامی اوراسلامی جمعیت طلبہ، ضیاءالحق، ISI اورفوج کی چہیتی اوربغل بچہ تنظیم، افغان جہاد کےنام پر پیسے، اسلحہ اورمسلح ٹریننگ لےکرتھنڈراسکواڈزتشکیل دےچکی تھیں۔جب جماعتیوں نے الطاف بھائی اورAPMSO کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھی تو ان منافقین نے پہلےAPMSO پر لسانیت اورعصبیت کےالزام لگائےاوربعدمیں مسلح حملےکئے۔جامعہ کراچی میںAPMSOکےقیام سےقبل پنجابی، پشتون، سندھی، بلوچی، کشمیری، گلگتی بلتستانی، سرائیکی، ہزارہ و دیگر لسانی تنظیمیں موجودتھیں، مگر جماعتیوں کو ان میں کبھی لسانیت یا عصبیت نظر نہ آئی۔
یکم فروری1981 کو جامعہ کراچی میں داخلہ مہم شروع ہوئی۔APMSO کامرکزی اسٹال، جامعہ کراچی کےپوسٹ آفس کی طرف لگایاگیاتھا۔ تحریکی پرچموں سے سجا یہ اسٹال نئےآنےوالےطلبہ و طالبات کی توجہ ونگاہوں کا مرکز تھااورداخلےکے خواہشمندسب سےزیادہAPMSO کےاسٹال پرآرہےتھے۔یہ منظر جماعتیوں کو پسندنہیں آرہاتھا۔اورپھر جمعیت نےوہی کیاجواس کی تاریخ اوروطیرہ رہاہے۔ جمعیت کےتھنڈر اسکواڈ نےAPMSO کےاسٹال پرمسلح حملہ کردیا۔ان کا نشانہ بانی و قائدِ تحریک الطاف حسین بھائی تھے۔مگر سلام ہےان بہنوں پر۔APMSO کی طالبات نے الطاف بھائی کےگردحفاظتی حصار باندھ لیا۔ نام نہاداسلام پسندجماعتیوں نےاس حملہ میں ان طالبات بہنوں کےدوپٹے تک کھینچے اور سارے اسٹالزتوڑدیئے۔جمعیت کےاس حملہ میںAPMSO کے2 کارکنان عشرت عزیز اور ریحان احمدشدید زخمی ہوئے۔الطاف بھائی انہیں لےکرپہلے جامعہ کراچی کی ڈسپنسری گئے، مگرزخم شدیدہونےکی وجہ سےعباسی شہیدہسپتال لے جانا پڑا۔ اللّہ کے فضل اوربروقت طبی امدادسےان دونوں کی جان بچ گئی۔ الطاف حسین بھائی نےاس کےبعدہسپتال میں موجودتمام ساتھیوں سےکہاکہ سب ساتھی اس حملہ سےمتعلق اپنے تاثرات لکھیں۔اور سب سےپہلے الطاف بھائی نے کاپی پرواقعہ اوراس سےمتعلق اپنےتاثرات لکھے۔
اس کے بعد بانی وقائدِتحریک الطاف حسین بھائی نےاس رات ہنگامی اجلاس اوراگلےروزمشاورت سےیہ فیصلہ کیاکہ چونکہ اسلامی جمعیت طلبہ ہمارے خون کی پیاسی ہوچکی ہے، اس نےاسلحہ کےزور پرہمیں جامعہ سےبےدخل کردیاہےاوراگرہم ابھی جامعہ کراچی گئےتویہ ہمارےساتھیوں کوقتل کردیں گے۔لہٰذا اب ہم اپناتحریکی پیغام علاقوں میں پھیلائیں گےاوراپنےحقوق کی جدوجہد کوجاری رکھیں گے۔ 3فروری1981سےلےکر 7 اگست1986کےعرصہ میںAPMSO اوربعدمیںMQMنے5ہزار سےزائدچھوٹےجلسہ، کارنرمیٹنگز، اجلاس، فکری اورتربیتی نشستیں کیں، تب کہیں جاکر8 اگست1986 کونشتر پارک کےتاریخی اورکامیاب جلسہ کا انعقاد ہوا۔
بانی وقائدِ تحریک الطاف حسین بھائی اورتحریکی بہنوں اور ساتھیوں پر مسلح حملہ کرنےوالے اسلامی جمعیت طلبہ کےتھنڈراسکواڈکےدہشتگرد اسی شہرکراچی میں رہےاور رہ رہے ہیں، مگر قائدِ محترم کا صبر اور ظرف دیکھیں کہ انہوں نے نہ کبھی ان جماعتیوں کا نام لیا اور نہ کبھی ان سےبدلہ لینے کادرس دیا بلکہ ہمیشہ یہ کہا کہ ساتھیو، ہم حق پر ہیں اور انشاء اللّہ فتح ہماری ہوگی۔ آج دیکھ لیجئے کہ بانی وقائد الطاف حسین بھائی، ان کا نظریہ، ان کیAPMSO/MQM اور مہاجر، جامعہ کراچی سےنکل کر پاکستان سمیت دنیاکے ہر ملک میں موجود ہیں اورجماعتِ اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ اوران کا تھنڈر اسکواڈ روزانہ پوری دنیا میں ذلیل بھی ہورہا ہے اور رسوا بھی۔
بےشک اللّہ بڑا بادشاہ ہے
تحریر ۔ ڈاکٹر ندیم احسان
۔
@AltafHussain_90@OfficialMqm@OfficialDGISPR@NaeemRehmanEngr@WusatUllahKhan@SaleemKhanSafi@BBCUrdu@dw_urdu@voaurdu@MazharAbbasGEO@Xadeejournalist
الطاف حسین کے طرز سیاست سے ہزار اختلاف کرسکتے ہیں لیکن بھائی کا کمال سٹائل اور جلوہ تھا اور صرف ایک لفظ چُپ کہنے پر صرف ایک سیکنڈ میں پورا کراچی چُپ ھوجایا کرتا تھا اور ایسا کنٹرول عزت احترام نہ کبھی کسی اور لیڈر کو کبھی ملا ہے اور شاید نہ کبھی ملے گا
2/2
میں جرنیلوں کوبتاناچاہتاہوں کہ خدارا ملک میں میرٹ کانظام قائم کریں کیونکہ میرٹ اور انصاف کانظام لائے بغیر نہ ملک صحیح ڈگرپرآسکتاہے، نہ ریاست اور عوام کے درمیان موجودخلیج کوختم کیاجاسکتا ہے، نہ ہی بلوچوں اور پشتونوں کی مزاحمت ختم کی جاسکتی ہے۔ لہٰذاآپ ملک میں انصاف کانظام قائم کریں، ہر کسی کواس کاحق دیں، صوبوں کے تیل، گیس اورتمام معدنیات پر پہلاحق صوبے کاہوناچاہیے،عدلیہ میں ججز کی تعیناتی 100فیصد میرٹ کے اصولوں کے مطابق یقینی بنائی جائے اورملک کو26ویں آئینی ترامیم کے بجائے اصل آئین اوراس کی روح کے مطابق چلایاجائے اورملک سے پیکاایکٹ کے سیاہ ترین قانون کوفی الفور ختم کیاجائے۔
میں ملک بھر کی تمام قوموں ،نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمذہبی اکائیوں سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیے میری آواز میں آوازملائیے، میری ایم کیوایم کوجوائن کیجئے، میرے پیغام کوپھیلائیے جو انصاف اور میرٹ کی آواز ہے، جوفرقہ وارانہ اورمذہبی منافرت کی نہیں بلکہ انسانیت،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی آواز ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 206 سے خطاب
2فروری 2025ئ
فوج اگرملک کی لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کیلئے مارشل لاء نافذ کرتی ہے تومیں ساتھ دوں گا
……………………………………
خدارا پاکستان کو زرداری اورشریف مافیا سے نجات دلائیں
……………………………………………
میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، تمام کورکمانڈر صاحبان، تمام آپریشنل کمانڈرز، بحریہ اورفضائیہ کے سربراہان سےکہتاہوں کہ آپ نے پاکستان میں اتنے مارشل لاء لگائے ہیں،اگرآپ پاکستان کو لوٹنےوالے ڈاکوؤں اورچوروں سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت پاکستان واپس لانے کےلئے کوئی مارشل لاء نافذ کرتے ہیں تواس میں الطاف حسین آپ کاساتھ دے گا۔
سب جانتے ہیں کہ جب پاکستان کی عمر محض 25سال تھی اس کےبعد سے لیکر بھٹوزرداری اورشریف مافیا کا اقتدارنسل درنسل چلتاچلا آرہا ہے، بھٹوزرداری اور شریف مافیا نےجتنے عرصہ ملک پر حکومت کی ہے اتنادورانیہ کسی اور جماعت یاخاندان کا نہیں۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ ملک کو دونوں ہاتھوں پیروں سےکن ڈاکوؤں اور چوروں نے لوٹاہے، زرداری اورشریف خاندا ن کےپاس اتنی دولت ہےجس کا کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا،ان دونوں خاندانوں کے پاس اتنی دولت ہےکہ اگر ان سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لےلی جائے توپاکستان کے تمام قرضے معاف ہوجائیں۔آج بھی ملک پر زرداری اورشریف خاندان کی حکومت ہے جو ملک کولوٹ رہے ہیں اورجب چور، اچکے اور ڈاکوملک کے حکمراں ہوں گے توکچے اور پکےکے ڈاکوؤں کوکون پکڑے گا؟
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر یہ جماعتیں موروثیت اور خاندانی حکمرانی پر یقین رکھتی ہیں اوراسی کےلئےکام کرتی ہیں۔ موروثی سیاست جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت کانظام ہےکہ باپ کے بعد بیٹاہی کرسی پر بیٹھے گا۔
میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے کارکنوں سےسوال کرتاہوں کہ کیا آپ کی جماعت میں زرداری اورشریف خاندان کےافراد کے علاوہ کوئی ایسا پڑھا لکھا اورقابل شخص نہیں کہ جس کو وزیراعظم یاوزیراعلیٰ بنایا جاسکے؟ ایم کیوایم کی مثال آپ کے سامنے ہے،الطاف حسین نہ خود ایوانوں کاممبربنا اورنہ ہی اپنےبھائی بہن کوبنایابلکہ اپنی پارٹی کےغریب ومتوسط طبقہ کے ڈاکٹروں، انجینئروں، وکیلوں،حتیٰ کہ پڑھے لکھے اور قابلیت رکھنے والے رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں اورگنےکارس بیچنے والوں کوقومی وصوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجا۔ کیا آپ الطاف حسین کےعلاوہ کسی دوسرے لیڈر کانام بتاسکتے ہیں جس نے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں میں دریاں بچھانے والے، بینرز اورپوسٹرز لگانے والے اپنے کارکنوں کو اسمبلیوں میں بھیجاہو؟
کیپیٹل ازم معاشرے میں طبقات پیداکرتاہے، میں اس طبقاتی کشمکش اورفرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم کرنے آیاتھا لیکن مجھ پر غداری اور ملک دشمنی کے بہتان لگادیئے گئے ۔
میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جب تک 98فیصد غریب اورمڈل کلاس عوام کےبجائے 2 فیصد جاگیرداروں، وڈیروں، بڑے بڑے سرمایہ داروں اورمراعات یافتہ ایلیٹ کلاس اقتدار کے ایوانوں میں مسلط رہےگی اس وقت تک پاکستان کانظام درست نہیں ہوسکتا۔
زرداری اورشریف خاندان کےخلاف قومی خزانہ لوٹنےپر کئی مرتبہ کرپشن کےکیس بنے اورانہیں برطرفی اورنااہلی کے علاوہ قید کی سزائیں بھی دی گئیں جوبعدازاں کالعدم قراردیدی گئیں۔اس طرح ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جاسکی۔ آج پھر زرداری شریف مافیاملک پر برسراقتدارہے اورانہوں نے عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کےلئے اپنےمن پسند ججوں کوعدالتوں میں مقررکردیا ہے اورسپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ ہائیکورٹس میں بھی من پسند ججوں کی تقرریاں اورتبادلےکئے جارہے ہیں۔اس طرح عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کی رہی سہی سانسیں بھی چھین کر عدلیہ اور انصاف کا جنازہ نکالاجارہاہے۔ جب چوراورڈاکو ملک کے حکمراں بنیں گے تودیگراداروں کی طرح عدالتوں میں بھی تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوں گی اور جب عدالتوں میں میرٹ کے بجائے اپنی مرضی کے من پسند ججز لگائے جائیں گے تووہ ججز آئین وقانون کے مطابق فیصلے کریں گے یاحکمرانوں کی مرضی کے فیصلے کریں گے؟
اس بات سے کوئی انکارنہیں کہ پاکستان میں فوج ایک حقیقت ہے اوراس کاایک کردار ہے لہٰذا میں جنرل عاصم منیر صاحب سےکہتا ہوں کہ زرداری اورشریف مافیا نےتمام اداروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ اوراب فوج کے چند اعلیٰ افسران کوبھی کرپشن میں حصہ دار بناکرفوج کے تقدس کوبھی بری طرح مجروح کرڈالا ہے۔لہٰذا فوج کومزید بدنامی سے بچانے کے لئے پاکستان کو زرداری اور شریف مافیا سے نجات دلائیں۔پاکستان سے جاگیردارانہ نظام کےخاتمے کااعلان کرکے جاگیرداروں اوروڈیروں سے زمینیں لیکر ہاریوں اورکسانوں میں تقسیم کردی جائیں اس سے کسانوں اور ہاریوں کی حالت بھی نہ صرف بہتر ہوگی بلکہ زرعی پیداوار میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔ 1/2
#LiftBanOnAltafHussain
📌آج بروز اتوار 2 فروری 2025 ملیر سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے بانی و قائد جناب الطاف حسین بھائی کے حق میں کی گئی وال چاکنگ کا عکس۔
ملیر سیکٹر ۔ یونٹ 96
@AltafHussain_90@OfficialMqm
#AltafHussain@OfficialMqm
کارکنوں کوہراساں کرنےکے لئے جھوٹی ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں بہادرآباد ٹولہ ایم کیوایم کے بینر سے پریشان ہوکر چھاپوں کیلئے مخبریاں کررہاہے
کتنے ہی چھاپے مار یں، اب حیدرآباد کے بہادرعوام کو دبایا نہیں جاسکتا ۔
#AltafHussain@OfficialMqm
سیکٹرای کے کارکن لاریب کو پکاقلعہ کے علاقے سے حراست میں لے لیا گیا
سیکٹربی کےکارکن ارسلان کے گھر پر اس وقت چھاپہ مارا گیا جب ان کی والدہ کاانتقال ہوا تھا اورتدفین کی تیاریاں کی جارہی تھیں
کررہاہے.
عدالت،صحافت،سیاست،تجارت، منکریت:
#LiftBanOnAltafHussain
اللّہ کابھی کیاخوب مکافاتِ عمل ہےکہ
1-عدالت:
۔بانی وقائدالطاف حسین بھائی پرغیرآئینی پابندی کےخلاف عاصمہ جہانگیرکی درخواست پرعدالتی بحث کےدوران توہین عدالت کی کاروائی کی دھمکی دینےوالےلاہورہائی کورٹ بنچ کے جج مظاہراکبرنقوی نےجب عاصمہ صاحبہ کوتحریری معافی مانگنےکاکہاتوانہوں نےصاف انکارکردیا۔بعدمیں یہی شخص،جب سپریم کورٹ میں جج بناتواپنی کرپشن کوچھپانےکیلئےتحریری استعفیٰ دےکربھاگ لیا۔
۔آج سپریم کورٹ کےججز،تختِ لاہورسےلائی گئی26ویں آئینی ترمیم کوغیرآئینی اورایکدوسرےکوتوہینِ عدالت کامرتکب بتارہےہیں۔
۔سپریم کورٹ نےالطاف بھائی پرغیرآئینی پابندی سےمتعلق کیس نہیں سنااورعاصمہ صاحبہ کولاہورہائی کورٹ جانےکاکہا۔ننھی اسلام آبادہائی کورٹ نےپوچھاکہ الطاف حسین کون ہیں؟ سندھ ہائی کورٹ لیت ولعل سےکام لیتی رہی۔
۔اب مکافاتِ عمل دیکھیں کہ اسلام آبادہائی کورٹ کےججزنےسپریم کورٹ،لاہورہائی کورٹ اورسندھ ہائی کورٹ کوخط لکھاہےکہ اسلام آبادہائی کورٹ کاچیف جسٹس صرف اسلام آبادہائی کورٹ سےلیاجائے۔باہرسےآنےوالےچیف جسٹس کاتقررغیرآئینی ہوگا۔جووکلاءالطاف بھائی پرغیرآئینی پابندی کےحمایتی تھے،وہ آج ججزتقرری پرآپس میں سرپھٹول ہیں۔
2-صحافت:
الطاف بھائی کی تحریر،تصویر،تقریر پر7ستمبر2015کولاہورہائی کورٹ کی جانب سےغیرآئینی پابندی لگائی گئی۔آزادئ صحافت اورآزادئ اظہارِرائےکےنام نہادچیمپئین صحافیوں، اینکرز، تجزیہ نگاروں نےاس کی حمایت کی اورگذشتہ9 برس سےہرزہ سرائی اوریکطرفہ مؤقف اپناکرجو منہ میں آتاہےالٹ رہےہوتےہیں۔اب ہوایہ کہPECAایکٹ2025آگیااورآزادئ صحافت اورآزادئ اظہاررائےکےان نام نہادچیمپئینزکی چیخیں نکل گئیں۔کہنےلگےکہ یہ قانون غیرآئینی ہے۔یہ سارےقلمی چیتےاوروکلاءبھاگےبھاگےلاہورہائی کورٹ گئےکہ جج صاحبPECA ایکٹ کےعملدرآمدکورکوائیں۔مگرہائےمکافاتِ عمل کہ وہی یعنی اسی لاہورہائی کورٹ کے جج نےان کی یہ استدعامستردکردی۔
3-سیاست:
میں کسی بھی جائزسیاسی جماعت کی قیادت سےمتعلق کچھ کہتےہوئےمحتاط الفاظ کااستعمال کرتا ہوں۔مگراگرکوئی بھی میرےقائدِمحترم کےبارےمیں ہرزہ سرائی کرےگاتوپھراس کوجواب بھیLogical اورمنہ توڑملےگا،چاہےسامنےکوئی بھی ہو۔مختصراًعرض کردیتاہوں کہ بانی وقائدالطاف حسین بھائی کی تحریر،تقریراور تصویرپرعائدغیرآئینی پابندی کی سیاسی مخالفین نےحمایت کی اوربانی اورقائدجیسےالقابات سےمتعلق ہرزہ سرائی بھی کی۔مگرصاحب،مکافاتِ عمل دیکھیں کہ ایک حضرت قائدبن کررائیونڈمیں سیاسی چلہ کاٹ رہےہیں اوردوسرےکانام نہیں لیاجاتا،صرف بانی کہاجاتاہے۔
4-تجارت:
تجارت کرنےوالوں اورجمہوریت بہترین انتقام ہےوالوں کامسٹنڈی روناتھاکہ ایم کیوایم بھتہ،ٹارگٹ کلنگ،بوری بندلاشیں، ہڑتالچائنہ کٹنگ کرتی ہے،ہم کاروبارکراچی سے پنجاب لےجائیں گےوغیرہ وغیرہ۔اوراب دیکھیں کہ آرمی چیف کراچی تشریف لاتےہیں تووہی تاجرجو100روپےکی فطرانہ کی رسیدکوبھتہ کانام دیتےتھےوہ آرمی چیف کوبتاتےہیں کہ پیپلزپارٹی کاکرپٹ سسٹم ہم سےاربوں روپےبھتہ لےرہا ہے،ہماری زمینوں پہ قبضہ کررہا ہے،ہماری جانیں ٹارگٹ پرہیں، ہم ہڑتال کریں گےاوراپناکاروبارملک سےباہرلےجائیں گے۔اس کےبعدبلاول بھٹوان تاجروں کوکھلی دھمکیاں دیتا ہے۔ایک تاجررہنماتواپنےخوفزدہ وڈیو بیان میں ایک طرف یہ بتاناچاہ رہاہےکہ بلاول مجھےمعاف کردواوردوسری طرف پنجابی زبان بول کر ابا، چچا اورمریم نوازکویہ پیغام دےرہاہےکہ میں تے پنجابی آں، تہاڈاگرائیں آں۔اب ان تاجروں کولگ پتہ جارہاہےکہ وڈیروں کی جماعتPPP کی بھتہ خوری، زمینوں پرقبضہ، بوری بندنوٹوں کی گڈیوں کےنذرانےدینےاورچغلی لگاکربھیPPPان کی جاں بخشی نہیں کرےگی۔ان تاجروں کو100روپے کی فطرہ کی رسیدسےبہت چڑتھی۔مگرمکافاتِ عمل دیکھیں کہPPP اور یہی تاجراب اسٹیج سےاوراسٹیج سےاترکرایکدوسرےکو دھمکیاں دےرہےہیں۔
5-منکریت:
قرآنِ پاک پروفاداری کاحلف اٹھاکرمکر جانے، شہداءکےمقدس لہوکاسودا، تحریک پرغیرآئینی قبضہ، وفاپرستوں کی مخبریاں کرنےوالے، بہادرآبادٹولےکے غدارانِ قوم کی منحوس پھٹکارزدہ شکلیں دیکھیں۔کسی کےگلےکی کھال لٹک رہی ہے، کسی کوایسی ایسی بیماریاں لگی ہیں کہ ڈاکٹرزبھی سمجھنےاورعلاج کرنےسےقاصر ہیں۔ یہ منکرینِ حلفِ قرآن جومہاجر نام اورMQMکودفن کرنےاورشہداءقبرستان پر تالا لگانےآئےتھے، آج راندۂ تاریخ ہوگئےہیں۔ان کےسرپرست ان سےعاجزآچکےہیں۔ان غدارانِ قوم نےاپنےگھروالوں اورناجائزدولت کوبیرونِ ملک منتقل کرناشروع کردیاہےاورآپس میں ایکدوسرےسےبات، ملنےاورشکلیں دیکھنےکےروادارنہیں۔یہ غدارانِ قوم ملک میں رہیں یابیرونِ ملک،نہ انکےسرپرست،نہ کوئی معافی اور نہ ہی ان کی دولت ان کےکام آئےگی
کہ اللّہ کااپنامکافاتِ عمل ہےاوروہ اپنے پاک کلام کےمنکرکومعاف نہیں فرماتااورقرآن کی ماربہت خوفناک ہوتی ہے۔
تحریر۔ ڈاکٹر ندیم احسان
پیکا ایکٹ بلاشبہ موجودہ حکومت کے سیاہ کارناموں میں ایک نئے باب کااضافہ ہےاور اس کالے قانون کےخلاف احتجاج کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
لیکن معذرت کے ساتھ
پاکستان بھر کےصحافیوں سے میرے چند سوالات ہیں کہ
جب ملک میں بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں اور مہاجروں کو ماورائے عدالت قتل کیاجارہا تھا
جب مظلوم قوموں کے نوجوانوں کوحقوق کے مطالبے پر جبری گمشدہ کیاجارہا تھا
جب مہاجروں کی نمائندہ جماعت @OfficialMqm میں تخریب کاری کی جارہی تھی
جب بانی وقائد @AltafHussain_90 کی تحریر وتقریر پر غیرجمہوری،غیرآئینی اور غیرقانونی پابندی عائد کی گئی تھی
جب ریاستی طاقت کے ذریعے ایم کیوایم کیلئےعدالتوں کے راستے مسدود کیے جارہے تھے
جب سیاسی وفلاحی سرگرمیوں سے روکنے کیلئے مہاجروں پرریاستی جبروستم ڈھایا جارہا تھا
جب مہاجروں کواپنے شہیدوں کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی تک نہیں کرنے دی جارہی تھی
جب ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو کو sealکرنے بعد آگ لگادی گئی اور پھر بلڈوز کردیا گیاتھا
جب مہاجروں کے اظہار رائے پر پابندی عائد کردی گئی تھی
اُس وقت
صحافی برادری کی اکثریت طالع آزماؤں کی قصیدہ خوانی کیوں کررہی تھی اور اس آمرانہ طرز عمل کے خلاف آپ کیوں خاموش رہے؟
کیا اظہار رائے کی آزادی کاحق صرف صحافی برادری کو ہے؟
کیا آپ اس گمان میں نہیں تھے کہ آمرانہ طرز عمل کی اس آگ سے آپ کے دامن محفوظ رہیں گے؟
قائد کے چاہنے والے
کورنگی والے ۔ کورنگی والے
یہ ہے 2023ء جولائی میں عوام وکارکنان کی جانب سےکورنگی میں نکالی جانے والی جس نے اسٹیبلشمنٹ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں
جئے الطاف حسین
سدا جئے
@AltafHussain_90
Conference in the House of Commons on Gross Human Rights Violations in Sindh & Balochistan
Presided by Rt Honorable Mr Bob Blackman MP
https://t.co/vIVTT79os1
#MohajirsRejectSlavery#LiftBanOnAltafHussain