مزاحمت کا ایک بڑا پہاڑ دنیا سے رخصت ہو گیا۔
تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے سرخیل، ہندوستانی فورسز کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ہزاروں نوجوانوں کی تحریکی تربیت کرنے والے کمانڈر فاروق جامِ شہادت نوش کر گئے۔
یاد رہے کہ کمانڈر فاروق صاحب راولاکوٹ میں دو روز قبل پاکستانی فورسز کی گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے اور آج دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔ 💔💔
یہ وہی کمانڈر فاروق ہیں جنہوں نے، پاکستان آرمی کی ناکامی کے بعد جب بھارتی فوج آزاد کشمیر کے اندر داخل ہو چکی تھی، تو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ محاذ سنبھالا اور اپنی تاریخی مزاحمت کے ذریعے بھارتی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
#AJKRightsMovement
#RightsMovementAJK
بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کا بڑا تہلکہ خیز انکشاف۔ Exclusive سٹوری بریک کرڈالی۔ بلاول کا اسٹبلیشمنٹ کے خلاف بیان، پنڈی سے آئی ایک کال پر لیٹ گئے، دو گھنٹے بھی اپنے موقف پر کھڑے نہ ہوسکے 🔥🔥
بلاول زرداری نے تقریر میں کہا کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا ریاست کے مفادات کیلئے ن لیگ کیلئے نہیں۔آپ نے اس کو مقبوضہ کشمیر بنادیا۔ تقریر بلاول ذرا بھاری کر گئے۔ بلاول سیاست کی آئس کریم ہیں، جیسے آسکریم پگھل جاتی ہے، اپنی ہیت، شکل برقرار نہیں رکھ سکتی، بلاول کا بھی کچھ ویسا ہی حال ہوا ہے۔ اس بیان کے بعد بلاول سے کوئی ملنے آیا۔ یہ Exclusive خبر ہم آپ کو بالکل پوری طرح سے تحقیق کرنے کے بعد دے رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کی طرح سے انکو کوئی ملنے آیا۔ یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں ایک برگیڈئیر صاحب ملنے آئے، انہوں نے فون پر بات کسی اور سے کروائی جو ان سے ایک درجہ اوپر شخصیت ہیں، میجر جنرل فیصل نصیر صاحب سے۔ انہوں نے بلاول صاحب کی اچھی خاصی درگت بنائی ٹیلی فون کے اوپر۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ آواز کافی اونچی تھی اور سیدھی کھلی بے عزتی کی گئی، کہ آپ کو شرم نہیں آئی آپ نے یہ کیا باتیں کی ہیں ساری۔ آپ بھول گئے ابھی گلگت بلتستان میں آپ کو حکومت دی ہے۔ How Much You and Your Dad Wants۔ صدارت آپ کو دی، دو گورنر شپ آپ کو دیں، ڈپٹی سپیکر آپ کا بنوایا۔ انہوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ سب کچھ آپ کو دیا ہوا ہے، آپ کو شرم نہیں آرہی آپ نے کس قسم کی تقریر ہمارے بارے میں کی ہے۔ اور پھر ساتھ ہی بلاول آئس کریم پگھل گئی۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے، آپ بلاول صاحب کو اسٹروبری آئس کریم سمجھتے ہیں یا آپ انہیں چاکلیٹ سمجھتے ہیں، یا آپ انہیں ونیلا یا بیچ میں کوئی اور فلیور مکس سمجھتے ہیں، بہرحال جو بھی ہو وہ آئس کریم ہیں، تو پھگل گئی فوراً ہی۔ بلاول نے کہا کہ نہیں نہیں میرا مقصد یہ نہیں تھا، میرا تو یہ تھا، میرا تو یہ تھا، وہی جو وہ کچی پکی بچارے اردو بولتے ہیں۔ پھر جنرل نے کہا مجھے نہیں پتہ، ابھی اور اسی وقت اسے ختم کریں اور Statements جاری کریں اور پھر فون بند کردیا۔ جو برگیڈئیر صاحب ساتھ بیٹھے تھے اُن سے بلاول صاحب نے پوچھا اب کیا کریں؟ اب یہ بھی فوجیوں کا طریقہ ہوتا ہے، ایک ذرا جو بھی ریٹائرڈ فوجی افسران ہے وہ آپ کو بتائیں گے پاؤں بھاری رکھیے گا، دوسرا کہے گا سر وہ آپ سے زیادہ کچھ غصہ کر گئے، صاحب غصے میں تھے لیکن میں آپ کی پوزیشن سمجھتا ہوں تو ایک آپ کے ساتھ مل جاتا ہے، تو بریگیڈیئر صاحب نے کہا کہ آپ انٹرویو دے دیں ٹیلی ویژن پر۔ پھر دو عدد انٹرویو Arrange کروائے گئے۔ پھر بلاول نے وسیم بادامی کے پروگرام میں کہا میں نے ریاست کہا تھا، میں نے اسٹبلیشمنٹ تو نہیں کہا تھا۔ یہ حالت ہے انکی۔ یہ Statements دے کے دو گھنٹے اپنی Statement پر نہیں رہے سکتے اور انہوں نے لیڈر بننا ہے اور کل کو وزیراعظم بننا ہے۔ دیکھ لیا آپ نے کیسے بری طرح سے انکو ملٹری جنرل استعمال کرتے ہیں۔
کمانڈر فاروق کو شہید کیا گیا💔
یہ وہی کمانڈر فاروق ہے, جس نے اسوقت انڈین فوج کو چاروں شانے چت کیا جب پاکستانی فوج مکمل طور پر فیل ہوچکی تھی!!
اپنے ہی محسنوں کو مارا جارہا ہے!!
محسن نقوی نے کہا ہے کہ یہ سسٹم برباد ( collapse ) ہوچکا ہے
قومُ یہ فقرہ پہلی دفعہ نہیں سن رہی ۔ جنرل ایوب نے اکتوبر 1958, جنرلُ یحییٰ نے مارچ 1968جنرل ضیاء نے جولائی 1977 اور جنرل مشرف نے اکتوبر 1999 میں قوم سے یہی کہا کہ یہ سسٹم برباد collapse ہوچکا اورپھر ہر ایک نے اس ملک کی عمارت کو گرانے میں اپنا حصہ ڈالا اور آج اسکی چھت گر چکی ہے اور یہ قوم ننگے آسمان تلے پڑی ہے
عاصم منیر مجبوری میں مارشل لا یعنی فوجی وردی میں صدر کے طور پر آ رہا ہے۔ محسن نقوی کا دھیما سا اعلان۔
ضد نہیں اے مجبوری اے۔ کیونکہ نظام فیل ہوگیا۔ واہ واہ کیا کہنے۔
دنیا مکافات عمل ہے!
"بریگیڈیئر راشد نصیر کو کتا کہنا، کتے کی توہین ہے۔
بریگیڈیئر فائق کو کتا کہنا، کتے کی توہین ہے۔
کالی کتی کتھوں آئی، آئی ایس آئی، آئی ایس آئی"
یہ نعرے آج لندن میں گونج رہے ہیں!
آئی ایس پی آر کے ڈرامے اور انفارمیشن آپریشن فیل ہوچکے ہیں۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں اب ایسے نعرے لگ رہے ہیں
The Pakistani military regime's billion-rupee propaganda has backfired. The public sees the truth and is speaking out.
اسد علی طور 🔥🔥
نون لیک کے منسٹر انتہائی بے شرمی سے تمام کشمیری احتجاج کرنے والوں کو بھارتی ایجنٹ کہہ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اتنے بے شرم ہیں عوام انکو جوتے مارتی ہے ووٹ تو انکو ملتے نہیں اسلیے فارم 47 کے چکر میں ایسے بیان دیکر اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہنا چاہتے ہیں تاکہ انکو اقتدار مل جائے۔
بلاول بھٹو کے منافقانہ بیان کی الگ کہانی ہے پہلے کہتا ہے یہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد کے نام پر نمرود لیگ کا مفاد دیکھا جا رہا ہے۔ دوپہر کو ٹیپو سلطان بنا اور رات کو وسیم بادامی کے شو میں سوری کر گیا کہ وہ میں اسٹی کو تو نہیں کہہ رہا تھا۔
ان دونوں پارٹ کو اقتدار عوام کے لیے نہیں بس فنڈز ملیں گے عیاشیا ہونگی اسلیے چاہیے
ایرانی پروفیسر کا بڑا بیان!!
یہ پاکستان یا مصر نہیں, یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے, ہم آمریکہ کو شکست دینگے, پوری دنیا دیکھے گی!
یہ بیان پوری دنیا میں وائرل ہے, پروفیسر نے بیان میں پاکستان کا نام لیں کر عمران خان حکومت کی طرف اشارہ کیا ہے جب امریکہ نے جرنیلوں کے ساتھ مل عمران خان کی حکومت گرائی, ایران میں امریکہ ایسا کچھ نہیں کرنے کے قابل نہیں!!
اللہ اپنے قہار و جبار ہونے کا ثبوت اپنے چنیدہ بندوں کو آزمانے کے بعد دیتا ہے۔
اللہ تعالٰی نے عمران خان کو آزمایا ہے۔ وہ الحمدللہ سرخرو ٹھہرا۔ اس نے فرعونیت کے سامنے اللہ کی ولیوں جیسا صبر اور فاتحین جیسی استقامت دکھائی ہے۔
اب آپ فرعونوں پر اللہ کا قہر نازل ہوتے دیکھنا۔ ان کو نیست و نابود ہوتے دیکھنا۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس پر گولی چلانے والا پاکستان کا محافظ نہیں، بلکہ پاکستان کا غدار ہے۔ تم نے پاکستان کی شہ رگ پر گولیاں برسا کر خون کی ندیاں بہا دی ہیں۔ یہ صرف کشمیر پر نہیں، بلکہ پاکستان پر بھی ظلم ہے۔
خود کو محافظ کہنا بند کرو!
بس کرو! ظلم بند کرو!
اسد طور 🔥🔥🔥
میرپور میں قتل ہو رہے ہیں اور لاشیں گر رہی ہیں مریم نواز اور وفاقی حکومت جشن منا رہی ہے آتش بازی ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اتنے بے حس ہیں انکو عوام سے انکی عزت انکی زندگی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اور ایک ایسے الیکشن کا جشن منا رہے ہیں جسکی عوام میں کوئی حیثیت و اوقات نہیں۔ تمام پولنگ اسٹیشن خالی پڑے تھے کوئی ووٹر نکلا ہی نہیں اور الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ 40 فیصد ووٹ پڑ گئے جبکہ اکٹھے 40 ووٹر کسی نے نہیں دیکھے۔ ہمارا میڈیا انڈین میڈیا کو گودی مڈیا کہتا ہے جبکہ اسکی اپنی اوقات بھی ویسی ہے۔ لوگ شہید ہو رہے ہیں کوئی کوریج نہیں ۔ الیکشن بوتھ خالی پڑے تھے اور یہ رپورٹ کر رہے تھے خی لوگوں کی بڑی تعداد کھڑی یے۔ سب جھوٹ
منیب فاروق کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، وہ ہمیں بتا رہا ہے کہ عمران خان کا سیاسی مستقبل ختم ہو گیا ہے،
تو پھر اس کے بعد آئینی عدالت کی کیا ہی حیثیت پیچھے رہ گئی؟
ہمیں لگتا تھا اس ملک میں ایک جج ایسا ہے جسے اپنی ساکھ کی پرواہ ہے،
تو وہ جج قاضی فائز عیسیٰ تھا، مگر جب وہ چیف جسٹس بنا تو اس نے خود اپنی ساکھ پر تھوک دیا،
اور اس نے نہیں دیکھا کہ گٹر کی کالک ہے یا پالش کی،
اس نے سپریم کورٹ کے لائیو سیشنز میں قوم کے سامنے وہ کالک یوں کھا کر دیکھائی جیسے والز کی آئیس کریم کھاتے ہیں،
یہ آمین الدین خان کی تو کوئی ساکھ ہی نہیں ہے، اسد علی طور