Due to my activism in the fight against enforced disappearances and rights abuses in Balochistan, I am continuously being targeted and am at risk. The State of Pakistan, caretaker Prime Minister Anwaar Ul Haq Kakar, and government spokesman Jan Achakzai should be held accountable for any harm to me, my family, and loved ones.
The state should know that my peaceful struggle to expose human rights violations in Balochistan will continue, despite threats, intimidation, malicious campaigns, and harassment from the state.
@amnestysasia, @hrw, @freedomhouse, @FrontLineHRD, @ProtectHRD_EU, @EUPakistan, @RKionka, @HRCP87, @UNinPak
#MarchAgaisntBalochGenocide
جنرل ایوب خان بھی زبردستی بنگالیوں سے جان چھڑانا چاہتا تھا اور اسکا خواب جنرل یحییٰ خان نے پورا کیا اب موجودہ اہل اختیار بلوچوں کو زبردستی اسلام آباد سے نکال رہے ہیں اللّٰہ وہ وقت نہ لائے کہ اسلام آباد بلوچوں کو بلائے اور وہ ادھر آنے سے انکار کر دیں آج جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اسکے بعد مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ اس ملک کا نادان دوست ہے جو دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے
The behaviour of security forces in-front of cameras at Islamabad is this, after thousand of media & cameras availability Baloch people r being subjected worst torture & abuse.
@HamidMirPAK Imagine what would be happening in Balochistan off cameras!
#MarchAgainstBalochGenocide
مجھے آج آٹو رکشہ پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا جب میں آٹو میں بیٹھا تو دیکھا کہ ڈرائیور کی گود میں ایک چھوٹی سی بچی ہے تو میں سمجھا کہ شاید بچی نے آج ضد کی ہو گی کہ ابو میں بھی ساتھ جاؤں گی یا پھر اسے چلنے سے پہلے اتار دے گا مگر جب رکشہ چلا تو دیکھا کہ وہ بچی ریس دے رہی ہے اور اس کا ابو دوسری طرف سے سٹیرنگ پکڑ کر اسے کچھ بتا رہا ہے راستے میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور سنتا رہا جب منزل پر پہنچے تو اسے کرایہ دینے کے بعد پوچھا تو اس پر رکشہ ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ میں اک بازو سے معذور ہوں اس لیے ہم دونوں مل کر رکشہ چلاتے ہیں مجھے یہ گوارا نہیں کہ میری بیٹی کسی کے گھر میں صفائی کرے اور میں بھکاری بنوں بچی کو تعلیم بھی دلوا رہا ہوں اور گھر کا نظام بھی چل رہا ہے اور خدا کی ذات کا شکر ادا کرتا ہوں خوش باش زندگی بسر کر رہا ہوں ۔سلام ہے ایسے شخص کو.
Copy
محمد صدیق کا تعلق بلوچستان ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ سے ہے میڈیکل کے شعبہ میں نرسنگ میل کا کورس کر رہا ہے کراچی میں اب سیمسٹر فیس نہ ہونےکی وجہ سے کافی پریشان ہے انتہائی غریب ہے لیڈران سے گزارش ہے کہ ان کو سکالرشپ دیا جائے تاکہ اپنا تعلیم مکمل کرسکے
@PakSarfrazbugti@BugtiGohram
@BSAC_org is going to organise a Twitter Campaign on unavailability of University in Balochistan's Naseerabad division with the hashtag
#NaseerabadNeedsUniversity
People from all walk of life are requested to join the campaign
#NaseerabadNeedsUniversity
اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا
فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.
انگریزوں نے 1870 میں جب بلوچستان پر حملہ کیا تو فقیر کالا خان نے تسبیح چھوڑ کر بندوق اُٹھائی۔ پھر مزاحمت کی تاریخ رقم کر ڈالی۔ موجودہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان کی
ڈاکٹر مدثر اور ڈاکٹر فاطمہ چھٹیاں گزارنے پاکستان آے اور پورا خاندان حادثے کا شکار ہو گیا صاحبو زندگی بہت بے ترتیب چیز ہے اس سے بہت زیادہ امیدیں مت باندھیں نہ اسکو متشدد معاشرتی مذہبی سیاسی نظریوں میں الجھا کر ضائع کریں
زندگی کا ہر لمحہ جی لیں انسان انسانیت اور محبت
سیدھا سادہ
In Dera Bugti Sub Tehsil Pirkoh District Dera Bugti Tehsil Pirkoh is equivalent to not having PTCL net, the institution that collects crores of rupees per month works by fraud and deception. Code 0835441 and 0835430
@PTAofficialpk@MoitOfficial
Get quality entertainment content for your kids this Ramzan with PTCL's exciting Ramzan offer! Get a free e-junior subscription with your Smart TV package. Dial 1218 for more details.
#PTCL#RamzanOffer#Ejunior
In Dera Bugti Tehsil Peerkoh District Dera Bugti Tehsil Pirkoh is equivalent to not having PTCL net, the institution that collects crores of rupees per month works by fraud and deception. Code 0835441 and 0835441
@PTCLOfficial
سوراب کے ایک گاوں میں یہ لائبریری @nnoorrbaloch نے اپنے مدد آپ کے تحت بنایا ہے جس میں کتابوں کی اشد ضرورت ہے آپ تمام علم دوستوں سے گزارش ہے کہ اس نوجوان کے ساتھ دیں تاکہ سوراب میں یہ بچے علم کے روشنی سے محروم نہ ہو۔
نور بلوچ سے رابطہ کریں اور کتابیں عطیہ کریں 03333376438
غازی یونیورسٹی انتظامیہ کا بلوچ تعصبانہ رویہ ملاحظہ کریں۔
ڈاکٹر واصف جو کہ اس ایونٹ کے آرگنائزر ہیں وہ تمام طلباء و طالبات کو ہدایت میں بتارہے ہیں کہ " یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بلوچی کلچرل ڈریسز کو چھوڑ کر باقی کلچر جس میں پشتو، پنجابی، کشمیری ، سرائیکی میں انا ہے۔