عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی،
کسی کام کی نہ رہتی،
اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا،
تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ،
جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی،
جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔
یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا،
بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ،
زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی،
آکسیجن بھی استعمال کرتی ،
لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ،
نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ،
نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔
اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36)
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36)
قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو،
جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ،
جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو،
جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو،
جو صرف کھاتا پیتا، جاب اور ملازمت کرتا ہو،
جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا،
سوشل میڈیا استعمال کرنا،
اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا،
کسی خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا،
ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا ہو۔
اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔
یہ شخص سُدی ہے۔
کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے،
اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے،
سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے،
ستاروں کی گزرگاہوں کو جان لے،
سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے،
زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے،
روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے،
مصروفیت کے ہزاروں ڈھونگ رچا لے۔
تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔
یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے،
اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ
پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29)
جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے،
اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں،
لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں،
کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں،
اگر وہ قرآن پڑھ لے،
نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے،
تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔
جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا،
یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔
یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا :
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا
اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77)
ابھی سانس آ رہی ہے،
تو موقع ہے،
سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟
اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں،
تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔
یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔
محمد اکبر
#موناسکندر
مطالعہ پاکستان کے غدار
1947 میں امیرالدین قدوائی نے پاکستان کا قومی پرچم ڈیزائن کیا اور 2019 میں ان کے بےقصور پوتے نے 20 ماہ NAB ٹارچر سیل میں کاٹے۔
1906 کو نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور 1960 میں ان کے نواسے حسن ناصر کو جنرل ایوب خان نے اذیتیں دے کر مار دیا۔
1921 میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے 13ویں صدر بنے اور 1995 کو ان کے پوتے کو دہشتگرد قرار دے کر مار دیا گیا۔
1964 مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دے دیا گیا۔ ان پر تہمتیں لگائی گئی اور بے دردی سے قتل کروایا گیا ۔
1949 میں احمد چھاگلہ نے قومی ترانے کی دھن مرتب کی اور 1979 میں ان کو اور ان کے سارے خاندان کو ضیاء دور میں پاکستان چھوڑنا پڑا۔
1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی نے ویمن نیشنل گارڈز کی بنیاد رکھی اور 1951 میں ان کو طوائف اور غدار کہا گیا۔
1940 میں فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی اور وہ 1954 میں غدار قرار پائے۔
1947 میں کے-ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کے لئے جدوجہد کی، 1965 میں ان کو سڑک پر گھسیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
1947 کو لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1951 کو وہ بے دردی سے قتل ہوئے۔ ان کی انکوائری رپورٹ حادثے میں جلادی گئی۔
1947 کو قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین لیگ کے پہلے صدر بنے اور 1964 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1947 کو سردار ابراھیم نے کشمیر کی الحاق پاکستان کی مہم چلائی 2009 میں ان کے بیٹے غدار قرار پائے۔
1943 میں جی-ایم سید نے قرارداد لاھور سندھ اسمبلی میں پیش کی، 1948 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1940 میں بیگم سلمی تصدق نے پاکستان اور مسلم لیگ کے لئےمہم چلائی 1960 میں صدر ایوب خان نے ان کو کرپٹ قرار دے کر نااہل کر دیا۔
1946 میں میاں افتخارالدین نےمسلم گارڈز کے لئے اپنا آبائی گھر مختص کیا 1960 کو جنرل ایوب خان نےان کو کرپٹ قرار دے دیا۔
1946 میں حسین سہروردی شہید نے مسلم گارڈز کے لئے تربیت سنٹر بنایا تھا 1960 کو غدار قرار پائے اور بیروت میں قتل کروائے گئے۔
1945 میں والئی قلات احمد یار خان نے قائداعظم کو سونے اور چاندی میں تول دیا تھا 2006 میں ان کے پوتے کو اپنی جان بچانے کے لئے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔
1933 میں چودھری رحمت علی نے پاکستان کا نام رکھا 1951 میں ان کا سب کچھ ضبط کرکے ان کو جلاوطن کر دیا گیا۔
مجھے بتایا / پڑھایا گیا “ جی ایم سید “ غدار ہے مگر جب شعور نے آنکھیں کھولیں تو معلوم ہوا کہ 1943 میں جی-ایم سید نے “ قرارداد لاہور “ سندھ اسمبلی میں پیش کی، اور پاس کروائی یہ الگ بات ہے کہ موقع پرست لوگوں کی وجہ سے 1948 میں وہ بھی “ غدار” قرار پائے۔ ”
“کہتے تھے مجیب الرحمان غدار تھا“
تاریخ پڑھی تو پتہ چلا ڈھاکہ سے لیکر کلکتہ تک جو شخص قیام پاکستان اور مسلم لیگ کے لئے سائیکل پر چندہ اکٹھا کرتا تھا اس کا نام تھا شیخ مجیب الرحمان !
1947 میں شیخ مجیب الرحمن نے مسلم سٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی 1971 میں ان کوغدار قرار دیا گیا۔
جمہوریت کا حامی فاطمہ جناح کا کارکن تھا۔ الیکشن جیت کے اسے فوج اور بھٹو نے حکومت نہ بنانے دی۔ احتجاج پے اسے جیل ڈالا اور بنگالیوں کا قتل عام اور ریپ کیے۔ مجیب آخری وقت تک علیحدگی نہیں چاہتا تھا مگر بنگالی طلبہ اور عوام نے ظالم کی غلامی سے انکار کر دیا
مجھے پڑھایا گیا”حسین شہید سہروردی غدار تھا ، تاریخ میں لکھا ھے موجودہ پاکستان سے بڑے صوبے متحدہ بنگال کی وزارت اعلی کو چھوڑ کر اسمبلی سے قیام پاکستان کا بل منظور کرانے والا شخص تھا حسین شہید سہروردی!
میں نے سنا سندھو دیش کا نعرہ لگانے والا جی ایم سید غدار تھا ۔ تاریخ کہتی ھے 1946 میں سندھ اسمبلی میں قرارداد پاکستان پیش اور منظور کروانے والا شخص تھا جی ایم سید!
مجھے کہا گیا اکبر بگٹی غدار تھا
بلوچستان کی مٹی گواہ ھے 12 سال کی عمر میں بلوچستان کے جرگے سے پاکستان کے حق میں فیصلہ کروانے والا شخص تھا
نوابزادہ محمد اکبر خان بگٹی تھا ۔ ان کی کوششوں سے ہی بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا۔
کہاں تک سنوگے؟؟؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے مگر 2004 میں ایک ڈکٹیٹر نے بہترین قومی مفاد میں اس قومی ہیرو سے قومی نشریاتی چینل پر معافی منگوائی. وہ اخر عمر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ اور آخر کار پاکستان کا محسن منوں مٹی تلے جا سویا۔
نواب آف بہاولپور جن کو قائداعظم ؒ نے محسنِ پاکستان کا لقب دیا. انکے بیٹے مامون الرشید عباسی کے ساتھ ریاست نے وہ ظلم کیا کہ مخملی بستروں پر سونے والوں کو مظفر گڑھ جیل میں رکھ کے کوڑے مارے گئے ۔
اب عمران خان کو بھی راستے سے ہٹانے کے لیے ملک کے مقتدرہ اور اشرافیہ نے میڈیا کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔سنایا کچھ جاتا ہے اور حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ؟
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔“
- عمران خان
“ہماری ون پوائنٹ ڈیمانڈ یہ ہے کی عمران خان کے تمام بنیادی حقوق بحال کیے جائیں اور سب سے اولین ترجیح ان کا فوری طبی معائنہ اور ہسپتال میں علاج ہے۔“
- علیمہ خان، 30 جون 2026
#FreeImranKhan
@Aleema_KhanPK
غربت' حکومتی ٹیکسز اور صفر سہولیات میں زندہ رہنے کیلئے لوگ گھر میں محنت کرتے ہیں 80 سال میں اپنی نوعیت کے واحد واقعہ کو بہانہ بنا کر یہ راستہ بھی بند کرنے جا رہے ہیں۔ پہلے پیرا فورس کے نام پر ہر شہر میں ہزاروں کو بیروزگار کیا گیا اور اب یہ ۔
خود ہمارے ٹیکس پر موج مارتے ہیں۔ 11 ارب کا جہاز لے کر کہتے ہیں"ہاں لیا ہے بھائی "اور ہمارا سانس لینا بھی انہیں گوارا نہیں
بریکنگ نیوز 🚨جین زی چھا گئی، کمال ہوگیا۔ عمران خان پر ڈاکومنٹری بنا ڈالی 🔥🔥
بڑے بڑے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دس سالہ بچے نے 78 سالہ نظام کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے، سب آخر تک دیکھو اور وائرل کردو۔ تُم ہار چکے ہو وہ اگلی تین نسلیں تیار کرچکا ہے۔
آزادی اور موت والا کینٹیر کدھر ہے؟
آپ لوگوں نے بولا تھا عمران خان کی رہائی کی تحریک ہوگی رمضان کے بعد۔۔۔
وہ بھی نہیں ہوئی۔۔۔
اپ لوگوں نے کہا تھا ہو سکتا ہے اٹھ فروری کو ہم کنٹینر نکالیں
وہ بھی اپ لوگوں نے نہیں نکالا۔۔۔
آپ لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں۔۔۔
آپ لوگوں نے بجٹ بھی منظور کرلیا۔۔۔
210 دن ہو چکے ہیں خان صاحب کی ملاقات نہیں ہوئی بہنوں سے
مزید اگر 400 دن. بھی ہو جائیں تو بھی اپ یہی کہیں گے کہ محمود اچکزئی صاحب جو کہیں گے ہم وہی کریں گے
عمران خان کی تحریک کون چلائے گا؟
میرے شفیع جان سے سوالات۔۔۔۔
شفیع جان نے مجھے کہا کہ اپ جو پوسٹیں کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں
کیا میری پوسٹیں قابل مذمت ہیں؟
اگر میری پوسٹیں قابل مذمت ہیں تو یہ سب بھی قابل مذمت ہے جو یہ وعدہ خلافی کرتے ہیں
علیمہ خان کا اہم پیغام: 🚨🚨
"اطلاعات ہیں کہ عمران خان سے ایک 'خاموش ملاقات' کی پلاننگ کی جا رہی ہے تاکہ باہر آ کر سچ نہ بولا جا سکے، اور پھر مستقل طور پر خان صاحب تک رسائی کا راستہ ہی بند کر دیا جائے۔ یاد رکھیں! خان صاحب کا عوام اور پارٹی سے رشتہ کوئی ڈیل یا بند کمرے کی سازش ختم نہیں کر سکتی۔ ہم ڈرنے والے نہیں!"
میں نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کبھی نہیں لکھا۔
ایک احسان کے بوجھ تلے۔
جو اب سے 9 سال قبل ہماری فیملی پر کچے کے ڈاکووں نے کیا تھا۔
7 جنوری 2017 رات 11 بجے میرے والد صاحب اپنی فیملی کو لیکر کراچی ارہے تھے۔
اس دوران ایک ٹرالر نے غلط اوور ٹیک کرتے ہوے پوری سپیڈ میں ہماری کار کو ٹکر دے ماری۔ ٹرالر الٹ گیا۔ اور ہماری گاڑی مکمل تباہ ہو گئ۔
حادثے میں والد صاحب کی جان چلی گئ۔ جبکہ باقی تمام افراد شدید زخمی حالات سے دوچار کشمور کے قریب جنگلات کے درمیان سڑک پر تھے
دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی زات
مجھے کراچی میں صورتحال کی اطلاع ملی
میں کانپ کر رہ گیا کہ وہاں اس ٹایم ریسکیو کون کرے گا۔
پاس میں ڈاکو بھی ہیں ہر طرف۔
شدید پریشان حالت میں نکل پڑا۔
اگلے دن 12 بجے روجہان کے ہسپتال پہنچا۔
مختلف وارڈز میں زخمی پڑے ہوۓ تھے۔
وہاں کے مقامیوں نے بلکل ایسی بھاگ دوڑ کی ہماری مریضوں کے لیے جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
اپنے گھروں کی عورتیں دو دو تین تین ہمارے ہر زخمی کہ خدمت میں لگا دیں۔ میں جیسے ہی پہنچا انہوں نے ایسے گلے لگایا ایسے تسلی دی جیسے وہ میرے گھر کے ہی افراد ہوں۔
فورا سے پہلے ہمارے لیے بہترین کھانا پانی پیش کیا گیا۔
حالانکہ سبھی غریب تھے۔ انکا جذبہ دیکھ کر میرے انسو چھلک پڑے۔۔
تھانے کی بھاگ دوڑ کے دوران ایک مقامی سے پوچھا کہ رات انکو کیسے ریسکیو کیا گیا؟
کہا۔ سائیں تم کوئ نیک لوگ لگتے ہو جبھی اللہ نے سب کے دل میں ہمدردی رکھی۔ رات جب گاڑی کو حادثہ ہوا تب وہ روجہان کی ابادی سے 13 کلو میٹر کے فاصلے پر جنگلات کے درمیان تھے
وہاں ڈاکوووں کے علاوہ کوی نہیں ہوتا۔
پھر ایک مقامی پولیس والے نے بتایا کہ حادثے کے 5 منٹ بعد ہی ہسپتال کے ایم ایس کو ڈاکووں کی جانب سے کال ائ کہ ہمیں اپ کے ہسپتال سے 15 منٹ کے اندر اندر ایمبولینس یہاں پہنچی ہوئ ملنی چاہیے۔
وہاں سے یہاں کا 100 سپیڈ میں 10 منٹ کا رستہ ہے میں 5 منٹ ایکسٹرا دیتا ہوں۔
اس دوران ڈاکووں نے خود کلہاڑیاں اٹھاکر گاڑی کی باڈی کاٹ کر تمام زخمیوں کو نکالا۔ ایمبولینس میں ڈالا اور قریب ترین پولیس چوکی سے رابطہ کر کہ کہا۔ یہاں اکر گاڑی سنبھال لو۔
ہمیں خبر نہیں ملے کہ انکا ایک پیسہ بھی گم ہوا ہو۔ جبکہ ہماری فیملی کے پاس اچھا خاصا سونا موجود تھا۔ تھانے سے مجھے متعلقہ چوکی جانے کا کہا گیا۔ وہاں ایک ایک چیز مجھے حوالے کی گئی۔
ہفتہ بعد میں کیس کے سلسلے میں پھر گیا تو مجھے پھر سے چوکی بھیجا گیا
وہاں ایک پولیس افیسر نے مجھے اپنے افس لے جا کر دو کلو اخروٹ کا ایک تھیلا تھماتے ہوۓ معذرت کی کہ یہ اس دن میں دینا بھول گیا تھا۔
میں اج تک یہ حالات یاد کرکہ پر نم انکھوں سے ان سبھی افراد کو دل سے دعا دیتا ہوں۔
اللہ انکو ہدایت دے
ظلم کے رستوں سے شرافت اختیار کرنے کی توفیق دے۔۔
۔
نعمان احمد خان
جنرل عاصم منیر کے کیریئر میں مسلسل یہ بات رپورٹ ہوتی رہی کہ وہ ذہنی مریض ہے مگر ان رپورٹوں کے باوجود وہ ترقی کے زینے چڑھتے گئے بطور DGISI یہ ذہنی مریض جب ایران گیا تو اس ذہنی مریض نے ایرانی حکومت کے بارے میں کوئی بکواس کی جس کی شکایت ایرانیوں نے کی تو عمران خان نے اس ذہنی مریض کو عہدے سے ہٹا دیا تھا ! احمد نورانی ۔
کیڈٹ کالجز بھی ایک کینسر ہے!!
یہاں پر بس بچوں کو ڈیسپلن کے نام پر غلام بنائے جاتے ہیں, ایک مخصوص ذہن کے ساتھ انکو رکھا جاتا ہے!!
پوری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے بڑی بڑی یونیورسٹیز بنائی جاتی ہے, جبکہ پاکستان میں؟
“Thank You, Skipper!” - 1992
Built hospitals, universities and stood for justice.
Only an imbecile would jail Pakistan’s hero for personal benefit today.
#WhereIsImranKhan#ReleaseImranKhan