امیر تحریک لبیک پاکستان علامہ حافظ سعد حسین رضوی کیس کی سماعت 15 اکتوبر کی بجائے 16 اکتوبر بروز جمعہ کو ہوگی۔
جتنا انتظار کروانا ہے کروا لو لیکن جب ہمارا وقت آئے گا دنیا دیکھے گی ۔
#TLP
@AliTallat1 عدالت انصاف دینے سے قاصر ہے،
قانون و آئین کی دھجیاں تو یہ نام نہاد آزاد نظام عدلیہ خود ایک سال سے اڑا رہے ہیں،
تاریخ پہ تاریخ مسلسل ایک سال سے التواء کا شکار کیس،
دوسری جانب جان و صحت کے حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔
رضوی برادران کو فلفور سامنے لایا جائے۔
عدلیہ انصاف دے۔
@MohUmair87 آرٹیکل 9 ۔"کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ قانون کے مطابق ہو۔"
دنیا بھر میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤ ں کی بلاجواز قید کو بنیادی حقوق کا استحصال مانا جاتا ہے
Release Saad Rizvi
سسٹم پہ بھاری رضوی برادران 🙌🤍
آج وی ساڈے بابا جی دی کیا بات کیا بات
قائد اپکا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمااراااا
سسٹم پہ بھاری سعد و انس بھائی
۔۔۔۔۔
یہ جبر و قہر نہیں یہ عشق و مستی ہے۔۔۔
میرے بابا جان کے شیر 🤍👑
@MohUmair87 6 بار ججز کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ایک سال ہو چُکا لیکن اس ملک پاکستان میں ایک شہری کو انصاف فراہم کیا کرنا تھا اس ملک کے شہری کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ۔
پہلے سماعت 15 اکتوبر تھی آج 16 اکتوبر کر دی گئی۔
Release Saad Rizvi Imminently ‼️
@MohUmair87 آرٹیکل 9 ۔"کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ قانون کے مطابق ہو۔"
دنیا بھر میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤ ں کی بلاجواز قید کو بنیادی حقوق کا استحصال مانا جاتا ہے
Release Saad Rizvi
سسٹم پہ بھاری رضوی برادران 🙌🤍
@MohUmair87 یہ ملک کے جو غاصب حکمران آخر چاہتے کیا ہیں ؟ ملک پاکستان کا امن خراب کر کے خود سیاسی دشمنیاں نبھا رہے ہیں علامہ سعد رضوی اور علامہ انس رضوی کو عدالت میں نا پیش کرنا انکے کیس کی سماعت نا کرنا انسانی حقوق سے کھلا مذاق ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں ہمارے قائدین کو سامنے لایا جائے
رضوی برادران کی غائب ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا، ایک سال میں عدالت سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، 16 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد ظفر دونوں بھائیوں کی گمشدگی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
@VOA_92 قانون کی بالادستی کا مطلب تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک ہے۔ امیر محترم علامہ سعد حسین رضوی اور آپکے برادر اصغر کی طویل قید جبری گمشدگی آئینی بالادستی کے منافی ہے۔
آئین پاکستان پہ عمل در آمد آخر کب ہوگا؟
ظالم قاتل آزاد پھر رہے ہیں، جبکہ اقصی کے سپوت جبری گمشدہ ہیں.ک
@AliTallat1 عدالت انصاف دینے سے قاصر ہے،
قانون و آئین کی دھجیاں تو یہ نام نہاد آزاد نظام عدلیہ خود ایک سال سے اڑا رہے ہیں،
تاریخ پہ تاریخ مسلسل ایک سال سے التواء کا شکار کیس،
دوسری جانب جان و صحت کے حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔
رضوی برادران کو فلفور سامنے لایا جائے۔
عدلیہ انصاف دے۔
@VOA_92 قانون کی بالادستی کا مطلب تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک ہے۔ امیر محترم علامہ سعد حسین رضوی اور آپکے برادر اصغر کی طویل قید جبری گمشدگی آئینی بالادستی کے منافی ہے۔
آئین پاکستان پہ عمل در آمد آخر کب ہوگا؟
ظالم قاتل آزاد پھر رہے ہیں، جبکہ اقصی کے سپوت جبری گمشدہ ہیں.ک
🚨 امیر محترم کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ایک دن کے لیے مزید ملتوی کردی گئی
جبری گمشدگی کیس کی سماعت اب کل کی بجائے، 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی‼️
دیمک کی زد میں ہے ارباب تر کی کرسی فقط قائم اور دائم ہے رب کی کرسی ہے صدر ہو وزیراعظم ہو یا ہو چیف جسٹس دیمک کی زد میں ہے سب کی کرسی
انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے درحقیقت ہے
ریاست کیسے اپنے شہریوں کو جبری لاپتا رکھ سکتی ہے یہ ریاست تو نہ ہوئی یہ کچے کے ڈاکو ہوئے
@ShakirAwan88 اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کو عدل دینا ہے۔365دن گزر جانے کے باوجود رضوی برادران کی جبری گمشدگی اور ایک سال سے التواء کا شکار کیس ، نظام عدلیہ پہ سوال اٹھاتے ہیں۔۔
یہ کیسا آزاد نظامِ عدلیہ ہے کہ پاکستان میں عدل کا کہیں نام و نشاں تک نہیں ہے۔
ادارے ہوش کے ناخن لیں۔
@muqadasawann ظلم و جبر قہر و ستم کا راج سرےعام پاکستان میں جاری و ساری ہے
1سال ہوگیا ہےمگر انصاف؟انصاف و عدل کا کہیں کوئی نام و نشاں تک نہیں۔
رضوی برادران آج تک جبری گمشدہ ہیں۔
یہ بےحسی یہ بےضمیری آخر کب ختم ہوگی؟
یہ بات اعلانیہ ہے
نظام عدلیہ انصاف فراہم کرے۔
سسٹم پہ بھاری رضوی برادران 👑🤍🙌