@MeFaheem 1947 جنگ،،
علاقہ پنجاب، سیالکوٹ،لاھور،
1971 ۔۔علاقہ بنگال
1999 جنگ،، علاقہ سیاچن۔۔
ٹوٹل نشانِ حیدر 11 میں سے 9 پنجاب کے، 1 پٹھان,۔۔۔
اخے۔۔۔ اس بار ہم جبگ نہی لڑیں گے۔۔
مخے۔۔ پٹانوں نے 3 بڑی جنگوں میں سے پہلے کونسی جنگ لڑی ھے اور کونسی جنگ پٹھانوں کے بارڈر پر لڑی گئی ھے۔۔ ؟؟؟
یہ نیوز چینلز کے مالکان پیسے کے لئے ضمیر کیا اپنی ملک کا سودا کردیں ،جیو نیوز کو تو اس میں سب سے ذیادہ تجربہ حاصل ھے۔ملاحظہ ھو پیپلزپارٹی سے پیسہ پکڑ کے کیا چلایا جارھا ھے
I am a Pashtun from KP. One of our bravest is martyred by the TTP. While Punjabis mourn with me, pay tribute to him, and their officers in Police vow revenge, Afghans across the Durand mock and celebrate his murder.
I will always choose a Punjabi brother over these monsters.
یہ تجاوزات ایک دن میں نہیں تیرہ سالوں میں بنی ہیں ان تیرہ سالوں میں کتنا مال پانی جیب میں جاتا رہا اندازہ لگانا مشکل نہیں
یہ وہ نااہلی تھی جس کو چھپانے کے لئے صدیق جان جیسے راتب خور رکھے گے تھے تاکہ اس ایشو پر کوئی بات نہ کرے
دہشتگردی بھی ختم ہو گی قبضے بھی ختم ہوں گے 👍
لاہور جم خانہ کی زمین 960 کینال اور سالانہ کرایہ صرف 5 ہزار،جبکہ مال روڈ پر ایک دکان کا ماہانہ کرایہ 3 سے 5 لاکھ ہے،12+10 کی دکان ڈیڑھ سے دو کروڑ کی ہے،اگر جم خانہ سے اصل کرایہ وصول کیا جائے تو 52 ارب بنتا،یہ لیز 1996 میں منظور وٹو کے دور میں ہوئی،جم خانہ کے ممبران کی اکثریت ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور ججوں کی ہے اسکے علاوہ بزنس مین اور ریٹائرڈ فوجی بھی اسکے ممبر ہیں،اب سیاستدانوں کا مقابلہ ان ریٹائرڈ سے ہے دیکھو پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی جیتی یا ریٹائرڈ افسر جیتے۔پنجاب اسمبلی کی جس سٹینڈنگ کمیٹی میں یہ معاملہ چل رہا اسکے سربراہ سمیع اللہ خان ہیں جو عظمی بخاری کے شوہر ہیں،سمیع اللہ خان کے بارے میں مشہور ہے بہت اصول پسند شخص ہیں وہ گزشتہ ایک سال سے جم خانہ معاملے کو لے کر چل رہے پیچھے نہیں ہٹے نہ دباؤ میں آئے ہیں۔
یہ بھی پاکستانی ہے اور اس پر پورا برطانیہ اس وقت فخر کر رہا ہے ڈاکٹر آصف صاحب نے ہزاروں دل کے مریضوں کی اوپن ہارٹ سرجری کی جو ایک ریکارڈ ہے وہ ستر سال کی عمر میں ریٹارڈ ہوئے اب وہ سارے مریض جن کا علاج کیا ان کو لائف ٹائم اچیونمنٹ ایوارڈ دینے آئے
یہ اصل ہیرو ہیں یہ ہمارے بچوں کے رول ماڈل ہیں یہ مسلمانوں کا یورپ میں روشن چہرہ ہیں ❤️❤️
کیا کبھی سوچا ھے کہ NWFP دراصل پنجاب ھے؟
1901 میں برٹش نے پنجاب سے انتقام لینے کے لئیے NWFP صوبہ اس میں سے بنا دیا؟
یہ سرزمین کل بھی پنجاب تھی ، آج بھی پنجاب ھے اور تا قیامت پنجاب رہے گی۔
یہ ویڈیو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ خیبر پختونخواہ کے مظلوم عوام کے ساتھ گزشتہ 14 سالوں میں کتنا ظلم ہوا ہے!
14 سال میں پہلی مرتبہ پشاور سڑک کی صفائی دیکھ کر وہ اتنے حیران ہو رہے ہیں کہ ویڈیوز بنا رہے ہیں۔
زیر نظر تصاویر میں دو بلوچ نوجوان ہیں۔ایک تصویر میں بیگ اٹھائے کھڑا نوجوان فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل ایف کے سربراہ اللہ نذر بلوچ کا بیٹا ہے، جو بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا ہے، جبکہ دوسری تصویر ایک غریب بلوچ نوجوان کی ہے،
#Balochistan#BLF#BLA#balochistanrang
تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
آج صوبائی اسمبلی پنجاب کی اسپیشل کمیٹی نمبر 6 کا مسلسل دوسرے روز اجلاس ہوا، جس میں لاہور جمخانہ کے چیئرمین اور مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین نے بریفنگ دی۔
جمخانہ کا “نقش کہن” اس کی عمارت سے زیادہ اس سوچ میں ہے جو نوآبادیاتی دور سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ عوام کی زمین پر مراعات یافتہ لوگوں کے لیے ایک الگ دنیا، جہاں داخلے اور سہولتوں کا حق آپ کے مرتبے سے طے ہوتا ہے۔ نوری، ناری اور خاکی کا نظام وقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
کم سے کم انصاف یہ ہے کہ لاہور کے اس قیمتی علاقے میں سو ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کا موجودہ منصفانہ کرایہ طے ہو اور وصول کیا جائے۔ موجودہ کرایہ 5000 سالانہ ایک مذاق ہے۔ مگر سوال کرائے سے آگے بھی ہے: جس زمین کے اصل مالک عوام ہیں، اس کے دروازے انہی پر کیوں بند ہیں؟
میرے حلقے کے چار لاکھ اسی ہزار شہریوں میں، میرے علم کے مطابق، اس کلب کا ایک رکن بھی نہیں اور رکنیت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سختیاں عام آدمی کے لیے اور رعایتیں اشرافیہ کے لیے۔ اس طرح نظام نہیں چل سکتا۔
جمخانہ اپنی غیرمنافع بخش non profit organization حیثیت کا حوالہ دیتا ہے۔ میں نے سوال اٹھایا کہ اس کے ریستورانوں، گیسٹ رومز اور بیکری کی آمدنی کہاں خرچ ہوتی ہے؟ ان سہولتوں سے معاشرے کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ امیر ممبر کے لیے سستی بریڈ اور غیرممبر کے لیے مہنگی بریڈ میں کون سا عوامی مفاد پوشیدہ ہے؟ غیرمنافع بخش حیثیت اور عوامی فائدہ دو الگ سوال ہیں؛ دونوں کی جانچ ضروری ہے۔
اگر کھیلوں کا فروغ اس رعایت کا جواز ہے تو کن اسپورٹس فیڈریشنوں یا ایسوسی ایشنوں سے معاہدے ہیں؟ پاکستان کے کتنے رینکنگ رکھنے والے کھلاڑی، جو جمخانہ کے ممبر نہیں، ان سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں؟ کیا کھیل کی اہلیت کافی ہے یا پہلے مراعات یافتہ حلقے کی رکنیت ضروری ہے؟
اس زمین پر دی جانے والی سالانہ رعایت کی مکمل مالی قدر بھی سامنے آنی چاہیے۔ اگر یہ ایک ارب روپے یا اس سے زیادہ بنتی ہے تو اس کے عوض لاہور، اس کے شہریوں اور کھیلوں کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ عوامی اثاثے پر اتنی بڑی رعایت کا جواز قابلِ پیمائش عوامی فائدے سے ہی دیا جا سکتا ہے۔
میں نے اپنے سوالات متعلقہ محکموں کے ذریعے ریکارڈ پر پہنچائے ہیں تاکہ کمیٹی حقائق عوام کے سامنے رکھے اور اس جیتی جاگتی ناانصافی پر اپنا کردار ادا کرے۔
اشرافیہ ہوش کے ناخن لے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں، مگر مراعات کے حصار میں بیٹھے لوگوں کا ہاتھ ملک کی نبض پر نہیں۔ اشرافیہ کی مراعات اس ملک پر بوجھ بن چکی ہیں۔ بطور عوامی نمائندہ میری ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں کی آواز ان دیواروں کے اندر نہیں پہنچتی، اسے طاقت کے ایوانوں تک پہنچاؤں۔
شہادتوں کا ایک سلسلہ ہے وحشی گروپس کے خلاف اس جنگ میں ان عظیم پختونوں کی شہادتیں امر ہیں اور پاکستان کو غار کے دور میں لے جانے کی کوششیں ناکام ہوئ ہیں تو ان سپوتوں کی قربانیاں کی وجہ سے ہوئ ہیں۔۔ اللہ ان دلیر جوانوں کو جنت میں اعلیٰ مقام دے!! #RIP
پی ٹی آئی کے دوست صاحبان سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ
خدارا بلیک میلنگ کرنا یا للکارنا دھمکیاں دینا بند کردیں
کیونکہ آپ لوگ جو بھی بات کہتے ہو کہ نہیں ہوسکتا
تو بلکل ویسا ہی اگلے کرکے دکھادیتے ہیں🙄
اس لیئے زرا سوچ سمجھ کر بات کریں🙏
بلوچستان میں دہشتگردی کا بہت بڑا ہاتھ ایران کا ہے اللہ نظر بلوچ کے متعلق صرف باتیں نہیں ثبوت بھی ہیں ان دونوں ملکوں کی ہسٹری رہی ہے جب مار پڑتی ہے یہ پاکستان میں پنگے لیتے ہیں
ناظرین آج بلوچستان میں ہوئی دہشتگردی کی کڑیاں ملائیں
سن رکھا ہے کہ سبھی ٹیلی کام کمپنیاں اس طریقہ واردات سے اربوں روپے شہریوں سے لوٹ رہی ہیں تاہم میں ٹیلی نار کا ڈسا ہوا ہوں اور اب تک ڈسا جا رہا ہوں۔
متعدد بار پہلے بھی اس مسئلے پر پوسٹ کر چکا مگر کمپنی اور حکومتی ادارے پی ٹی اے کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، شاید پی ٹی اے میں کچھ کالی بھیڑیں ہوں گی جن کی ملی بھگت سے ہی یہ واردات ڈالی جا رہی ہو گی۔
واردات یہ کہ صارفین کی مرضی اور علم کے بغیر بیک اینڈ سے ڈیجیٹل سروسز ایکٹیویٹ کر دی جاتی ہیں، ایسی سروسز جن کے نام بھی ہم نے نہیں سنے ہوتے۔
حد تو یہ ہے کہ یہ نوسرباز بٹنوں والے سادہ موبائل فون رکھنے والوں کو بھی نہیں بخشتے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ ان بٹنوں والے فونز پر ڈیجیٹل سروسز ان کی کون سی اماں ایکٹیویٹ کرتی ہے اور کیسے کرتی ہے۔
گاؤں میں اکثر عمر رسیدہ مرد و خواتین اپنے بٹنوں والے فون لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں ”پتر ایہہ ویکھیں میری سم بیلنس کھا جاندی اے۔“ اب انہیں بندہ کیا بتائے کہ سم بیلنس نہیں کھاتی سم کے پیچھے بیٹھے ڈائنوں کے بچے کھاتے ہیں بیلنس۔
خیر! ہم لاوارث پاکستانی ہیں اور ہر اس شخص پر ہمارا خون پینا فرض ہے جو ہمارا خون پینے کی ذرا سی بھی طاقت رکھتا ہے۔ پیو کم بختو، یہ دنیا تمہاری ہے، وہ حشر کا میدان ہمارا ہے۔
@PTAofficialpk@telenorpakistan