جب آپ کو سٹریس ہو، جب آپ کی طبیعت پر ایک جمود طاری ہو، تب آپ شیخ الشریم حفظہ اللہ کو سنیں آپ کو تدریجاً سکون آتا جائے گا اور تلاوت کی حلاوت سے جمود ٹوٹے گا اور آپ سینے کو ہلکا ہوتا محسوس کریں گے۔
میرے پسندیدہ ترین قراء کرام میں شیخ الشریم پہلے نمبر پر ہیں
آپ کے پسندیدہ قاری قرآن کون ہیں ؟
@BazKbwtr48326@Imransaeed1974 کبوتر کی لمبی اُڑان کا فائدہ کبوترباز اپنے نام کرتا ہے، لیکن بےچارا کبوتر اس بات سے بےخبر ۔
مگر وہ نہیں جانتا
بےچارا کبوتر —
زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ
فوری انصاف
ڈی جی خان
تین ماہ کے اندر اندر کیس کا فیصلہ کر کے مجرم کو 10 سال قید اور ستر ہزار جرمانہ انصاف کا بول بالا
اپنے کیس کامدعی جج صاحب کے کیس کا مجرم قرار پایا
زیر نظر تصویر میں سفید باریش بزرگ تھانے میں اس لیے قید ہوئے ہیں کہ یہ اپنی پانچ مرلہ وراثتی زمین کے کیس بھگتتے بھگتتے چند دن قبل عدالت میں انصاف کی آس میں بار بار پیشیاں اور تاریخ پر تاریخ ملنے پر معزز ��ج صاحب کی شان میں گستاخی کر بیٹھے۔ جج صاحب کو کہا کہ :
" اگر انصاف نہیں دے سکتے تو مجھے پھانسی تو دیں، کہ میرے پاس اب وکیل اور انکے منشی کو دینے کے لیے پیسے تک نہیں ہیں۔ میں غریب آدمی ہوں، اب میں اپنے بچوں کی روزی کماؤں یا عدالت میں سالوں تک پیشیاں بھگتوں۔ ایک تو میرا حق نہیں مل رہا اوپر سے خرچہ بھی میرا ہو رہا ہے ... "
بس یہی کچھ کہنے پر پانچ جماعت پڑھے ستر سالہ بزرگ کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ جج صاحب کی شان میں گستاخی کرنا ان کی باقی زندگی جیل کی کالی کوٹھڑی میں قید کروا سکتی ہے۔ جس کو خود عدالت میں پیش ہوتے ہوتے کئی سالوں سے انصاف نہ مل سکا ہو۔ ان کو اب جج صاحب کی شان میں چند الفاظ کی گستاخی کرنے پر تین ماہ کے اندر اندر تمام کارروائی مکمل کر کے دو روز قبل دس سال قید اور ستر ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا کر ڈسٹرکٹ جیل ڈی جی خان بھیج دیا گیا ...
عزیز دوستو ان بزرگ کی تین بیٹیاں اور ��ہلیہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ سول سوسائٹی اور اس میں شامل عوام کے حق کی بات کرنے والے اور علمبرداری کے دعوے دار وکلاء نے نہ اس غریب کی مدد کی، نہ کسی جج صاحب نے اس معزز و محترم جج صاحب کو کہا کہ :
" کوئی نہیں انسان ہے غلطی ہو جاتی ہے معافی دے دیں۔ بزرگ آدمی ہے، جذباتی ہو گئے ... "
اب دس سال بعد ڈی جی خان کے جیل سے رہا ہوں گے اور اس دوران اس بزرگ کے گھر پر اسکی اہلیہ اور بیٹیوں کا خیال اور خوراک کون دے گا۔ اس کا کسی نے نہیں سوچا اور جس پانچ مرلہ مکان کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ عدم حاضری کی وجہ سے پیشیوں پر پیش نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہار جائیگے ...
سابقہ چیف جسٹس آف پاکست��ن آصف سعید کھوسہ کا تعلق ڈی جی خان سے ہے اور اسی عدالت سے ہے، جہاں سے جسٹس صاحب کے والد صاحب نے بھی وکالت کی ...
کاش! اس بزرگ کی آواز چیف جسٹس تک پہنچ جاتی تو شاید ان کی زندگی کے دس سال بچ جاتے، یا کاش کوئی باضمیر وکیل اللہ کی رضا کے لیے اس بزرگ کا کیس لڑتا، کاش ایسا ہو پاتا۔ لیکن پاکستان میں قانون اندھا ہے اور خاص کر غریبوں کے لیے بہرہ بھی ہے ...
عزیز قارئیں کرام! گالیوں کے بجائے آپ لوگ اس پوسٹ کو شیئر کریں تو کچھ مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں اس پوسٹ کے، ورنہ ہزاروں پاکستانیوں کی طرح یہ بےقصور بابا جی بھی جیسے تیسے "اپنے جرم" کی سزا پا کر ایک دن رہا ہو ہی جائیں گے (اگر دکھ بھری زندگی نے ساتھ نبھایا تو!)
دو نہیں ایک پاکستان