"میں نے پولیس والوں کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے کھانے پینے کی چیزیں گھر لے جانے دیں، کیونکہ میرے گھر میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے، بیوی بھی حاملہ ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا کہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دو، تب ہی جانے کی اجازت ملے گی۔"یہ الفاظ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی نوید (فرضی نام) کے ہیں، جن کا تعلق پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں عباس پور سے ہے۔ نوید اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی سے آٹا، چاول، چینی، دالیں اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔یہ واقعہ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔نو محرم کے دن یہ الفاظ دل کو عجیب سی کسک دیتے ہیں۔ کربلا میں بھی اہلِ بیتِ رسولؐ پر پانی بند کر دیا گیا تھا۔ صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے، حکمران بدل گئے، مگر بھوک، پیاس اور بنیادی ضروریات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سوچ آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ نظر آتی ہے۔
تاریخ صرف کتابوں میں نہیں دہرائی جاتی، بعض اوقات اس کی بازگشت مظلوموں کی سسکیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔
کتنی مشکل سے اس بابا نے یہ جانور پالا ہوگا۔ کتنی امید کے ساتھ مارکیٹ آیا ہوگا کہ دو پیسے کما کر گھر لے جاؤں گا۔ لیکن ظالموں نے قربانی بھی کرنی ہے، رب کو خوش بھی کرنا ہے، اور وہ بھی جعلی روپیو سے؟چلو کم از کم اصلی پیسے ہی دے دیتے، مگر ایک غریب بابا کو جعلی نوٹ پکڑا دیے۔ کیا ایسی دھوکے والی قربانی واقعی قبول ہو سکتی ہے؟ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، نیت، حلال رزق اور انسانیت بھی ضروری
اس ریل کو اپنے پاس محفوظ کر کے رکھ لیں۔ ایک بار مکمل دیکھیں ضرور۔
اگر اسے دیکھ کر آپ کا کلیجہ نہ پھٹے، اگر دل یہ نہ کرے کہ زمین پھٹے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں، تو پھر ذرا سوچیں…اس خاندان پر کیا گزری ہوگی۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ اس ملک کے سسٹم کے چہرے پر لگا ہوا وہ سیاہ ترین داغ ہے جس پر جتنی بات کی جائے کم ہے۔ ایک ایسا نظام جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی بے بس، لاوارث اور بے آواز چھوڑ دیتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم ہم یہاں سے کہاں جائیں گے۔
لیکن ایک بات ضرور معلوم ہے: غزہ کے بچے، اور ہمارے اپنے بچے، کل قیامت کے دن ہمارے سامنے کھڑے ہوں گے۔ وہ ہم سے پوچھیں گے کہ جب ظلم ہو رہا تھا، جب انسانیت سسک رہی تھی، تب کیا ہم واقعی ایک امت تھے؟
جنت کی باتیں تو بہت دور کی ہیں۔
پہلے ہمیں یہ جواب دینا ہوگا کہ ہم انسان بھی تھے یا نہیں۔
نعمان مسعود کا, عاصم شہباز ریجیم کو پیغام!
ہمارا کاروبار بند ہونے جارہا ہے, یہ پابندیاں ہٹا دو!
منیر شہباز ریجیم نے ہر کاروبار بند کردیا!
یاد ہے 2019 میں وباء جہاں پوری دنیا میں کاروبار بند پڑا تھا, پاکستان چل رہا تھا, پوری دنیا پاکستان کی مثالیں دیتے تھے
مجھے لگ رہا تھا کہ اس بار شاید اتنے لوگ نہ آئیں، کیونکہ پختونخوا اب ویسا نہیں رہا جیسا ڈھائی سال پہلے تھا۔ مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا، ہر طرف نفسا نفسی ہے۔ لیکن جب وہاں کے مناظر دیکھے تو دل ایک عجیب سوچ میں چلا گیا۔ خیال آیا کہ شاید مہنگائی بھی اسی لیے بڑھائی گئی کہ لوگ روٹی کے چکر میں لگے رہیں اور سڑکوں پر نکلنا چھوڑ دیں۔ مگر حیرت ہوئی کہ تین سال بعد بھی مردان کے جلسے میں پہلے سے زیادہ لوگ نکل آئے۔
پھر ذہن میں سوال آیا کہ یہی لوگ اڈیالہ کیوں نہیں پہنچتے؟ اور جواب بھی خود ہی مل گیا۔ یہ عام، مہذب لوگ ہیں نہ کوئی غنڈے، نہ ڈنڈا بردار۔ جب ریاست ہی 13 اکتوبر اور 26 نومبر کو عوام پر گولیاں برسائے، اور اوپر سے انہی پر مقدمے بھی ڈال دے، تو ایک عام شہری کیسے مقابلہ کرے گا جس نے کبھی تھانے کا منہ نا دیکھا ہو؟
لیکن ایک امید ضرور ہے۔ اڈیالہ والے کا اللہ پر کامل ایمان ہے ، جس دن یہ ریاست ہوش کے ناخن لے لے گی، عوام کو تسلیم کرلے گی تو صرف ایک اعلان کافی ہوگا کہ آپ کا لیڈر عمران خان آپ سے خطاب کرے گا۔ پھر خیبر سے کراچی تک لوگ خود نکلیں گے، اور لاہور کے مینارِ پاکستان کے اردگرد جگہ کم پڑ جائے گی۔
مجھے پورا یقین ہے کہ میرا رب اپنے حبیب ﷺ کے صدقے وہ وقت ضرور لائے گا۔ بندوقیں خاموش ہوں گی، اور عمران خان آزاد فضا میں خطاب کرے گا۔
"ایاک نعبد و ایاک نستعین"
ان شاء اللہ ❤️
#ReleaseImranKhan
responsibility.
Practical training in first aid and CPR should be mandatory in every school, college, and university. Because in a society where people watch someone dying and still cannot help, even silence becomes a crime.
This is not just negligence; it is serious carelessness. A young person collapses, and people simply stand and watch because they neither know CPR nor understand how to respond in an emergency. This reflects the failure of a system that gives degrees but does not teach human
امت مسلمہ کا واحد لیڈر جس کا موقف ہر موقع پر واضح اور دوٹوک رہا ہے یہ ویڈیو ان عقل سے عاری غیرت سے آزاد منافقت کے معمار شعور سے بیزار بوٹواریوں کے لئے ہے جن کا پاس معلومات کے حصول کا زریعہ ریاستی پروپیگنڈہ رضی دادا ، مٹھا جی ، غلیظہ بوٹواری ، من سور ،طلعت پرجی اور جئیو نیوز ہے پاکستان امن میں سب کے ساتھ ہے اور کرایہ پر ہم کسی کو دستیاب نہیں یہی وہ بیانیہ ہے جس سے ڈالر کی جنگ لڑنے والوں کا کاروبار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
🚨بہاولپور میں لیڈی کانسٹیبل کا بچوں کے سامنے خاتون پر بیہمانہ تشدد، واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔۔ مبینہ طور پر حق المہر کا گھر خالی نا کرنے کے الزام پرلیڈی کانسٹیبل نے دیہاتی خواتین پر تشدد کیا ۔۔ واقعے کی فوٹیج سامنے آنے پر ڈی پی او نے لیڈی کانسٹیبل کو معطل کردیا
اسٹبلشمنٹ کو عمران خان سے مسئلہ کیا تھا؟
عمران خان الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتے تھے جس سے دھاندلی بند ہو جاتی،
اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے تھے،
کرونا کے دوران اسٹبلشمنٹ چاہتی تھی فل لاک ڈاؤن لگے،
عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا، عمران ریاض
امریکی صحافی تو سیرینا ہوٹل کے اندر گئے لیکن پاکستانی ایک بھی صحافی اندر نہیں جا سکا۔ پاکستانی صحافت میں ایک مسئلہ یہ ہے یہاں ہر بندہ اپنے آپ کو سپر اسٹار سجھتا ہے۔ جو صحافی ہوتا ہے وہ عوامی آدمی ہوتا ہے جسکی بات ریڑھی والے سے لے کر پروفیسر کو سمجھ آنی چاہیے، اطہر کاظمی
”میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں، جس کے 95% لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں۔ کیا ان نوے فیصد سے زائد لوگوں کی ترجمانی کروں یا مغرب زدہ اشرافیہ کی؟ میں خود کو اپنے لوگوں کا ایک پاکستانی سمجھتا ہوں۔“