دبئی امیگریشن کے کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، پاسپورٹ سکرین پر رکھا اور 'ٹھک' سے راستہ کھل گیا۔ بس ایک پل لگا اور امیگریشن مکمل! ایمریٹس ائرلائن کے خودکار سسٹم کا حال بھی یہی تھا، اسے آنکھیں دکھائیں، سامان اندر گیا اور بورڈنگ کارڈ ہاتھ میں آگیا۔ ٹیکنالوجی کی اس تیزی کو دیکھ کر دل خوش تو تھا، مگر اس بار پاکستان پہنچنے کی بے چینی کچھ اور ہی تھی۔ ذہن میں وہ تصویر تھی جو آج کل دنیا دیکھ رہی ہے کہ میرا وطن امن کا پیامبر بن کر ابھرا ہے، اور جب دنیا پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہو تو ایک شہری کے طور پر سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔
مگر جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، حقیقت کا رنگ ذرا مختلف نکلا۔ ہم سے پہلے سعودی ایئرلائن کے مسافر اترے تھے اور امیگریشن پر ایک عجیب سا "میلا" لگا ہوا تھا۔ ایک سیدھی قطار کے بجائے تین تین قطاروں کا جھمگھٹا تھا، جو ایک غریب ملک کے ایئرپورٹ کی سست روی اور بدانتظامی کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ گھنٹوں گزر گئے، اور ستم ظریفی دیکھیں کہ موبائل میں پانچ ہزار کا بیلنس ہونے کے باوجود جیز نے کال یا واٹس ایپ کرنے سے معذرت کر لی۔ دل ان بچوں کا سوچ کر کڑھ رہا تھا جو ایئرپورٹ کے باہر گلدستے پکڑے اپنے ابو کے انتظار میں کھڑے کھڑے تھک چکے ہوں گے۔
اس سارے منظر کو جب کیمرے میں محفوظ کرنا چاہا تو ایک ستون پر لگے اشتہار نے ٹوک دیا کہ تصویر کھینچنا منع ہے۔ موبائل دوبارہ جیب میں ڈال لیا، مگر الجھن وہی تھی کہ اس ہجوم میں باہر اطلاع کیسے دی جائے؟ وہیں ایک پیپر پر لکھا ملا کہ وائی فائی کے لیے کاؤنٹر سے رابطہ کریں، مگر ڈھونڈنے پر نہ کاؤنٹر ملا اور نہ وائی فائی۔
سچ تو یہ ہے کہ جب دنیا ہمیں اتنے اچھے انداز میں دیکھ رہی ہے اور ہمارے ایئرپورٹس پر رونقیں بڑھ رہی ہیں، تو کیا یہ وقت نہیں ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر اپنی انتظامیہ کو فعال کریں اور استقبالیہ سہولیات کو بہتر بنائیں؟ ساتھ ساتھ پورٹس پر بھی ہنگامی بنیادوں پر استقبالیہ،مہمان نوازی اور سہولیات توجہ دیں۔ہم ایک عظیم قوم ہیں، اور اگر ہم ان بنیادی چیزوں کو درست کر لیں تو پاکستان عالمی سطح پر اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد عثمان خان
چئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ مینیجمنٹ سائنسز (IHMS)اسلام آباد۔دبئی
انہوں نے جلدی سے اسے پکڑا اور پرچی کھولی تو ان کے ہوش اڑ گئے۔
اس میں لکھا تھا: ”یا رب العالمین! آپ کی بھیجی ہوئی رقم تو مل گئی ہے، لیکن آئندہ یہ رقم پولیس والوں کے ہاتھ مت بھیجنا، حرام خور اس میں سے آدھی رقم کھا گئے ہیں۔۔
😁😁😁
ایک غریب آدمی روزانہ ایک کاغذ پر لکھتا: ”اے میرے پروردگار! مجھے پچاس ہزار روپے بھیج دے۔“ پھر وہ اس پرچی کو ایک غبارے میں ڈال کر آسمان کی طرف اڑا دیتا تھا۔
وہ غبارہ اڑتا ہوا پولیس اسٹیشن کے اوپر سے گزرتا۔ پولیس والے روزانہ اس غبارے کو پکڑتے، پرچی پڑھتے
اور اس غریب، بھولے آدمی کی معصومیت پر ہنستے۔ ایک روز پولیس والوں نے پرچی پڑھ کر سوچا کہ کیوں نہ اس غریب آدمی کی مدد کی جائے۔ چنانچہ سب پولیس والوں نے مل کر چندہ کیا اور پچیس ہزار روپے جمع کر کے اس غریب آدمی کے گھر دے آئے۔
اگلے روز پولیس والوں نے پھر ایک غبارہ اڑتا ہوا دیکھا۔
ایک چھوٹا کالم
لوٹ اور کھسوٹ ، پہلے ستیاناس پھر سوا ستیاناس :
یہ DHA والے بھی کتنے معصوم ہیں، یا سب کو معصوم (الو کا پٹھا ) سمجھتے ہیں - مل جل کر کیسے لوٹتے ہیں اور پھر بڑے پردھان بھی بنتے ہیں - لاہور میں DHA -13 کا اعلان کیا ، ہزاروں لوگوں سے کوئی 50 - 60 ارب روپے ہتھیا لئے ، 2009 میں یہ کام شروع کیا 2020 تک صرف خط (فائلیں) ہی بانٹتے رہے ، پھر کچھ افسر ریٹائر ہو گئے، کچھ الله کو پیارے ہو گئے اور ہزاروں لوگ ابھی تک اپنے پانچ اور 10 مرلے کے پلاٹس کا انتظار کر رہے ہیں - وہ اربوں بھی گئے اور لوٹنے والے بھی -
اب نئے بھائی لوگ افسر بن گئے ہیں اور بجائے اسکے کے وہ لوٹا ہوا مال ڈھونڈیں ، حکومت پنجاب سے کہ رہے ہیں آپ ہمیں اربوں دے دو ہم لوگوں کو پلاٹس دے دیں گے - کتنے سال گزر گئے اور DHA کا نام بھی ڈبو دیا - اخبار ڈان نے 2016 میں ایک خبربھی چھاپ دی تھی https://t.co/cJLhU3Gcqc ، مگر فوجی چیف کے بھائی کو کون ہاتھ ڈالتا -
مزہ یہ ہے پنجاب کی رانی کو اب ایک اور موقع مل گیا ہے ، کیونکہ فوجی بھائی مانگ رہے ہیں تو پیسے تو دینا ہی پڑینگے مگر رانی کا اپنا حصّہ بھی نکل آئے گا - چوری بھی اور سینہ زوری بھی اور موجاں ہی موجاں -
ایک خط کی نقل حاضر ہے - نتیجہ کچھ نہیں کیونکہ سب مال اپنا ہی تو ہے یا اپنے ابو کا ہے -