بیکن ہاؤس والوں نے تیس سال قبل ورلڈ بینک سے فنانسنگ کا ایک معاہدہ بھی کیا تھا نئے کیمپس بنانےکیلئے۔یہ ورلڈبینک اپنی تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔جو قصوری صاحب کے اک عزیز، جو ورلڈ بینک میں ملازم بھی تھے، نے کروایا تھا۔
اس فائنانسنگ کے ہیسے بمع سود واپس بھی کئے تھے
تو وہ سود اور قرضہ کیسے واپس کیا؟ ظاہر ہے والدین کی جیب سے۔
تو جناب من اتنی موٹی کمائی کرنے والے ادارے کو ٹیکس معاف کرنا غریب تاجروں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے ۔
یہ سب شہباز شریف کے چہئتے راشد لنگڑیال کے کارنامے ہیں جو ملکی معیشت پر اک لعنت کی طرح چمٹا ہوا ہے ۔
بیکن ہاؤس کس طرح کہتے ہیں کہ انکو کوئی منافع نہیں ہوتا اور انکا ٹیکس معاف کیا جاے جبکہ مجھے تو اسکے کچی پکی کلاس کا تجربہ ہے جہاں پر یہ ایک بچے کا 35000 روپیہ لیتے ہیں اس کے علاوہ جو اب نیا سیشن شروع ہو گا اس کی بچوں کی کتابیں صرف کتابیں 25 سے تیس ہزار کی مل رہی ہئں اور یہ صرف کچی پکی جسکو یہ نرسری KG وغیرہ بولتے ہیں اسکا بتا رہا ہوں
اور اگر ان کے تمام کیمپس جو پورے پاکستان میں ہہں ان کی آمدن اور انکی یونیورسٹی کی آمدن دیکھیں تو وہ کروڑوں روپیہ منافع ہو گا اوپر سے انکا ٹیکس بھی معاف کر دیں گے
ایک غریب جو گلی میں مانگ کر روٹی کھاتا ہے اسکو ٹیکس کی کوئی معافی نہیں ہے وہ جو بھی خریدے گا اسکو پورا ٹیکس دینا ہو گا اور اسکی آمدن صفر ہے زیرو
یہ کیسا نظام ہے اور یہ کیسا انصاف ہے ؟
بڑے بھائی! آپ وہی ہیں نا جو دوسروں کی بیٹیوں پر کیچڑ اُچھالتے رہے، پھر جب آپ کی اپنی بیٹی کی تصویر وائرل ہوئی تو روتےروتے معافیاں مانگتے پھر رہے تھے؟
آپ وہی ہیں نا جو اپنی بیٹی کی CV ہاتھ میں لیکر پی ٹی وی میں در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے اور جب کسی نے گھاس نہیں ڈالی تو اپنے مالکوں پر ہی کیچڑ اُچھالنا شروع کردی؟
آپ bipolar نہیں، آپ بےشرم اور غیرت سے عاری انسان ہیں۔
دستیاب شواہد کی روشنی میں شفا ہسپتال میں ہی چیک اپ ہوا کیونکہ نہ صرف رپورٹیں شفا کی ہیں بلکہ پریس کانفرنس میں ایک دو مرتبہ شفا کا ذکر بھی ہوا۔
صبح ناک کٹوائی سے بچاؤ کےلیے پمز کا تڑکا لگا لیکن خاں صاحب کےاپنے لواحقین نے بھی وہی جھوٹ پکڑ کر لگتا ہے سیاسی فائدہ اٹھانا شروع کردیاہے۔
عاصمہ صاحبہ، قبائلی علاقوں میں بدامنی کی اصل لہر 2003ء کے بعد شروع ہوئی جب امریکی بمباری سے بھاگ کر عرب، چیچن، ایغور اور طاہر یولداشیف کے ازبک جنگجو وزیرستان پہنچے۔ ان غیر ملکی عسکریت پسندوں کو وزیرستان لانے اور پناہ دینے کا حکم راولپنڈی سے نہیں آیا تھا، بلکہ یہ کام 24 سالہ نیک محمد وزیر اور کچھ مقامی عناصر نے عالمی دہشت گردوں کے ڈالرز کی ہوس میں کیا۔ مٹی کے سادہ گھروں کے کرائے لاکھوں روپے میں وصول کیے گئے اور ان غیر ملکیوں سے مقامی لڑکیوں کی شادیاں کروا کر پشتون ولی کی آڑ میں ریاستی کارروائیوں سے تحفظ دیا گیا۔ 1988ء میں فوت ہونے والے جرنیلوں نے ان عناصر کو یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ان ازبکوں کو داماد بنائیں، خودکش بمباروں کی تربیت گاہیں بنائیں، بچوں کے ذہن زہر آلود کریں اور اپنے ہی ملک کی مساجد، بازاروں اور سیکیورٹی فورسز پر خونریز حملے کروائیں۔ اپریل 2004ء میں پاک فوج نے شکئی معاہدہ کر کے غیر ملکیوں کو نکالنے کا کہا، تو نیک محمد نے ان کے سرمائے اور اسلحے کے زور پر خود کو بے تاج بادشاہ بنانے کے لیے معاہدہ توڑ دیا۔
جہاں تک دہشت گرد پالنے کے طعنے کا تعلق ہے، تو یہ جنگ پاکستان نے نہیں بلکہ افغان ریاست نے شروع کی تھی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد افغانستان نے اقوامِ متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دیا، فقیر ایپی کے نام نہاد پختونستان کو رقم و اسلحہ دیا اور 1950ء و 1960ء میں سرحدی حملے کیے۔ داؤد خان نے پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کے دعوے کیے، مری، مینگل اور بزنجو کے لشکروں کو پناہ دی اور پختون زلمی قائم کروائی۔ اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک جیسے عناصر کی سرپرستی کی گئی جن کی دہشت گردی سے گورنر حیات شیرپاؤ شہید اور عبدالصمد اچکزئی شہید ہوئے۔ اندرا گاندھی کے ساتھ مل کر پاکستان کو دو طرفہ گھیرنے کی سازشیں ہوئیں اور کمیونسٹ حکمرانوں (ترکئی، کارمل، نجیب) نے روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان فتح کرنے کے نعرے لگائے۔
پاکستان نے اگر افغان مجاہدین کی مدد کی تو وہ دفاعی ضرورت تھی۔ امریکن نواز کرزئی اور اشرف غنی نے روس نوازوں سے زیادہ پاکستان دشمن کی انہوں نے بھارت کو قونصلیٹ قائم کرنے دیے جہاں سے TTP اور خودکش بمباروں کی فنڈنگ کی گئی۔ اشرف غنی کی سیاسی لیبارٹری سے نکلنے والی PTM نے ہمیشہ اپنے ملک کے خلاف نعرے لگائے لیکن کبھی نیک محمد، بیت اللہ، یا نور ولی جیسے قاتلوں، بچوں کو خودکش بمبار بنانے والے سینٹرز اور روزمرہ کے خونریز حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا۔
اس پروپگنڈے کے برعکس سچ یہ ہے کہ پاک فوج نے ان علاقوں میں خون بہا کر امن بحال کیا، خودکش بمبار ٹریننگ سینٹرز کا خاتمہ کیا اور بے گھر ہونے والوں کو عزت سے دوبارہ بسایا۔ فوجی انجینئرز، اور حکومت نے مل کر وزیرستان میں اربوں روپے کے تاریخی ترقیاتی کام کیے۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم اور کرم تنگی ڈیم جیسے واٹر پروجیکٹس بنائے، 100 بستروں کا شولام ہسپتال قائم کیا، ڈوئل کیریج ویز اور سیکڑوں کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں، کیڈٹ کالج وانا، کیڈٹ کالج سپنکئی اور اے پی ایس اسکولز قائم کیے اور وانا ایگریکلچر پارک، چلغوزہ پروسیسنگ پلانٹ و جدید بازار تعمیر کر کے معاشی انقلاب لایا۔ PTM ان عظیم ترقیاتی کاموں کا ذکر کبھی نہیں کرتی۔
سچ بولنا کسی قوم سے بغض نہیں بلکہ تاریخی حقائق ہے
پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں
ہوسٹل میں ایک طالبعلم پریشان پھر رہا تھا
دوست نے پوچھا کیا بات ہے؟
گھر سے کتابوں کیلئے پیسے منگوائے تھے
دوست تو کیا نہیں آئے؟
نہیں انہوں نے کتابیں بھیج دی ہیں
کل سے یوتھیے بھی کچھ ایسے ہی پریشان ہیں
خاں صاب نے شفاء ہسپتال داخل ہونا تھا
تو کیا نہیں ہوئے؟
نہیں وہ صحتمند نکل آئے
ویلڈن ابصار عالم صاحب آپ جیسا بہادر انسان ہونا چاہیے
صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ سارا سندھ ، پختونخواہ اور بلوچستان کی عوام ابصار عالم کے اس ایک منٹ کے کلپ کی قیمت ادا نہیں کرسکتی۔۔۔۔❤️✌️🇵🇰
بس پنجابی یوتھی اور جیالے سے میں اتنا ہی کہوں گا ڈوب مرو بیشرمو
@AbsarAlamHaider