"حضرت موسی اور سامری کا واقعہ"
ناظرین حاضرین غیر حاضرین 🤦♂️ آپ سب کے پاس
سامری کے بارے میں کچھ نا کچھ معلومات ہونگی چنانچہ کوشش کی ہے کہ ذرا سامری اور اس کے بجھڑے کے بارے میں کچھ تحقیق آپ سب کی خدمت میں پیش کی جائے۔
اللہ نے موسی علیہ السلام سے توریت کے نزول کا وعدہ کیا تو نزول کتاب میں تاخیر ہوئی اور موسی علیہ السلام نے بھائی ہارون علیہ السلام بو بنی اسرائیل کے درمیان چھوڑ ��یا اور خود میقات چلے گئے۔ موسی علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو ہدایت کی تھی کہ بنی اسرائیل کے مسائل کو دیکھیں اور ان کا انتظام و انصرام سنبھالیں اور خود کوہ طور چلے گئے۔
طے پایا تھا کہ موسی علیہ السلام 30 دن تک روزے رکھیں گے اور کوہ طور میں ہی رہیں گے لیکن عوام کی آزمائش کی غرص سے یہ وعدہ 40 دن تک بڑھ گیا اور جب کوہ طور میں اللہ کا ک��ام موسی علیہ السلام کو ملا اور دس مقدس فرامین تختوں پر تحریر کئے گئے، تو آپ نے واپسی کا فیصلہ کیا۔
ادھر موسی علیہ السلام کے وعدے میں تاخیر ہوئی اور تیس دن گذر گئے مگر آپ پلٹ کر نہیں آئے، تو بنی اسرائیل پر شیطان کا کامیاب حملہ ہوا اور وہ دھوکہ کھا گئے اور سامری نامی شہرت پسند، اقتدار پسند، اور جاہ پسند بنی اسرائیلی شخص نے سونے کا بچھڑا بنایا اور فریب سے اس سے کچھ آوازیں نکلوائیں اور لوگوں سے کہا: موسی علیہ السلام نے وعدہ خلافی کی ہے، موسی علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے اور ہماری تمام بدبختیوں کا واحد سبب یہ ہے کہ ہمارا کوئی "بت" نہیں ہے۔ اسی لئے میں نے سونے کا ایک بت ��نا رکھا ہے۔
نادان و احمق و سادہ لوح اور دھوکہ کھانے کے شوقین سامری کے گرد اکٹھے ہوئے، اس کی باتوں کا یقین کرلیا اور بت پرستی میں مصروف ہوئے۔ موسی علیہ السلام واپس پلٹ آئے تو فضا الہی نہیں تھی ہر سو سامری اور اس کے بنائے ہوئے بت کا چرچا تھا اور ہارون علیہ السلام کو جان کا خطرہ پڑ گیا تھا اور کوئی ان کی بات سننے کے لئے تیار نہ تھا؛ موسی علیہ السلام نے یہ دیکھا تو غضبناک ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت برا کیا کہ اس بھونڈے فعل میں مصروف ہوگئے۔ اور اس قدر غضبناک ہوئے کہ طور سے لائے ہوئے تختوں کو زمین پر پھینک دیا اور بھائی ہارون علیہ السلام کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا: تم نے لوگوں کو کیوں سامری کے بچھڑے کا دھوکہ کھانے دیا؟
ہارون علیہ السلام نے عرض کیا: بھائی جان مجھ پر ملامت نہ کرنا، اور دشمنوں کی زبانوں کو شماتت کے عنوان سے میری طرف دراز مت کرنا، ان لوگوں نے میری بات نہیں سنی مجھے کمزور دیکھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے مگر میں پھر بھی ان کے کرتوتوں سے متفق نہیں تھا۔
موسی ��لیہ السلام نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ خداوند متعال تمہیں بخش دے اور ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچا دے جنہوں نے اس بدعت کی بنیاد رکھی۔ موسی علیہ السلام سامری کے پاس پہنچے اور فرمایا: اے سامری! یہ کیا تھا جو تو نے کیا؟ کہنے لگا: جو کچھ لوگ نہیں سمجھ سکے، میں سمجھ چکا اور اللہ کے فرستادے جبرائیل کے نقش پا میں سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی اور اسے گوسالے کے جسم پر پھینک دیا اور میرے نفس نے اس ��رح میرے لئے فریب کاری کردی۔
موسی علیہ السلام نے فرمایا: تو تم چلے جاؤ تیری زندگی کا انجام یہ ہوگا کہ جو بھی تیرے قریب آئے، تو اس سے کہہ دے کہ مجھے چھونا مت اور تیرے لئے ایک وعدہ گاہ ہوگی ٹل نہیں سکے گی، اور اب تو اپنے معبود کو دیکھ لینا، جس سے تو مسلسل چھپکا رہتا تھا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے اور اس کی راکھ کو دریا برد کریں گے۔ (1
اور ہاں ! موسی علیہ السلام نے اس بچھڑے کو جلا کر راکھ کردیا اور سمندر میں بہایا اور ایک عذاب سامری کے اوپر نازل ہوا کہ آخر عمر تک جو بھی اسے ہاتھ لگاتا شدید بخار میں مبتلا ہوجاتا تھا۔
(اقتباس از سورہ اعراف و سورہ طہ آیات 1 و 95 - 98)
دعاوں کی درخواست
🙏🏻💐🙏🏻
اس شعر میں شاعر اپنی قسمت کی کہانی لکھتے ہوئے قلم توڑدیتا ہے اور کہتا ہے
"یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی "🔥
شاعر اس شعر میں اس مظلوم شوہر کا دکھ بیان کر رہا ہے ۔ جس نے ماضی میں اپنی ایک یونیورسٹی کلاس فیلو کو ، ایک لمحے کے لئے مسکرا کر دیکھنے کی خطا کی تھی ۔
اور اب وہ بیچارہ سالہا سال سے ، اس غلطی کی سزا بُھگت رہا ہے ۔ کبھی اس کی ڈانٹ سُن رہا ہوتا ہے ۔ کبھی اپنی مرضی سے خریدے ہوئے ٹینڈے واپس کر کے ، بھنڈی خرید کر لا رہا ہے ۔ کبھی باورچی خانے میں پڑا ہوا بیلن ، اپنی کتابوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش میں ہوتا ہے ۔ کبھی شام کو دفتر سے تھک ہار کر آنے کے بعد ، ماضی کی اس حسینہ نازنیناں کا دوپٹہ پیکو کروانے کیلئے نکل پڑتا ہے ۔
🏃♂️🏃♂️🏃♂️🙏🏻💐💐💐🙏🏻
اِنسانی آنکھ کی بے بسی کا یہ عالم تھا
کہ شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ جو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں درُودوں کے گجرے اور سلاموں کی ڈالیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رُوئے منوّر دیکھ کر اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے ڈھانپ لیا کرتے تھے، وہ خود فرماتے ہیں :
لما نظرتُ إلي أنواره صلي الله عليه وآله وسلم وضعتُ کفي علي عيني خوفاً من ذهاب بصري.
’’میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَنوار و تجلیات کا مُشاہدہ کیا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس لئے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میں بینائی سے ہی محروم نہ ہو جاؤں۔‘‘
(1) نبهاني، جوهر البحار، 2 : 450
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالِ حسن کو بڑے ہی دِلپذیر انداز میں بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
وَ أَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَ أَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمیل تر کو جنم ہی دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق بے عیب (ہر نقص سے پاک) ہے، (یوں دِکھائی دیتا ہے) جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ربّ نے آپ کی خواہش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت بنائی ہے۔)
وفا تقدیر کی معمار ہے
تقدیر تصویر کی مصور ہے
تصویر حسن کی تنویر ہے
تنویر توقیر کا جمال ہے
توقیر کا امین عشق اور توقیر
حسن کی میراث ہے
عشق فقیر کا مزہب اور حسن فقیر کی منزل ہے
فقیر دین کا راہبر اور دیدار محبوب کا علمبردار ہے۔
❤سیدنا کریم صلی اللہ علیہ وسلم ❤
گھروں میں بولے جانے والے وہ کفریہ کلمات جو ایمان کو خراب کر دیتے ہیں 👇
ان کلمات سے ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔
🚫1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔" اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے"
🚫2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔"پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا"۔
🚫3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
🚫4۔ یااللہ ! تجھے ��چّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
🚫5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
🚫6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
🚫7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
🚫8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
🚫9۔ کسی نے مذاق میں کہا:''بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
🚫10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
🚫11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
🚫12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
🚫13۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:''نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
🚫14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
🚫15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
🚫16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
🚫17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ' خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
خدارا ان سب سے بچیں اللہ پاک ایمان پر قائم رکھے آمین ثم آمین.
🙏🏻💐🙏🏻
پاکستان اور عالم اسلام کے موجودہ حالات میں
ہم لوگ جہاں اتنا ٹائم ان سوشل میڈیا کے دانشوروں اور نیوز چینلز کے اینکرز کی باتیں سننے میں صرف کرتے ہیں وہاں ایک حدیث مبارکہ کو بھی پڑھ لیں ان شاء اللہ ہمیں رہنمائی مل جائے گی ۔۔
یہ بات ہے اس ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کی جن کا کہا
پہاڑو�� سے مضبوط
سورج سے روشن
��سمانوں سے بلند اور
قرآن ہی کی مثل سچا اور کھرا ہے ۔۔
" نبی صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سب سے پہلے نبوت و رحمت ہوگی، پھر خلافت و رحمت ہو گی، پھر بادشاہت ورحمت ہو گی، اور پھر امارت و رحمت ہوگی اور اس کے بعد لوگ اس حکومت کو حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کو گدھے کی طرح کاٹیں گے. اس دور میں تم جہاد کو لازم پکڑنا، اور تمہارا افضل جہاد الرباط (یعنی سرحدوں کی حفاظت) ہے،
اور افضل رباط عسقلان شہر کا رباط ہے."
محدثین کے نزدیک حدیث صحیح کادرجہ رکھتی ہے تمام راوی ثقہ ہیں ۔..
عالم اسلام کے حالات بالکل واضح ہیں اب" رباط "کا وقت ہے
،نبوت ،امارت، خلافت گزر چکے
اج لوگ گدھوں کی طرح اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔۔۔
پاکستان کا جغرافیہ دیکھیں تو 904کلومیٹر ایران کے ساتھ حالت جنگ ۔
2640کلومیٹر پہلے بائیس سال نیٹو (قریباتمام عالم کفر ) فورسز کے ساتھ ہم حالت جنگ میں تھے آج وہاں ٹی ٹی ��ی کو پروان چڑھاتی افغان حکومت نے ہمیں حالت جنگ میں رکھا ہوا ہے ۔۔
3323کلومیٹڑ انڈیا کے ساتھ حالت جنگ
دنیا کے خطرناک ترین باڈرز میں اولین نمبروں پر۔ اور یہ دشمن بھی وہ جو قیام پاکستان کا ھی مخالف تھا اور بقائے پاکستان اس کو مسلسل رسوا کر رھی ھے اسی لیے یہ وطن عزیز پاکستان کو ھر جگہ ھر شعبے میں نقصان پہنچانے کی مسلسل کر رھا ھے ،کیونکہ بقول قائداعظم محمد علی جناح اس کے ھندتوا،کے ایجنڈے کو بڑھانے میں رکاوٹ صرف پاکستان ھے بلکہ مہا بھارت اور گریٹر اسرائیل یعنی گائے اور بچھڑے کے ملاپ میں اگر رکاوٹ ھے تو صرف وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان ھے اس لیے ھمیں اپنی افواج کے سات�� کھڑا،ھونا چاھیے ،پاکستان کی فوج ھی واحد فوج ھے جو سب سے زیادہ ممالک سے لڑی ھے
محض 600کے قریب کا علاقہ بچتا ہے جو چین کے ساتھ فی الحال پر امن ہے۔۔۔۔
کبھی گوگل میپ پہ ایران اور افغانستان کے ساتھ جڑے سنگلاخ پہاڑوں,کھائیوں نہایت دشوار گزار راستوں، انڈیا کے ساتھ جڑے گرم ریگستانوں ،ویرانوں سیاچن کے مائنس تیس ٹمپریچر کو دیکھنا
یہاں "رباط" کرنے والے جوان آج اس حدیث پر عمل پیرا ہیں ۔۔۔
آج اس قریبا سات ہزار کلومیٹر ایکٹو بارڈر (حالت جنگ ) والے ملک کو بچا پائے ہیں تو یہ رباط کرتے جوان ہیں ...
جب کہ شام ،عراق، لیبیا، یمن یہ کیوں تباہ ہوئے ؟؟
ان کے پاس تو ایسے گرم بارڈر بھی نہیں تھے ؟؟
وجہ ان کے عوام کو حقوق کی رٹ لگوا کر اپنی ہی ریاست کے خلاف کھڑا کیا گیا ان کو"حقوق اور آزادی" کے بظاہر دلفریب مگر خوفناک نعروں کے پیچھے لگایا گیا ۔۔
نتیجہ کیا نکلا ؟؟
ہولناک تباہی
کبھی ویکی پیڈیا پہ جاکے دیکھنا پھر کتنے ملکوں کی فوجیں ان پر مسلط ہوئیں ؟؟
کم از کم تیس تیس ملکوں کی فوجوں نے ان کو نوچا ذبح کیا ان کے وسائل ہر قبضہ کیا آج بھی وہاں سے یہ وحشی ہزاروں ٹن یومیہ تیل نکال رہے ہیں ۔۔
ان کی فوجوں کے مستقل اڈے وہاں موجود ہیں ۔۔
وجہ ؟؟
ان کے لوکل ایجنٹوں (سیاستدانوں/ میڈیا وغیرہ ) نے اپنی عوام کی اکثریت,حقوق جمہوریت کے نعروں کے پیچھے لگایا ۔۔۔اور "رباط" کو چھو ڑ دیا گیا یا اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنا ضروری تھا۔
ہمیں اپنے مسائل سمھجنے کے لئے کم از کم ڈیڑھ سو سال کی تاریخ
ضرور پتہ ہونی چاہیے ۔۔کیسے ہماری خلافت ہم سے چیھنی گئی ہمیں تعلیم اور ٹیکنالوجی سے دور رکھا گیا ۔۔سب سمجھ آ جاتا ہے ۔۔یہ بات ھر پاکستانی کو ھمیشہ یاد رکھنی چاھیے کہ
پاکستان اپنے حساس جغرافیے کی وجہ سے اپنے دفاع سے ہر گز غافل نہیں
جیسے دس بارہ افراد پر مشتمل گھر میں بھی فیصلے سوچ سمھج کر اور برداشت پر کئے جاتے ہیں.
بہت ساری باتوں کو نا چاہتے ہوئے بھی قبول کیاجاتا ہے بہت ساری خواہشات کی قربانی دی جاتی ہے
گھر کا ماحول متوازن رکھنے کے لئے اور اچھے دنوں کی آنے کی امید پر۔
ایسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی کس ملک سے کیسے تعلقات رکھنے ہیں یہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا معاملہ تھا جس کے ساتھ پچھلے ڈیڑھ سال ��یں بری طرح کھیلا گیا۔
ہم غلام نہیں تھے ہم ہی تو آزاد ہیں
ہم "رباط "پر ہیں ۔۔
ھمیں بانی پاکستان جس پاکستان کو مستحکم مکمل اسلام کی تجربہ گاہ ،مدینہ ثانی بنانا چاھتے تھے وھی بنانا چاھیے کیونکہ پاکستان مشیت الہی ھے
ہمیں مسلسل حالت جنگ میں رکھا گیا وگرنہ آج یہاں بھی اسلامی نظام کہ جس وعدے پر یہ ملک ہم نے حاصل کیا تھا۔ وہ پورا ہوچکا ہوتا۔
میرئے ہم وطنوں کو ان پیڈ اینکرز کو سننے سے پہلے ان کے سوالوں کے جواب قرآن و احادیث سے دینا ہیں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
۔وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰی. مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی. وَمَا یَنْطِ��ُ عَنِ الْهَوٰی. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی.
(النجم، 53: 1 تا 4)
’’قسم ہے روشن ستارے (محمد ﷺ) کی جب وہ (چشم زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے۔ تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول ﷺ جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے۔ اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔‘‘
۔
حضورنبی اکرم ﷺ کی معراج کے بیان کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کو سورج، چاند، ستاروں کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ معراج النبی ﷺ سے ان اشیاء کی کوئی مناسبت اور جوڑ نہیں بنتا۔ لہذا یہاں ’’النجم‘‘ سے مراد وہ ستارہ نہیں جو آسمان پر چمکتا ہے بلکہ اس سے مراد ذاتِ مصطفی ﷺ ہے۔
۔
امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
۔
النجم ھو محمد ﷺ.
(تفسیر المظهری، 9: 103)
۔
’’ستارے سے مراد سیدنا محمد مصطفی ﷺ ہیں۔‘‘
سورج ستارہ ہے جبکہ چاند (قمر) سیارہ ہے۔ سیارے کی اپنی روشنی نہیں ہوتی، وہ چمکتا ہوا نظر ضرور آتا ہے مگر اس کے اپنے اندر نورنہیں ہوتا۔ چاند اور زمین ایک سیارہ ہیں، جس طرح ہم اہل زمین کو چاند چمکتا ہوا نظر آتا ہے، اسی طرح اگر ہم چاند پر چلے جائیں تو ہمیں زمین چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ گویا نور چاند اور زمین کا اپنا نہیں ہے بلکہ نور سورج کا ہے، اسکی روشنی جب نظام شمسی کے سیاروں پر پڑتی ہے تو وہ روشن ہوجاتے ہیں جبکہ دوسری طرف ستاروں کی اپنی روشنی اور حرارت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر مختلف گیسیں اور مادہ رکھا ہے جن کے جلنے سے نور اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔
۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو کسی بھی جگہ چاند (قمر) نہیں کہا۔اس لیے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دنیا میں کسی کے نور سے نہیں چمکتے بلکہ آپ ﷺ کو اللہ کا عطا کردہ نور حاصل ہے۔ باقی ہر نبی اور ولی چاند اور سیاروں کی مثل ہیں اور وہ نورِ مصطفی ﷺ کی روشنی سے منور ہیں۔ آپ ﷺ تو ایسا سورج ہیں کہ خود تو چمکتے ہی ہیں مگر جس پر توجہ فرمادیں، اسے بھی چمکا دیتے ہیں۔۔۔ جس پر اپنے فیض کی کرنیں ڈال دیں، اسے بھی نور کردیتے ہیں۔۔۔ خود تو نور ہیں مگر جدھر توجہ کردیں، اسے بھی نور کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو سورج اور ستارے سے تشبیہ دی مگر کسی بھی جگہ چاند سے تشبیہ نہیں دی۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے سفر معراج کو بیان کرنے سے قبل آپ ﷺ کو ’’النجم‘‘ فرمایا۔
سیدنا کریم
صَــلَّــی اللّٰـهُ تَـعَالٰـی عَـلَـیْـہِ وَاٰلِــہ وَسَــــلَّم۔ ❤💐❤
#islamicrepublicofpakistan
#hajj2023
#islamicpost
دس وارث شاہ اسیں کی کر ئیے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل
اساں ماں پیو دے لاڈاں پلے
تے گئے مٹی وِچ رُل
دس وارث شاہ اسیں کی کرئیے
ساڈے سینے وچ کِل
لوکاں دے دِلاں اُتے زخم
تے ساڈا زخماں دے وچ دل
دس وارث شاہ اسیں کی کر��یے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل
ساڈے منہ تے ھاسے اینج سج دے
جیویں قبراں اُتے پُھل
دس وارث شاہ اسیں کی کرئیے
ساڈا کوئی نہ پاوے مُل!
💐🙏🏻💐
"عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ہیں"
حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ھوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے۔۔؛*
"گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا۔۔۔؟
کس کس کو کوڑے لگے۔۔۔؟"
ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھتے تھے۔
سلیمان بن عبدالملک کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے۔
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہہ کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،
"تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟؟
ھر رات کتنا ورد کرتے ہو؟؟؟
رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟؟"
اس بات کی تصدیق ہوئی کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ہیں۔۔۔
(الناس علی دین ملوکھم)
اگرحکمران کرپشن، اقربا پروری، ظلم، عدل وانصاف کا خون، ،جہالت اور دین کی قدروں کو پامال کریں گے تو رعایا بھی گمراہ ہو گی۔
اپنے مرکز سے اگر دور ن��ل جاؤ گے
خاک ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دھہل جاؤ گے
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا نہ دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو تو جل جاؤ گے
تم ہو اک زندہِ جاوید حقیقت کا چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو جو ڈھل جاؤ گے
صبحِ صادق مجھے مطلوب ہے کہاں سے مانگوں
تم تو بجھے ہو ئے ��راغوں سے بھی بہل جاؤ گے!
"روحانی معلومات"
سب سے مقبول ترین وظیفہ استغفار ھے
درود شریف روحانیت بڑھاتا ھے
بہ روایت حضرت علیؓ کہ غم کا علاج اذان ھے
بسم اللہ پڑھ لی جاۓ تو شرمگاہ اور شیاطین کے درمیان پردہ بن جاتا ھے
ایک انار کھانے سے دل چالیس دن تک منور رہتا ھے
باوضو رہنے سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوتا ھے
ہر جمعے کو صدقہ دینے سے والدین عذاب قبر سے محفوظ رہتے ہیں
چالیس دن دنیا سے بےرغبتی کرامات کو ایجاد کرتی ھے
جس گھر میں محمد نام کا بچہ ہو گا اس گھر میں ہمیشہ خیر و برکت رہے گی
کھانے کے بعد ب��تن کو انگلیوں سے صاف کرنے سے رزق بڑھتا ھے
جو قبلے کی طرف منہ کر کے تھوکے گا قیامت کےدن وہ تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان ملا ہو گا
دسترخوان پر سے گرے ٹکڑے اٹھا کر کھانے والا کبھی جنون اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہ ہو گا
جمعہ کے دن ناخن کاٹنے سے بیماریوں سے شفاء ملتی ھے
جو شخص نوح علیہ السلام پر تین بار درود و سلام بھیجے اسکو سانپ بچھو نہی کاٹتا
جنت میں ایک نہر ھے جس کا نام کوثر ھے
زیتون کی مالش بدن پر کرنے سے شیطان چالیس دن تک دور بھاگتا ھے
ہر مہینے کے پہلے تین دن شہد چاٹنا بڑی تکالیف سے محفوظ رکھتا ھے
جو شخص نہار منہ سات عدد عجوہ مدینہ شہر کی کھاۓ گا اس پر کبھی جادو اثر نہی کرے گا
جو چیز یقین کامل کے ساتھ اللہ کے سپرد کی جاۓ وہ کبھی چوری نہی ہوتی
جو دن میں گنہ نہی کرتا اسے رات کو مصلے پر کھڑے ہونے کی توفیق ملتی ھے
جو دن میں گنہ کرے گا وہ رات کو تہجد نہی پڑھ سکتا شرطیہ بات ھے
پاؤں سن ہو جاۓ تو درود پڑھنے سے فورا سن ختم ہو جاتی ھے
کھڑے ہو کر شلوار پہننا انسان کو سنگدل بناتا ھے
عاشورہ کے روز کھانا کھلانے سے سال بھر کا رزق اللہ پاک مفت دیتے ہیں
بھولی ہوئی چیز کو یاد کرنے کے لیۓ درود شریف پڑھیں یاد آ جاۓ گی
جو عافیت کی دعا مانگے گا وہ ہمیشہ پرسکون رہے گا
قضاۓ حاجت کے وقت فلش میں تھوکنے سے ذہن کمزور ہوتا ھے
بہ روایت مولا علیؓ کہ نرگس کا پھول سونگھنے سے برص جنون اور جذام سے محفوظ رہا جاتا ھے
وبا کے دنوں میں درود شریف پڑھنے والا وبا سے محفوظ رہتا ھے شرطیہ بات ھے
سانپ دانتوں سے ڈستا ھے اور انسان آنکھوں سے اس لیئے ہمیشہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں
جو عورتوں پر بدنظری کرتا ھے علم کا نور اس سے چھین لیا جاتا ھے یعنی وہ بے عمل رہتا ھے
حجاب کرنے والی خواتین کبھی کینسر میں مبتلا نہی ہوتی
بے پردہ عورت اور تنگ و باریک لباس پہننے والی عورت کی اولاد بھی بے حیا ہی نکلتی ھے
جس کو حضرت خضر کی کنیت یاد ہو گی وہ ایمان کی حالت میں مرے گا
عاشور کے دن اثمد سرمہ لگانے سے آنکھیں سارا سال نہی دکھتی
دو خواتین کے درمیان چلنے یا بیٹھنے سے طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوتا ھے
قبروں پر لگے کتبے پڑھنے سے ذہن کمزور ہوتا ھے
تیز خوشبو لگانے والی عورت ڈبل گنہ کی مستحق ہوتی ھے کیونکہ اس نے مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سامان پیدا کیا
سنت نبوی نبوی کے طریقے پر سونے والا کبھی ہارٹ اٹیک کا شکار نہی ہو گا شرطیہ بات ھے
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے انسان جلدی مقروض ہو جاتا ھے
دروازے اور دہلیز کی چوکھٹ میں جو بیٹھے گا وہ ایک ہفتے کے اندر اندر مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ھے
واش روم میں وضو نہی کرنا چاہیۓ
جس گھر میں لیموں یا سفید مرغ ہو گا اس گھر میں جادو جنات نہی رہتے
رات کے وقت جنت کی ایک ساعت آتی ھے جس میں ہر دعا قبول ہوتی ھے
مسواک کرنے والے کو موت کے وقت کلمہ نصیب ہوتا ھے
جو شخص ہر ہچکی پر کلمہ طیبہ پڑھے گا اللہ اسے موت کی ہچکی پر کلمہ نصیب کرے گا
جو شخص قرآن یاد کرنا چاہے وہ پہلے سورت یوسف یاد کرے باقی قرآن جلدی یاد ہو جاۓگا نہایت آسانی سے
دعا مومن کا ہتھیار ھے اور ہر وظیفے سے زیادہ مؤثر ھے
رات کو کسی وقت اٹھنا چاہیں اور آنکھ نہ کھلتی ہو تو تین مرتبہ اپنا خود کا نام پکار کر کہیں مجھے فلاں وقت بیدار کر دینا
آپ کا ہمزاد ٹھیک وقت پر آپ کو جگا دے گا
بے خوف و خطر ھے آزمائش شرط ھے
میرا خود کا آزمودہ ھے
سانپ کو مارنے سے پہلے تین بار اسے گھر سے نکل جانے کو کہا جاۓ پھر بھی نہ جاۓ تب اسے مار دینا چاہیۓ
منہ سے ناخن کاٹنے والا برص کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ھے
جس کا دل سخت ہو وہ مساکین کے سر پر ہاتھ پھیرا کرے اور یتیموں کو کھانا کھلاۓ
چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور لٹورا ان جانداروں کو کوکبھی نہ ماریں
جو شخص مسجد کی صفائی کرے گا اسکی شادی جلدی ہو گی اور بیوی اچھی ملے گی
صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ھ��
اللہ کے راستے میں ایک روپیہ خرچ کرو گے تو اللہ دس روپے واپس دیتا ھے شرطیہ بات ھے
آب ذم ذم کو جس نیت سے پیا جاۓ وہ نیت لازمی پوری ہوتی ھے
ایمان کا نور اللہ کے راستے میں ملتا ھے
ایک پتھر پہ بنا دی گئی صورت میری.!!
اس سے بڑھ گرنے لگی شہر میں قیمت میری۔!!
آج گھبرا کر میں پھر گھر سے نکل آیا ہوں.!!
آج پھر راس نا آئی مجھے قربت میری.!!
وقت کے ساتھ بدلنا تو بہت آسان تھا.!!
مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری.!!
رات کی گرد میرے رخ پہ جمی ہے یارو.!!
دھوپ نکلے تو ذرا دیکھنا رنگت میری"..!!