میں اِس دُنیا میں کیوں ہوں؟ یہ سَوال روزی، عہدے یا لوگوں کی رائے کا نہیں…
یہ وُجُود کی اصل غرض کا ہے۔ قرآن کہتا ہے: آپ بے مقصد نہیں آئے۔
آپ خلیفہ ہیں — ایک امانت دار، ذمہ دار نمائندہ۔ اس بھولے ہوئے مقصد کو دوبارہ جانیے۔
مکمل ویڈیوکے لیے کلک کریں یا فرسٹ کومنٹ میں دیکھیں
وادی کمراٹ ، زمین پہ جنت کا ٹکڑا
یہ جنت نظیر وادی اپنے دامن میں بیسیوں دلکش مناظر سمیٹے ہوئے ہے ۔۔۔ ہریالی و شادابی میں اس کی مثل شاید ہی ملک خدا داد میں کوئی اور ٹکڑا ہو ۔۔۔پانی کی اتنی بہتات کہ شروعاتِ وادی سے لیکر آخری حد تک دریائے پنجکوڑہ ہی چھایا ہوا نظر آتا ہے ۔۔۔ اس کی مخصوص آواز سے ایسی مانوسیت ہو جاتی ہے کہ جہاں کہیں انسانی کان اس کی آواز سے دور ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی آشنا اور اپنائیت میں ڈوبی چیز مفقود ہوگئی ہو۔۔۔کچھ کچھ فاصلے پر صاف و شفاف مختلف رنگوں میں پانی کے نالے۔۔۔ بلند و بالا آبشاریں۔۔۔ آتشِ پیاس کو بجھانے والے ٹھنڈے ٹھار خوش ذائقہ شیریں چشمے۔۔۔ مختلف جگہوں پر آبپاشی کے لیے بنائی گئی نہریں اس پر مستزاد ہیں لیکن قابلِ ستائش ہیں اہلیانِ علاقہ کہ پانی سے خوب خوب نفع لیتے ہیں۔۔۔ سبزہ، زراعت و باغات اسی کے ہمدم ہے۔
اس کی ہریالی ایسی کہ گویا میلوں قدرتی سبز کارپیٹ بچھا ہوا ہے جو آنکھوں کو ایسا خیرہ کرتا ہے کہ فطرتِ آدمیت اسے دیکھنے میں مبہوت رہ جاتا ہے ۔۔۔کہیں بالکل میدان اور کہیں ڈھلوان۔۔۔ کہیں پہاڑی سلسلہ اور چوٹیاں اور کہیں جنگلات و بیابان۔۔۔ جس سے دلِ پژمردہ کو جلا بخشنے کا وہ منظر بہت پرکیف ہوتا ہے جب یکے بعد دیگرے اوپر نیچے تہہ در تہہ متوازن کھیتوں کا ایک لمبا سلسلہ چلتا ہے جس کے ساتھ ساتھ پانی بھی دوڑ رہا ہوتا ہے تو انسانی آنکھوں میں بسا ہوا مصنوعی منظر اصل اور حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے اور بے ساختگی سے زبان سے جاری ہوتا ہے"فتبارك الله أحسن الخالقین"۔
ایسے چمن میں کہیں کہیں درخت ایک جھرمٹ کی صورت میں ہوتے ہیں جن کی ٹہنیاں ہواؤں کے ساتھ اٹھکیلیاں لیتی ہیں اور بسا اوقات تیز ہوا کے ساتھ جھوم کر ایسا ساز بجانے کا منظر پیش کرتی ہیں کہ اہل ذوق عش عش کر اٹھتے ہیں۔۔۔ باغات کا ایسا سلسلہ کہ جدھر نگاہ اٹھے ادھر ہی کوئی نہ کوئی پھل جھولے لیتا نظر آتا ہے ۔
یہ مناظر ڈپریشن اور گبھراہٹ ۔۔۔ اکتاہٹ اور ملال۔۔۔ تنگ دلی اور افسردگی کو دور کرنے میں ایک خاص اور لطیف تاثیر رکھتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
🏨 سکردو، گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹری میں ایک اور خوبصورت اضافہ!
سکردو میں ایک نہایت خوبصورت اور منفرد ڈیزائن کے حامل ہوٹل کا افتتاح بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ جدید طرزِ تعمیر، نت نئے ڈیزائن اور شاندار خوبصورتی سے مزین یہ ہوٹل یقیناً سیاحوں کے لیے ایک بہترین اضافہ ثابت ہوگا.
زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین احمد)
ابو فوت ہو گئے ہیں کوئی کمانے والا نہیں ریڑھی لگاتا ہوں تو وارڈن والے اٹھا لیتے ہیں
گھر میں اس قدر فاقے ہیں ہمیں زہر کے ٹیکے لگا کر ما دیں معصوم بچہ رو پڑا
سائنس ہمیں کہاں سے کہاں لے آئی۔۔۔
🤔 🙆♂ 😪 📢
پہلے:- وہ کنویں کا میلا اور گدلا پانی پی کر 100 سال جی لیتے تھے۔۔ 💪👍
اب:- نیسلے اور پیور لائف کا خالص شفاف پانی پی کر بھی چالیس سال میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔۔۔
🧐 😩 😷 🤒
پہلے:- وہ گھانی کا میلا سا تیل کھا کر اور سر پر لگا کر بڑھاپے میں بھی محنت کر لیتے تھے۔۔۔
👊👳🏻♀👳🏻♂
اب:- ہم ڈبل فلٹر اور جدید پلانٹ پر تیار کوکنگ آئل اور گھی میں پکا کھانا کھا کر جوانی میں ہی ہانپ رہے ہیں۔۔
😇 😭 🤮
پہلے:- وہ ڈلے والا نمک کھا کر بیمار نہ پڑتے تھے۔۔۔
اب:- ہم آیوڈین والا نمک کھا کر ہائی اور لو بلڈ پریشر کا شکار ہیں ۔۔۔۔
😡 🤬 💀 🙆♂
پہلے:- وہ نیم، ببول، کوئلہ اور نمک سے دانت چمکاتے تھے اور 80 سال کی عمر تک بھی چبا چبا کر کھاتے تھے۔۔۔۔
🤩 🤪
اب:- کولگیٹ اور ڈاکٹر ٹوتھ پیسٹ والے روز ڈینٹیسٹ کے چکر لگاتے ہیں۔۔۔۔
پہلے:-* صرف روکھی سوکھی روٹی کھا کر فٹ رہتے تھے 🏋♂ 🤼♀ 🏇🏼
اب:- اب برگر، چکن کڑاہی، شوارمے، وٹامن اور فوڈ سپلیمنٹ کھا کر بھی قدم نہیں اٹھایا جاتا.
💔 💘 ❌ 🚷 🚳 🚼💊💈🍞 🍔 🍕 🍮🍩 🧀 🥨 🥣 🥘 🌮🥪 💤
پہلے:- لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے.
🤐 🤲 🤫
اب:- ماسٹر لیول ہو کر بھی جہالت کی انتہا پر ہیں.
🏴 🏁 🇦🇺 🇨🇦 🇹🇻
پہلے:- حکیم نبض پکڑ کر بیماری بتا دیتے تھے۔
اب:- سپیشلسٹ ساری جانچ کرانے پر بھی بیماری نہی جان پاتے ہیں۔۔۔۔
😡 😤 🤕 👎 🤒 🤮 ⁉
پہلے:- وہ سات آٹھ بچے پیدا کرنے والی مائیں، جنہیں شاٸد ہی ڈاکٹر میسر آتا تھا 80 سال کی ہونے پر بھی کھیتوں میں کام کرتی تھی۔۔۔
💑 👨👩👧👦 👨👨👧👦 👩👩👧👧 👩👩👧👦
اب:- ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں رہتے ہوئے بھی نا وہ ہمت نا وہ طاقت رہی۔
🙌 🙏 🙋🏼♀
پہلے:- کالے پیلے گڑ کی میٹھائیاں ٹھوس ٹھوس کر کھاتے تھے۔۔۔۔
اب:- مٹھائی کی بات کرنے سے پہلے ہی شوگر کی بیماری ہوجاتی ہے۔۔۔
💗☢⁉🔕🌡💉📝💮
پہلے:- بزرگوں کے کبھی گھٹنے نہی دکھتے تھے۔۔۔
اب:- جوان بھی گھٹنوں اور کمر درد کا شکار ہیں۔۔۔
🙌 🤷♂ 💊
پہلے:- 100 واٹ 💡 کے بلب ساری رات جلاتے اور 200 واٹ کا ٹی وی چلا کر بھی بجلی کا بل 200 روپیہ مہینہ آتا تھا۔۔۔
💡💥 📺 📻 📼
اب:- 5 واٹ(5watts) کا ایل ای ڈی انرجی سیور اور 30 واٹ کےLED ٹی وی میں 2000 فی مہینہ سےکم بل نہیں آتا.
⏲ 🔮 💸
پہلے:- خط لکھ کرسب کی خبر رکھتے تھے.
📝 📩 💌 📰 ⏰⌚
اب:- ٹیلی فون، موبائل فون، انٹرنیٹ ہو کر بھی رشتے داروں کی کوئی خیر خبر نہیں.
📱📡📞🖥☎📸 📧
پہلے:- غریب اور کم آمدنی والے بھی پورے کپڑے پہنتے تھے.
👳🏻♂🧥👚👖👔
اب:- جتنا کوئی امیر ہوتا ہے اس کے کپڑے اتنے کم ہوتے جاتے ہیں
🙏
سمجھ نہیں آتا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
😨 😱 کیوں کھڑے ہیں؟
کیا کھویا کیا پایا ؟
سائنس ہمارے لئے رحمت ہے یا زحمت ؟
🤔
منقول...
آئس کیوب نسخہ
اوپن پورز، رنگت نکھارنے اور سن ٹیننگ کے لیے
اجزاء:
ایک گٹھی تازہ پودینہ (صرف پتے)
آدھے لیموں کا رس
ایلو ویرا جیل — 1 کھانے کا چمچ
وٹامن E آئل — 1 چائے کا چمچ
(ضرورت ہو تو پیسٹ بنانے کے لیے تھوڑا سا پانی)
طریقۂ تیاری:
1. پودینے کے پتے اچھی طرح دھو کر الگ کر لیں۔
2. انہیں تھوڑے سے پانی کے ساتھ باریک پیسٹ بنا لیں۔
3. اس میں آدھے لیموں کا رس، ایلو ویرا جیل اور وٹامن E آئل شامل کریں۔
4. تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں۔
5. اس آمیزے کو آئس کیوب ٹرے میں ڈال کر فریز کر دیں۔
طریقۂ استعمال:
روزانہ رات کو ایک آئس کیوب لے کر چہرے پر 5 سے 6 منٹ ہلکے ہاتھ سے مساج کریں۔
پھر اسے مزید 10 منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں۔
آخر میں سادہ پانی سے چہرہ دھو لیں۔
ممکنہ فوائد:
جلد کو تازگی اور ٹھنڈک ملتی ہے۔
اوپن پورز کی ظاہری شکل کم نمایاں ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
سن ٹیننگ کی شدت کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
جلد کی رنگت زیادہ یکساں اور شاداب نظر آ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ ایک گھریلو نسخہ ہے، اس کے نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کی جلد حساس ہے تو پہلے بازو کے اندرونی حصے پر Patch Test ضرور کریں، اور اگر جلن، خارش یا الرجی ہو تو استعمال بند کر دیں۔ لیموں کا رس جلد کو دھوپ کے لیے حساس بنا سکتا ہے، اس لیے دن کے وقت سن اسکرین کا استعمال ضرور کریں۔
صبح بخیر
صبح اٹھتے ہی جسم ٹوٹا ٹوٹا لگتا ہے؟ سستی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے؟
اپنے دن کی شروعات ایک سادہ مگر غذائیت سے بھرپور دیسی انرجی ڈرنک سے کریں۔
🥛 اجزاء: • 1 گلاس نیم گرم دودھ
• 4 سے 5 بادام (رات بھر بھگوئے ہوئے)
• 1 کھجور
• چٹکی بھر کالی مرچ
• 1 چائے کا چمچ شہد
طریقہ: تمام اجزاء کو بلینڈ کریں اور صبح ناشتے کے ساتھ یا اس سے پہلے پی لیں۔
✨ ممکنہ فوائد: ✅ قدرتی توانائی میں مدد
✅ جسمانی کمزوری کم کرنے میں معاون
✅ دماغی توجہ اور یکسوئی کے لیے مفید
✅ غذائیت سے بھرپور آغازِ دن
🌿 یہ نسخہ روایتی گھریلو طریقوں سے متاثر ہے، جبکہ اس میں شامل اجزاء جیسے دودھ، بادام اور کھجور اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے صحت مند غذا کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ اپنائیں۔
قدرتی غذا اپنائیں، صحت مند رہیں، اور ہر صبح تازگی کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کریں۔ 💚