پنجاب کی تقسیم پر سب بڑھ چڑھ اور منہ پھاڑ کر بات کرتے ہیں، مگر جب باقی صوبوں میں انہی حالات و واقعات (جن کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم کے دلائل دیے جاتے ہیں) کی بنیاد پر انہیں تقسیم کرنے کی بات آئے تو غیرت، مرنا مارنا اور لسانی فسادات تک بات پہنچ جاتی ہے۔
برطانیہ میں ایکشن کمیٹی کے کارندوں ہاتھوں قومی پرچم کی بے حرمتی پاکستان کو گالیاں اور فیلڈ مارشل کیلئے غلیظ زبان استعمال کرنے پر احسن چٹھہ میدان میں آئے اور جوابِ شکوہ دیا جس پر لون لیگ نے مٹھا جی کو عہدے سے ہٹادیا اور اب وہی ایکشن کمیٹی جس کو راضی رکھنے کیلئے مٹھا جی کی منجی میں ڈانگ پھیری گئی تھی ریاست پاکستان کی منجی ٹھوکنے میں مصروف ہے
میاں صاحب سناؤ فیر
مٹھا جی آپ نے بہت پہلے فتنہ کو بھانپ لیا تھا جس پر مورخ آپکو فرشی سرخ سلام پیش کرتا ہے
تصویر کا چُتھا رُخ
ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ھے، اس نظام سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہیں وزیر داخلہ محسن نقوی
ناظرین اس بیان کے بعد وفاقی حکومت کو فورا “ ایشکن “ لیتے ہوئے وزیرداخلہ سے وضاحت طلب کرنی چاہیے اور کم از کم انکی وزارتی قلم واپس لینا چاہئے اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو کم از کم تھوڑی ایتھکس دکھانی چاہیے کیونکہ وہ خود سسٹم کی تباہی تسلیم کرچکے ہیں لیکن اب تک چار چفیرے خاموشی چھائی ہوئی ہے
ڈسکلیمر تصویر کا دوسرا رُخ ابھی باقی ہے
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے ؟
سنجاوی مانگی ڈیم 46 جنازے ایک دن میں اُٹھے تم نیویارک تھے
14 جولائی کو پانچ لاشیں اور آج چھ لاشیں بلوچستان سے ملی
ہنگو میں دس پولیس اہلکار کل شھید ہوئے اور پھر کہتے ہو سسٹم ناکام ہو گیا ہے ؟
میرے پاس کنفرم نمبر نہیں ہیں البتہ کم سے کم 120 سے زائد شھادتیں صرف اس مہینے میں ہوئی ہیں پاکستانیوں
آج یہ چپڑگنجو کہتا ہے سسٹم ناکام ہو گیا ہے 🖐🖐
ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا ٹیموں کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا گیا ہے؛ اس گٹھ جوڑ میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، اے این پی، جے یو آئی اور اچکزئی گروپ شامل ہیں۔
🚨🫵
نظام نہیں آپ فیل ہوگئے۔ آپکی خواہشات فیل ہوگئی۔آپکےپلاننگ فیل ہوگئی۔
بات رہ گئی میرٹ کی ڈویپلمنٹ ترقی کی۔تو پنجاب جیسے ترقی کررہا ہے۔ جس طرح روزانہ کی بنیاد پر ڈویپلمنٹ اور عوامی فلاحی منصوبے چل رہے پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں چلے۔ وفاق نے معیشت پاکستان بچایا۔
@MohsinnaqviC42
محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سے پورے پاکستان میں تحریکیں اٹھ رہی ہیں ، دہشت گردی شدید تر ھو چکی ھے ۔ فوج ، پولیس اور عوام کی 25 سے 50 لاشیں روز اٹھانا معمول بن چکا ھے !
ایران کے چمچے بننے والے پاکستانیوں سے سوال ہے کہ لاکھوں پاکستانی روز گار کے سلسلے میں گلف ممالک میں آپکے خاندان کو چلا رہے ہیں
انکا روزگار ختم ہوتا ہے تو کیا آپ انکو ایران میں روزگار دلاؤ گے ۔۔؟
ہوش کے ناخن لو مجوسی کبھی بھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے ۔
نورین نیازی صاحبہ کا بیان سامنے آیا ہے۔وہ اپنے بھائی کی سیاست بچانے کے لیے، جو یہ کہتے تھے کہ 'عمران نہیں تو پاکستان نہیں'، اب وہ معرکہ حق پر سوال اٹھانے لگ گئے ہیں۔ ایسے بیانات دے رہی ہیں جو بھارتی میڈیا (پاکستان کے خلاف) استعمال کرتا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی گفتگو سے شاید ان کی سیاست چمک جائے گی، لیکن آپ کی سیاست دفن ہو چکی ہے۔ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے، ورنہ کچھ بھی نہیں۔
مبارک ہو وزارت اطلاعات کی مہربانی سے ایک یوتھیے صحافی کو پی ٹی وی سرکاری نوکری ملُ گئی نون لیگ کی وزارت اطلاعات کا کام بے روزگار یوتھیے صحافیوں کو سرکاری روزگار دینا ہے
موصوف کو سماء سے نکالا گیا اور اگلے دن ان کو پی ٹی وی میں جاب دے دی گئی ہے
ایک ہفتہ قبل تک یہ حکومت کو بھرپور گالیاں دے رہے تھے یہ حکومت ایک کام میرٹ پر کرتے وہ جوتے کھانا ہے
پہلی بات یہ کہ اگر مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے کا دکھ ہے تو یہ دکھ کسی اور طرح نکالیں؛ شہداء کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے؛ دوسرا یہ کہ اگر پی ٹی آئی کا 9مئی کو یادگار شہداء کی بےحرمتی کرنا غلط تھا تو مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان انتہائی غلط ہے۔
یہ جنوری کی ویڈیو ہے جب یہ شہزادے افغان بارڈر پر ڈیوٹی دے رہے تھے جب یہ ڈیوٹی دے رہے تھے تب مولانا گرم کمبلوں میں سکون سے بیٹھے تھے
ایسے شہزادوں کی تنہواہیں گننے والوں کی ذہنیت پر لعنت بھیجنا ہی بنتی ہے
بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کو قتل کیا گیا بیوی بچوں کے سامنے قتل کیا جاتا کل کو اگر کوئی پنجاب سے اُٹھ کر یہاں لاکھوں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں کو قتل کرنے لگ پڑے تو پھر ریاست کیا کرے گی ؟ریاست کے لیے ایسے واقعات کو معاف کرنا یا نظر انداز کرنا سب سے بڑا جرم ہے سیاسی قیادت کا ان واقعات پر آنکھیں بند کرنا ایک کرمنل ایکٹ ہے اگر ریاست کے ساتھ دشمنی ہے تو وہ ریاست کے ساتھ ہونی چاہیے، عام مزدور کے ساتھ نہیں
اختیار ولی خان صاحب نے تہذیب، دلیل اور وقار کے ساتھ مولانا صاحب کی شہدا کے حوالے بیان پر اختلاف کیا انہوں نے واضح کیا کہ وطن پر جان نچھاور کرنا محض روزگار نہیں بلکہ جذبہ، ایمان اور قربانی کا نام ہے۔ الفاظ کا بہترین چناؤ ایک باوقار سیاست دان کی پہچان ہے۔
مولانا فضل الرحمان صاحب! ہمارے شہداء اور غازی ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔۔ آپ اپنے بیٹے کی تنخواہ مقرر کریں، اس کو بھیجیں بارڈر پر اور پہاڑوں پر، وطن دشمنوں اور اسلام دشمنوں کے خلاف جہاد کیلئے۔۔ ہم وہ تنخواہ ادا کریں گے۔۔
ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کے منافقانہ سیاست کر کے وطنِ عزیز پاکستان کے غازیوں اور شہداء پر گفتگو کرنا قابلِ افسوس ہی نہیں، قابلِ مذمت بھی ہے۔۔
خدارا! اپنی منافقانہ سیاست میں وطنِ عزیز پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو ملوث نہ کریں۔۔
قومی یکجہتی کونسل