ہم پمز کو رو رہے تھے یہاں سندھ کے ولیکا اسپتال میں استعمال شدہ سرنج لگانے سے سینکڑوں بچوں کو ایڈز ہوگیا ہے ۔ یہ بچے معمولی بیماریوں کے علاج کیلئے لائے گئے تھے مگر ڈاکٹر استعمال شدہ سرنج لگاتے رہے ۔ کئی بچے جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ آواز اٹھائیں اب خاموش نہ رہیں ۔ ہیش ٹیگ بھی استعمال کریں ۔ اب کسی معاملے پر خاموش رہنا خود پر ظلم ہے اس ملک کیساتھ ظلم ہے یہ سارے نااہل ہیں
#JusticeForValikaChilderns
ZANDVOORT. EPSTEIN. LAS ÉLITES.
Dos casos.
Dos épocas.
Dos continentes.
Y una pregunta incómoda:
¿Por qué tantos escándalos de abusos a menores terminan rozando círculos de poder, dinero e influencia?
Quizá el escándalo sea quién nunca fue investigado.
مذاق کے نام پر ان لڑکوں نے اس ڈیلیوری بوائے کی سائیکل توڑ دی، لیکن جب وہ موٹر سائیکل کے شوروم پہنچا تو وہاں اس کے لیے ایسا سرپرائز منتظر تھا جس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
یہ واقعہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے دکھ کو سمجھتے ہیں اور غیر متوقع انداز میں انسانیت اور مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
سائیکل پر دودھ فروخت کرنے والے کا بیٹا بنگلہ دیشی حافظ قرآن پر اللہ تعالیٰ نے چند گھنٹوں میں کروڑوں روپے کی برسات کردی سعودی عرب مکہ میں 46ویں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآن کریم مقابلے میں بنگلہ دیش کے قاری حافظ نورالدین زکریا نے 133ممالک میں سے پہلی پوزیشن حاصل کی جس پر اسکو سعودی حکومت نے ایک لاکھ ریال نقد انعام دے دیا جبکہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے دنیا بھر میں بنگلہ دیش کا نام روشن کرنے پر انعام دینے کا اعلان سویلین اعزاز اور سرکاری ٹی وی میں تلاوت کیلئے سرکاری نوکری بھی دینے کا اعلان کیا
کہا جارہا ہے کہ حافظ نورالدین زکریا کا والد دودھ فروخت کرکے اپنے گھر کا نظام چلاتا تھا اس مقابلے کیلئے آنے سے پہلے حافظ نورالدین زکریا کے والد نے اپنی گائے فروخت کیا تھا اپنے بیٹے کی ٹکٹ اور دیکر اخراجات کیلئے حافظ نورالدین کے والد کی نیت اتنی صاف تھی کہ اللہ نے اس کے بیٹے کو 133ممالک میں سے نمبر 1بنایا جس کے پاس ٹکٹ کیلئے پیسے نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے اس پر کروڑوں کی برسات کردی
مثبت اور منفی سوچ
میاں کمرے میں ہیں۔ سامنے بچے کھیل رہے ہیں اور خاتون گھر میں پوچا لگا رہی ہیں۔ اچانک کچن سے دودھ جلنے کی مہک آتی ہے۔ خاتون گھبرا کر کچن کی طرف دوڑتی ہیں۔
اسی لمحے مین گیٹ پر کوئی بیل بجاتا ہے۔ میاں گیٹ کی طرف جانے کے لیے جلدی سے اٹھتے ہیں اور فرش کے درمیان رکھی پانی کی بالٹی سے ٹھوکر کھا کر گرجاتے ہیں۔
یہاں سے دو طرح کے ردِعمل سامنے آ سکتے ہیں۔
🔷 مثبت ردِعمل:
خاتون فوراً آکر پوچھتی ہیں:
’’آپ کو چوٹ تو نہیں لگی؟ میں جلدی میں بالٹی راستے سے ہٹانا بھول گئی۔‘‘
میاں کہتے ہیں:
’’نہیں، آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے بھی دیکھ کر چلنا چاہیے تھا۔ میں نے جلدی میں دھیان نہیں دیا۔‘‘
بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ ماحول خوشگوار رہتا ہے اور بچے ایک خوبصورت سبق سیکھتے ہیں کہ غلطی ہو جائے تو اسے تسلیم کرنا چاہیے، تاکہ وہ دوبارہ نہ ہو۔
🔶 منفی ردِعمل:
میاں غصے سے چیخ کر کہتے ہیں:
’’یہ کوئی بالٹی رکھنے کی جگہ ہے؟ تمہیں کبھی عقل نہیں آئے گی؟‘‘
بیگم بھی جواباً چیخ کر کہتی ہیں:
’’یہاں کچن بھی دیکھوں، وہاں پوچا بھی لگاؤں، بچے بھی سنبھالوں، اور کیا کیا کروں؟‘‘
یوں ایک معمولی سی بات جھگڑے میں بدل جاتی ہے۔
دونوں صورتوں میں بچے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
ایک گھر میں وہ مسکرا کر یہ سیکھتے ہیں کہ غلطی مان لینا کوئی عیب نہیں۔
دوسرے گھر میں وہ سہم کر یہ سیکھتے ہیں کہ اگر غلطی ہو جائے تو ہماری شامت آ جائے گی؛ لہٰذا اپنے دفاع میں چاہے غلط یا درست، کوئی نہ کوئی موقف اختیار کر لو۔
ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات ہمارے گھروں اور روزمرہ زندگی میں روزانہ رونما ہوتے رہتے ہیں۔ فرق صرف ہمارے سوچنے اور ردِعمل دینے کے انداز کا ہوتا ہے۔
ہم چاہیں تو ایک معمولی واقعے کو محبت، برداشت اور سمجھ داری سے ختم کر سکتے ہیں، اور چاہیں تو اسی معمولی بات کو جھگڑے، تلخی اور ذہنی اذیت کا سبب بنا سکتے ہیں۔
ہمارا مثبت رویہ گھر میں خوشگوار ماحول، محبت، اطمینان اور امن و سکون پیدا کرتا ہے، جبکہ ہمارا منفی رویہ ماحول کو کشیدہ کر کے ہمارے اپنے ہی سکون کو غارت کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ اور اپنے رویے سے اپنے ماحول کو خوشگوار بھی بنا سکتے ہیں اور گھٹن زدہ بھی۔
اپنی غلطی کو مان لینا اور دوسروں کی غلطی سے درگزر کرنا، دونوں ہی خوبصورت اور مثبت رویے ہیں، بلکہ ایک مومن کی اعلیٰ صفات میں سے ہیں۔
آئیے، معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے محبت، برداشت اور درگزر کو اختیار کریں؛ کیونکہ ہمارے بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے، ہمارے رویوں سے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سیکھتے ہیں۔
🤲 یا اللہ! ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے، دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرنے، غصے پر قابو پانے اور محبت و برداشت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ایسا بنا دے کہ تجھے پسند آ جائیں۔ آمین۔
قطر اور ایران میں انڈین کی طرف سے جاسوسی کے واقعات سامنے آنے کے بعد پاکستان کی بات درست ثابت ھوئی اور اب سعودیہ والے بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان سچا ہے👇
ایک سعودی تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے عرب ممالک کو خبردار کیا تھا کہ بھارت اسرائیل کے لیے معلومات حاصل کرنے کی غرض سے خلیجی ممالک میں دراندازی کرے گا
اس کے بدلے میں، بھارت کو اسرائیل سے عسکری (فوجی) ٹیکنالوجی کی منتقلی حاصل ہونی تھی
देखें! मोबाइल की लत में बेटे ने सारी हदें पार कर दीं।
फोन चलाने से मना करने पर बेटे ने अपनी ही मां के साथ मारपीट कर दी।
घटना का वीडियो सोशल मीडिया पर वायरल है, जिसे देखकर लोग बेटे के व्यवहार की कड़ी निंदा कर रहे हैं!
> 19 year old demands an IPhone 15.
> Parents refuse
> Son runs to clifftop and threatens unalive
> Parents talk to him for 3 hours
> Dad grabs him
> Son pulls Dad into the abyss
> Mom self-deletes
These are biological weapons. Not people. Keep them out.
مریم نواز نے حبیب جالب کی بیٹی کا ڈھابہ بند کر دیا
مریم نواز کی تصویر لگاؤ ورنہ اپنا ڈھابہ یہاں سے اٹھائے اور گھر چلی جاؤ, دوبارہ یہاں کاروبار نہیں کرنا, اگر مریم نواز کی تصویر نہیں لگاؤ گی!!
پنجاب پر کس قسم کے لوگ مسلط کردئیے گئے ہیں!
کہاں حبیب جالب کی بیٹی اور کہاں مریم💔💔
رؤف کلاسرہ نے چار لوگوں کا نام بتایا جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آ جاتی ہے ویسے نہیں وہ چار لوگ، شاہد خاقان عباسی، فواد چوہدری، قمر زمان قاہرہ، اور خواجہ آصف ہیں
قمر زمان کائرہ اس بات پر طلملا اٹھا اور بولا میری کوئی ایک بات بتا دو
یہ وہ بدبخت شخص ہے حکومت کا اتحادی ہوتے ہوۓ اس نے D چوک میں بچوں کے سروں پر گولیاں لگنے کا دفاع کرتے ہوۓ کہا کہ بچوں کے ہاتھ میں غلیلیں تھیں اور غلیلیں ہتھیار ہوتا ہے اس لیے ان کے سروں پر گولیاں ماریں گئیں
اس درندے نے عمران خان کی فیملی سے ملاقات پر کہا اگر جیل سپریڈنٹ نہیں ملنے دیتا تو یہ اس کا اختیار ہے
قمر زمان قائرہ سیاستدانوں کا عبداللہ بن ابی ہے یہ انتہا کا منافق شخص ہے اور برداشت نام کی کوئی چیز اس میں نہیں ہے ہلکی سی تنقید پر گلے پڑنا شروع ہو جاتا ہے
"Forwarded as Received "
"السلام علیکم! محترم ہماری دو بچیاں. مورگاہ آخری سٹاپ سے گم ہوئی ہیں ۔ ایک کا نام عائشہ علی خان ہے دوسری کا نام ماہ نور ہے ۔ دونوں کی عمریں 8 سے 9 سال کے درمیان ہے ۔ عائشہ علی نے سفید ڈریس پہنا ہے ماہ نور نے کریمی کلر کے کپڑے پہنے ہیں ۔
دن 4:12 منٹ پر گھر سے نکلی تھیں ۔ ابھی تک لاپتہ ہے ۔ جس کسی کو بھی ملے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔ "
سی پی او صاحب راوپنڈی اور ایس پی صاحب پوٹھوہار سے مدد کی اپیل -
0334 5177804
03345035248
Please Share it.
Morgah Rawalpindi #MissingChild
#cporawalpindi #sppothohar
#highlightseveryone #RawalpindiPolice #karak #KPK
#missingchildren
#MissingChildrenPunjab
#MissingChildrenPakistan
#MissingChildAlert
#highlightseveryonefollowers
Morgah Police Station, Morgah rawalpindi
یہ ہری پور کی 5 سالہ آیت نور ہے ۔ جس کیساتھ متعدد افراد نے جنسی زیادتی کی ۔3 ملزمان پکڑے گئے ہیں لیکن آیت نور کا کچھ اتا پتا نہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر کھاد فیکٹری گراؤنڈ میں کئی روز سے تلاشی اور کھدائی کی جارہی ہے، لیکن وہاں سے بھی ابھی تک بچی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
آیت نور ہری پور میں تھانہ TIP کی حدود، پٹھان کالونی سے 9 اگست کو لاپتہ ہوئی۔ اہل خانہ کے مطابق وہ گھر سے باہر گلی میں کھیلنے گئی تھی اور پھر واپس نہیں آئی۔ والد محمد شفیق مٹھائی کی دکان پر کام کرتے ہیں۔
ٓمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس اصل مجرمان کو بچانے کی کوشش کررہی ہے لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ اگر ملزمان نے واقعی مکمل اور رضاکارانہ اعتراف کیا، تو ان کی نشاندہی کے باوجود آیت نور کیوں نہیں مل رہی؟
18 اگست تک صورتحال یہ تھی کہ آیت نور سمیت ہری پور کے مختلف علاقوں سے ایک ہفتے کے دوران تین بچے لاپتہ ہوئے اور پولیس کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچی ۔
موبائل فون کی لت کے باعث ایک پورا خاندان مٹ گیا...!
یہ واقعہ انڈیا، میں جمعہ کو پیش آیا، جہاں والدین اور بیٹے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق 18 سالہ نوجوان خودکشی کے ارادے سے پہاڑی پر گیا تھا۔ والد اسے چٹان کے کنارے سے بچانے کے لیے کھینچ رہے تھے، لیکن دونوں پہاڑی سے نیچے گر گئے۔ بیٹے اور شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر ماں نے بھی پہاڑی سے چھلانگ لگا دی، جس سے تینوں کی موت ہو گئی۔
میری بیٹی سورہ الاحقاف حفظ کر رہی تھی،اور پھر ایک دن میں متحیر رہ گیا جب اس نے مجھ سے پوچھا:"میرے بابا جان! آپ کی کیا عمر ہے۔۔؟؟؟
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:"یقینا آپ کے اس سوال کا کوئی پس منظر ہے"
اس نے کہا:میرے بابا! مجھے بتائیں کہ آپ کتنے سال کے ہیں۔۔؟؟؟
میں نے کہا:میری بیٹی میری عمر چوالیس سال ( 44 سال) ہے۔
اس نے کہا: "گویا آپ چار سال قبل چالیس سال کے ہو گئے تھے،تو کیا آپ نے چالیس سال کا ہونے کی دعا پڑھی تھی؟"
میں نے استفسار لیا: "کیا چالیس سال کی عمر کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے؟"
اس نے ایک استاد کی طرح کہا:سورہ الاحقاف میں اللہ تعالی فرما تے ہیں:
وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے ۔ (الاحقاف:15،16)
میری استاذہ نے مجھے بتایا کہ ان کے والد نے بیس برس قبل یہ دعا پڑھی تھی اور اب ان کی عمر ساٹھ سال ہے۔میری استاذہ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ جو بھی اپنے والدین سے محبت کرتا ہے اسے انہیں اس خوبصورت دعا کے بارے میں بتانا چاہئیے۔بابا!میں آپ کو اس لیے بتا رہی ہوں کیوں کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔
میں اپنی بیٹی کے ان زبردست الفاظ اور قیمتی نصیحت پر از حد شکرگزار ہوا۔
میں نے اس کے سر کا بوسہ لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے مجھے ایک ایسی بیٹی سے نوازا جو مجھے سکھا سکتی ہے۔
میری بیٹی بہت خوش تھی،وہ جلدی سے ایک کاغذ اور قلم لائی اور دعا تحریر کی۔
اس نے کہا:"اس کاغذ کو اپنے بٹوہ میں رکھ لیں،اس طرح آپ ہر روز یہ دعا پڑھ سکتے ہیں جب بھی آپ اپنے بٹوہ سے رقم نکالیں گے"
سبحان اللہ،کچھ دن بعد مجھ سے میری بیٹی نے دعا کے بارے میں پوچھا۔میں نے اسے بتایا :مجھے یہ دعا یاد ہو گئی ہے۔
کیا ہم نے اپنے چالیس سال سے بڑے والدین،چاچا،ماموں،خالہ،پھوپھو ،بھائیوں اور بہنوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا ہے اگر ہاں "بارک اللہ فیک" اور اگر نہیں تو بتانے میں جلدی کریں۔اللہ تعالی ہم سب کو حسن خاتمہ سے نوازیں۔آمین
دعا کے الفاظ صرف یہ ہیں:
رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ
اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
انتخاب #آفاق_سومرو
شہباز شریف کھڑے ہوکر پانی نکلاتے تھے وہ بہت خیال رکھتے تھے عوام کا، مجھے کھڑا نہیں ہونا پڑتا میں جب تک پانی نکلوا نہیں لیتی دو گھنٹے میں اس وقت تک نہیں چھوڑتی۔۔۔
سیلابی حالات کا مریم نواز کا زکر۔۔