سہیل آفریدی چیف منسٹر اس لئے آئے تھے تاکہ عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی تنظیم بنائیں کوئی تحریک چلائیں، اس لئے نہیں آئے تھے سہولیات کو بڑھائیں اور عیاشیاں کریں، اس لئے انہیں سی ایم بنایا گیا تھا، انہیں خان صاحب نے چنا تھا اور خان صاحب کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ سادہ آدمی ہے وہ تو بالکل کی اس قسم کی چیز کی منظوری نہ دیتے ، اگر وہ ہوتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ نہ کرتے بلکل نہیں، وہ اپنے لئے سہولیات نہیں لیتے تو ان کیلئے کیا لیتے ، مگر ان کو شرم نہیں ہے کہ انکا لیڈر اتنا سادہ آدمی ہے اور شکایت نہیں کرتا، I'm Actually Shocked، مگر جب اس قسم کی چیز ہوتی ہے تو یہ سب مل جاتے ہیں، نجم سیٹھی
آزاد کشمیر میں بھی وہی مسئلہ ہے جو لال مسجد میں ہوا تھا جنرل پرویز مشرف نے اٹیک کیا تھا بچوں کی لاشیں غایب ہو گئی تھیں ٹرکوں میں لے جا کر
اسلام آباد کالج کے نیچے کھدائی کرکے کیمیکل ٹریٹ کرنے کے بعد لاشیں وہاں پر دبا دی اس کے بعد 71 خودکش حملے ہوۓ تھے پاکستان کی فوج کے اندر
26 نومبر2024 کو بھی 105 لاشیں غایب کی گئیں اب الزام لگایا جا رہا ہے کشمیر کے ہسپتال میں 56 زخمی تھے لاشیں نہیں ملیں
عادل راجہ
@ImranKhanPTI یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
اب سب کو سڑکوں پر نکل کر تحریک کا حصہ بننا ہوگا اچکزئی صاحب ایک سال گزرنے کے باوجود ایک روزہ احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے ہم سب مل کر عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں گے پھر ہم سب مل کر عمران خان کی رہائی یقینی بنائیں گے
شہادت قبول ہے ڈر قبول نہیں
علیمہ خان
سوات کے دورے کے دوران اپر دیر کے علاقے اخگرام میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان عوامی تحریک کی قیادت کرتی ہوئی
اب جب علیمہ خان مجبوری میں اپنے بھائی کے لیئے نکلی ہیں تو علی محمد خان اور اس جیسے اور بہت سے اپنے اپنے کرنل کے سائے میں نکلیں گے۔ علیمہ صاحبہ کے ساتھ بھی لوگ لگ جائیں گے اور پھر آخری موقعہ پر کوئی بھی بہانہ بنا کر کہ “علیمہ ایسی ہیں اور ویسی ہیں، ہم نے تو یہ سمجھا تھا اور وہ سمجھا تھا یہ تو ایسی نکلیں وغیرہ وغیرہ“ نکل جائیں گے اور ان کا زور توڑیں گی۔ ہو سکتا ہے اس کام کے لیئے ایک عدد ملاقات بھی کروا دی جائے۔
بریکنگ نیوز 🚨کوئٹہ سے انقلابی مناظر 🔥🔥
کوئٹہ میں ہزاروں لوگوں دھرنا دے کر ڈٹ گئے۔ یہ مناظر آپ کو کنٹرولڈ میڈیا کبھی نہیں دیکھائے گا کیونکہ انکو حکمنامہ ملا ہے خبردار تُم نے اس دھرنے کو کوریج نہیں دینی۔
مشرف بھی بہت طاقتور تھا!!
آج مشرف اس دنیا میں نہیں رہا, لیکن مشرف تم سے زیادہ بہادر تھا, تھماری طرح اردلی کے پیچھے نہیں چھپتا تھا, ذہنی مریض تمھارا انجام مشرف سے بدتر ہوگا!!