@wahreh1 دجال مصلح نہیں بلکہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود کو مصلح یا نجات دہندہ کے طور پر پیش کرے گا تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکے
@AmirHQureshi@iamowaisnoorani اگر گاڑی پر پنکھا لگائیں گے، تو ہوا کی یہ رکاوٹ (Drag) مزید بڑھ جائے گی۔ انجن کو اس رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ طاقت لگانی پڑے گی، جس کا نتیجہ مزید ڈیزل یا پٹرول کے ضیاع کی صورت میں نکلے گا۔ یعنی جتنی بجلی بنے گی نہیں، اس سے کہیں زیادہ کا ایندھن ضائع ہو جائے گا۔
@AmirHQureshi@iamowaisnoorani ،آپ کی سوچ اپنی جگہ دلچسپ ہے، لیکن فزکس کے اصول اس کے برعکس کام کرتے ہیں۔
ونڈ ٹربائن اس لیے بجلی بناتی ہے کیونکہ اسے چلانے والی قدرتی ہوا بالکل مفت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، گاڑی کے سامنے پیدا ہونے والا ہوا کا دباؤ گاڑی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
@wahreh1@lava_360 بزنس میں اخلاق ضروری ہے، مگر بے تکلفی نہیں۔ ہمدردی اور خیرات اپنی جگہ، کاروبار اپنی جگہ۔ جب یہ حدود مل جاتی ہیں تو اکثر مسائل جنم لیتے ہیں۔
واہ میرے مولا تیری قدرت
آج سے تین سال پہلے شہزادہ داؤد بحر اوقـیانوس میں لاپتہ ہوگیا تھا۔۔
وشین گیٹ 2021 سے ارب پتیوں کو سمندر کی تہہ میں 3300 میٹر نیچے ٹائی ٹینـــک کے ملبے کی سیر کرانے کا کام کر رہی تھی۔ ٹائی ٹینک کا ملبہ 1985 میں دریافت ہوا،، اور اوشین گیٹ نامی کمپنی نے 2021 سے دنیا بھر کے امـــــــــراء کو اس کی سیر کرانی شروع کر دیی۔
پاکستانی بزنس مین شہـزادہ داؤد اور سلیمان داؤد جو اس کا بیٹا تھا 18 جون 2023 کو ٹائیٹن میں سوار ہوئے،،، انکے ساتھ تین اور ارب پتی لوگ بھی تھے جب ٹائیٹن پانی میں اتر گئی انہوں نے کم وقت میں تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اس کے ایک گھنٹہ اور 45 منٹ بعد ٹائیٹن آبدوز کا کنـٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا،،،،،،، سمندر کے سطح پر باقی لوگوں نے رابطوں کی کوشش کی،،،،،،،،، بار بار سگنل بھیج دیں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔
انہوں نے فوراً کینیڈا نیوی کو اطلاع دی انہوں نے آپریشن شروع کیا،، کیونکہ ٹائیٹن میں سوار تمام لوگ ارب پتی تھے جب ٹائیٹن میں آکسیجن ختم ہونے کا وقت گزر گیا اور ان کا پتہ نہیں چلا تو سب کو لگا کہ سب آکسیجن کی کمی سے مر گئے ہوں گے لیکن جھٹکا ان کو تب لگا،،،،
جب ایک ہفتے بعد ٹائی ٹینک جہاز کے اس پاس پانی میں کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملے بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کے آبدوز پونے دو گھنٹے بعد Bathypelagic Zone میں دھــماکے سے پھٹ گئی تھی اور یہ خطـرناک زون تین ہزار میٹر کی گہــرائی میں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آبدوز کی دم اور لینڈنگ فریم ٹائی ٹینک کے ملبے سے 1600 فٹ کے فاصلے سے ملا،،،، تاہم لاشیں غائب تھیں اور یہ لاشیں سرے دست کسی ٹیکنالوجی کی مدد سے دریافت نہیں ہو سکتیں، تین سال بعد بھی وہ لاشیں نہیں ملی۔
جب سائنســدانوں نے تحقیق کی تو ایک حیران کن بات سامنے آئی ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں تہہ در تہہ بحریں ویوز ہوتی ہیں۔ ایک بحر کے بعد دوسری بحر اور دوسری کے بعد تیسری بحر آتی ہے اور یہ بحریں سمندر میں سناٹا اور شدید اندھیرا کرتی چلی جاتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پانچ سو میٹر گـــــہرائی میں سفر کے بعد پانی میں اندھیرے کے ایسے گـہرے بادل ہر طرف چھا جاتے ہیں۔ جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اندھیرا دنیا کے کسی بھی مقام پر انسان کے تجربے میں نہیں آتا۔
سائنــس دان اس اندھیرے کو عرف عام میں "Pitch Darkness" کہتے ہیں،، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان دوسرے ہاتھ کو ٹٹول نہیں سکتا، اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی نہیں تھی، سائنس کا نام و نشان نہیں تھا اس وقت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا تھا،،، جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔ سورۃ نور کی آیت نمبر چالیس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ------ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ----وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ (سورة نور 40)
ترجمہ یا جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہو، موجوں کے اوپر موجیں اٹھ رہی ہوں،،،، اوپر سے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں، اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہوں،، اور اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو وہ اس کو بھی نہ دیکھ پائے"۔۔۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی ثبوت یہ ہے کہ آج سے چودہ سو 1400 سال پہلے جب انسان سمندر میں تیــن میــٹر سے زیادہ گہرائی میں نہیں گیا تھا۔۔ اس وقت قرآن مجید میں کس نے ڈکلیئر کیا کہ سمندر میں موجوں کے اوپر موجیں ہوتی ہیں اور یہ گہرے بادلوں کی طرح ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہیں اور یہ ایک ایسا اندھیرا تخلیق کر دیتی ہیں،،،،،،،،،،،،، جس میں ایک ہاتھ دوسرے کو شناخت نہیں کر سکتا،،،، یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے کس طرح معلوم ہوگئی ؟ اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے میں بتا دیا کہ ہم سمندر میں موج کے اوپر مـــوج چلاتے ہیں اور یہ مـوجیں گـــہرے بادل جیسی ہوتی ہیں،،،،،،،،، اور یہ ایک ایسی پچ ڈارک نیس تخلیق کرتی ہیں جس میں بینائی جواب دے جاتی ہے اور ٹائیــٹن اس پچ ڈارک نیس میں تباہ ہوگئی کیوں کہ یہاں پانی کا پریشر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
کیا یہ محـض اتفاق تھا ؟ جس نے دنیا کو چودہ سو سال پہلے پچ ڈارک نیـــــس، مـوج کے اوپر مـوج اور پھر اندھـیرے کے بادلوں کے بارے میں ہمیں بتایا،،،،، جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہیں تھا۔
@Well_Tester_@Mughal3_1_3 Indoor or outdoor ka piping distance,
Office location , agr direct top ya walls ko dhoop lagti ho.
Or BHT sari cheezein matter karti hein.