گیلانی خاندان تقسیم پاکستان سے پہلے ملکہ برطانیہ اور رائل برٹش آرمی کے وفادار تھے یہ انہی اجداد کے وارثین ہے جنہوں نے تحریک پاکستان کے رہنماؤں کو دھوکے سے انگریزوں کے حوالے کیا ملکہ کی طرف عطا کی گئی جاگیروں کے مالک بنے آج بھی طاقتور اداروں کے پالتو ہیں یہ خاندانی لٹیرے ہیں
لاڑکانہ! پیپلز پارٹی کا تاریخی گڑھ، بھٹو خاندان کا اصل قلعہ، جہاں سے ان کا تاجِ حکومت چلتا ہے۔ دہائیوں سے یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،
اب سن لیں تازہ کارنامہ: پانچ ہزار باتھ روم! ہاں، پانچ ہزار باتھ روم فلاحی ادارہ بناکر دے رہا ہے۔
ٹھنڈی سڑک حیدرآباد میں
ہمارے سندھ کے نوجوان بچے
سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف
دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں
ہمیں ان بچوں کو سپورٹ کرنا چاہیے
یہ بچے اپنا حق مانگنے نکلے ہیں
پیپلزپارٹی کی فاشسٹ حکومت سے
جس نے میرٹ کا قتل عام کردیا ہے
نوکریاں منظور نظر افراد کو دی جارہی ہی
نوکریاں فروخت کی جارہی ہیں
یہی وقت ہے پیپلزپارٹی کے ظلم کے خلاف آواز آٹھانے کا
تمام نوجوانوں کو چاہیئے ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں
بالخصوص حیدرآباد کے نوجوانوں کو اس احتجاج میں ضرور پہنچتا چاہیئے
سندھ کے نوجوان سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں سندھ پبلک سروس کمیشن جس نے بے رحمانہ اور سفاکانہ انداز میں میرٹ کا قتل کررہا ہے اس کے خلاف سندھ کے نوجوان آواز اٹھارہے ہیں ان نوجوانوں کا کھل کر ساتھ دیں یہ آواز ظلم کے خلاف ہے اقربا پروری کے خلاف ہے رشوت لے کر نوکریاں فروخت کرنے کے خلاف ہے ظالمانہ نظام کے خلاف سندھ کے نوجوانوں میں بیداری ہورہی ہے یہ بیداری کسی بڑی تحریک کا سبب بھی بن سکتی ہے
یہ مسلمان نوجوان جنتر منتر میں آئے طلبہ کو پانی پلاتا ہے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتا ہے پولیس نے اس کے گھر سے اس کے والد کو اٹھالیا ۔ اس کے بہن کے سُسر کو اٹھا کر لے گئے اور اب پولیس کہہ رہی ہے کہ اس بندے کو پیش کرو تو ان کو چھوڑیں گے ۔ حالانکہ اس کا کوئی جُرم بھی نہیں ہے ۔
پاکستان اور انڈیا فرق ہے لیکن پولیس ایک جیسی ہے ۔
ان غیر مقامی ڈاکوؤں کو فورا ان کے آبائی شہرو میں سزا کیلئے منتقل کیا جائے تاکہ کراچی کی جیلوں پر سے بوجھ کم ہوسکے اور پھر کبھی کراچی کا رخ نہ کرنے کی سزا دی جائے ۔کراچی پولیس کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں
@KarachiPolice_
سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ کرپشن، اور اقربہ پروری اور میرٹ کو نظر انداز کرنے پر سندھ کے نوجوانون نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر انکوائری کرائی جاے اور زمہ داران کو سزا دی جائے۔ یہ احتجاج ابھی جاری ہے کیونکہ ان نوجوانوں نے کل رات سے SPSC کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگا لیا ہے۔
Thank you #Channel5 for covering these students. They need to be heard.
اردو اسپیکنگ کمیونٹی کوسندھ کے طلبہ کی جانب سےپیغام:
"آپ کوشکایت ہے کہ وڈیرے سندھ کی نوکریاں آپ سےچھین کرہم سندھیوں کودےدیتے ہیں،لیکن درحقیقت آپ اور ہم دونوں اسFeudal System کاشکار ہیں،یہ نوکریاں وہ اپنوں میں ہی بانٹتے ہیں، جسکی خلاف ہم نے یہ احتجاج شروع کیاہے، ہمارے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہوجائیے"
کمال کی ترجیحات ہیں!
**"ایم کیو ایم کا ترانہ"** چلانے والا یا **"الطاف حسین سے محبت"** کا اظہار کرنے والا چند گھنٹوں میں قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے، رات کی تاریکی میں وال چاکنگ کرنے والوں کو بھی تلاش کر لیا جاتا ہے۔
لیکن کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام اسلحہ لے کر شہریوں کو لوٹنے والے، جن کی وارداتیں سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، وہ آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔
کراچی کے عوام پوچھتے ہیں: کیا ریاست کی پوری طاقت صرف سیاسی آوازوں کے لیے مخصوص ہے؟ اگر یہی رفتار جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی دکھائی جائے تو شاید شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
**کراچی کو سیاسی انتقام نہیں، قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی چاہیے۔**
**— اے پی ایم ایس او**
یہ پیغام ہمارے سندھ کے بیٹے، فرمان علی کی جانب سے PPP کے ان لوگوں کیلیے ہے جو تمسخر اڑا کر کہہ رہے ہیں کہ حیدرآباد میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف آج کوئی احتجاج ہوا ہی نہیں۔
فرمان علی نےSPSC کی جانب سے بےضابگیوں پر پہلی آواز اٹھائی، جو اب ایک قافلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے، یہ GenZ طلبہ صرف CCE-24 میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر انکوائری چاہتے ہیں۔ اور آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟
ہم لوگوں پر لازم ہے کہ ان نوجوانوں کا ساتھ دیں، اس سے پہلے کہ انکا اس سسٹم سے ہی اعتبار اٹھ جائے۔ 🙏🙏
#SayYestoMerit
کراچی میں کھلے مین ہول میں گرنے سے 7 سالہ بچے کی ہل اکت، اہل خانہ کا لا۔ ش کے ہمراہ احتجاج، میئر، ٹاؤن اور یوسی چیئرمین کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر کا مطالبہ۔۔ ترقی کے دعوؤں پر بھی سخت نالاں
#Karachi#ZarayeNews
بلدیا ٹاون مکی ایک ہی یوسی میں چوتھا بچہ گٹر میں گر کر جانبحق ہوگیا، لیکن گٹر کا ڈھکن نہ لگ سکا۔
کہتے ہوئے تکلیف ہورہی ہے لیکن جس دن اس شہر کے حکمرانوں کے بچے گٹر میں گریں گے جب ہی یہ ڈھکن لگیں گے۔
کل صبح دس بجے حیدرآباد میں بھی Genzs نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہونے والی بے ضابطگیوں اور کورٹ کا ان طلبہ کی شنوائی کے بغیر SPSC کے حق میں فیصلہ سنانے پر پرامن احتجاج کئ کال دی ہے۔ ہمارے صحافیوں سے گزارش ہے کہ جس طرح آپ بھارت میں Genzs کے احتجاج کئ منٹ منٹ پر اپڈیٹس دے رہے ہیں، اس احتجاج کئ بھی کوریج ضرور کریں، کیونکہ یہ بھی طلبہ کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
حکومت سندھ سے بھی گزارش ہے کہ ان طلبہ کی بات کو مودی سرکار کی طرح توجہ نہ دینے کے بجائے انکی بات سنیں۔
24 July
Time: 10:00am
Place: DaudPota Librar
رن آف کچھ تھرپارکر ضلع ننگرہار میں سندھ حکومت نے
2010 میں میٹھے پانی کا منصوبہ 46 کروڑ سے شروع کیا۔
2020 میں پائپ لائن ڈال کر مکمل کیا تو 6 کلو میٹر پائپ زنگ لگ کر تباہ!
دوبارہ 66 کروڑ کا نیا منصوبہ... اور 2026 آ گیا، اب بھی ایک قطرہ پانی نہیں پہنچا!
یہ ایک اور لوٹ مار ہے!
“سندھ ہائی کورٹ نے 30 جون 2026 کے آرڈر میں اندھ حکومت کو کہا تھا کہ اس دفعہ اگر سندھ پبلک سروس کمیشن کے چھوڑ دیا تومعاشرے میں انتشار پھیلے گا”
لیکن سندھ حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیاررکھی اور آج یہ نوجوان اپنا حق مانگنے SPSC کی بلڈنگ کے باہر کیمپ لگا کر پڑاؤ ڈال چکے ہیں۔سندھ حکومت سے گزارش ہے کہ ان نوجوانوں کی استدعا سنیں۔
آج 17 دن گزر چکے جب دو افراد اس پل سے ڈاٹسن سمیت پانی میں ڈوب کر مر گئے تھے۔ مگر سندھ حکومت کو لعنتیں بھی پڑیں تو انہوں نے بہتری کی کوشش بھی نہیں کرنی ہے۔
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
گلشن اقبال کے مکینوں سے اپیل ہے کہ اس مہم میں اپنا حصہ ڈالیں اور پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور بدمعاش حکومت کو یہ کرنے سے روکیں۔ ڈسکو بیکری والا روڈ کافی کشادہ ہے اس پر فلائ اوور کی قطعی کوئ ضرورت نہیں ہے۔ ہر فلائ اوور بنانے کے نتائج اچھے نہیں ہوتے، جیسے پیپلز پارٹی نے یونیورسٹی روڈ کا حال کیا ہے اس روڈ کا بھی یہی حال ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا مشن جہاں دل چاہو پیور بلاکس تھوپ دو جہاں دل چاہو فلائ اوور۔ ان کو صرف اور صرف اپنے نام کی تختی لگانی ہے پراجیکٹ پہ۔ اور پیپلز پارٹی کے پراجیکٹ کیسے ہوتے ہیں یہ پورا پاکستان جانتا ہے۔ ان کا مشن صرف کرپشن ہوتا ہے عوام کی خدمت کرنے کا ان سے کوئ تعلق ہی نہیں ہے۔
#Demand for the Immediate Release of EX MNA Nisar Ahmed Panhwar & Mohsin Panhwar: 212 Days of Illegal Detention. Seven Months of Unending Suffering.
For more than seven months, they have remained in undisclosed detention, completely isolated from their family. No one is allowed to meet them. No one knows their physical or mental condition, and they have no way of knowing how their loved ones are surviving this ordeal.
This prolonged detention has come at an enormous human cost. Nisar Ahmed Panhwar is a diabetic patient who became physically weak during his previous 88-day detention. Subjecting him to another extended period of confinement places his health and life at serious risk.
Despite having committed no crime, both father and son continue to be held in deep-state cells. The systematic removal of political figures and their family members to engineer political space ,public has made its stance clear, rejecting political manipulation and forced narratives. Political engineering cannot buy genuine public support, nor can it justify the violation of basic human rights. ITS TIME TO WORK FOR THE COUNTRY UNDERSTAND THIS BEFORE ITS TOO LATE.
If there is any credible allegation against them, present it before an independent court and allow the legal process to take its course. But if there is no evidence of wrongdoing, there is no justification for continuing to deprive them of their liberty
ENOUGH NOW
For the sake of justice, humanity, and the rule of law, release former MNA Nisar Ahmed Panhwar and his son Mohsin Panhwar immediately. Their family has already endured seven months of uncertainty and anguish. It is time to end this suffering and reunite them with their loved ones.
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#releasenisarandmohsinpanwar
#humanrights
#PakistanPolitics
#karachi
#foryouシ
#SpeakUp