ہر وہ سرکاری افسر اور اس کا ادارہ، جج ،مولوی ، صحافی یا کسی بھی اور طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص جو عمران خان سے نفرت کرتا ہے
حرامدہ ہے، حرامدہ ہے، حرامدہ ہے
دلا ہے بغیرت ہے ب چود ہے
@AliAminKhanPTI@sherafzalmarwat@OmarAyubKhan
This decision is not only ridiculous and unacceptable but goes against the principles PTI stands for. Immediately reconsider and rectify.
شیر افضل کے بھائی کی وزارت نہیں بنتی۔
ہر ورکر جب اس پر اعتراض کر رہا ہے تو کیوں ایکشن نہیں لیا جا رہا؟
کل اندرونی طور پر بھی کہا گیا تھا لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا مجبورا پوسٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
انکو ہٹائیں۔یہ فیملی لیمیٹڈ پارٹی نہیں ہے۔
@AliAminKhanPTI@OmarAyubKhan
غزوہ اُحد مسلمانوں کی جیتی ہوئ جنگ تھی۔ لیکن باوجود اس کے کہ آنحضرت (ص) کی واضح تاکید تھی کہ نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے، مسلمانوں کی توجہ مالِ غنیمت پر مبذول ہونے نے انہیں شکست کی دہلیز پر پہنچا دیا تھا۔ پیغمبرِ خدا میدان جنگ میں تھا، اللہ کی قدرت میں تھا کہ اُس کی فوج کہ جو صحابہ (رض) پر مشتمل تھی اُن کی غفلت کو نظرانداز کردیتا لیکن اللہ نے اُن کی زندگیوں کو رہتی دنیا کے لیے مثال بنانا تھا اور سو انہیں اپنی اس غفلت کا نقصان بھی اٹھانا پڑا، ہم کیا نعوذباللہ اُن سے معتبر ہیں جو ہماری غفلتیں بنا خمیازے کے درگزر ہونگی؟
سالوں پہلے جب ہم سے کافی عمر اور تجربے والے اونچے قد کھاٹ کے لوگ فیصلہ سازی کی محفلوں میں بیٹھے ہوتے تو عمران خان ہماری حوصلہ افزائی کرتے کہ ہم اپنا مؤقف بیان کریں اور ہمیں موقع دیتے کہ ہم ایک دوسرے کو قائل کریں۔ پارٹی میٹنگز میں گرما گرم بحثیں ہوتیں، مونہوں سے جھاگ نکلنے لگتی، آنکھیں ابل پڑتیں، یوں لگتا تھا سامنے والا ابھی دوسرے پر جھپٹ ��ڑے گا۔ خدا گواہ ہے کہ یہ نوبت کئی کئی بار آئی۔ اور یہی جمہوریت ہے۔ یہ تحریکِ انصاف کا ہی ��اصا رہا ہے کہ ہر شخص اپنا مؤقف کھل کر بیان کرتا ہے، جوش سے بیان کرتا ہے اُس پر ڈٹا رہتا ہے، اُس کے لیے لڑتا ہے۔ مگر ہمیشہ اُس مرحلے سے گزرنے کے بعد ایک بار جب فیصلہ ہوجاتا تو اُس پر ایک ٹیم کیطرح عملدرآمد ہوتا۔ کئی بار درونِ خانہ ہم جن فیصلوں سے اختلاف رکھتے تھے باہر آکر اُن کا دفاع کیا کیونکہ وہ تمام تر بحث مباحثے کے بعد سب کا مؤقف سننے کے بعد اکثریت کا اور مشاورت سے منظور کیا فیصلہ ہوتا تھا۔ ڈسپلن اسی کو کہتے ہیں۔
اندر خانے ہونے والا بحث مباحثہ، اختلاف شازو نادر ہی آپ کو “میرے ذاتی رائے کے مطابق” کے لبادے میں میڈیا پر سننے کو ملتا۔ اور جو اشخاص “میری ذاتی رائے” کے خبط میں مبتلا دکھتیں ان کے بارے میں خان صاحب کی رائے بھی بہت واضح تھی۔ ان کا ہمیشہ سے ہی موقف ہے کہ میں بڑے پلئیر پر ٹیم پلئیر کو ترجیح دونگا۔ کرکٹ کے زمانے سے وہ اِس بات کے قائل تھے کہ بہت بڑے قابل کھلاڑی بھی ا��نی ٹیم کے لیے ضائع ہوتے ہیں کہ جب وہ ذات کے لیے کھیلتے ہیں، جن کی پرواز اپنے آپ تک محدود ہوجاتی ہے۔ جب آپ کے سامنے مقصد بڑا ہوتا ہے تو آپ “میں” کو تیاگ دیتے ہیں، ٹیم بن کر کھیلتے ہیں۔
آپ کی خصوصیات، ایک کا اچھا بولنا، دوسرے کی معاملہ فہمی، تیسرے کا کراؤڈ پُلر ہونا آپ کے مقصد کے لیے تب ہی فائدہ مند ہے اگر آپ مل کر کھیلیں۔ ایک دوسرے کی خامیوں اور کمیوں کو نہیں ایک دوسرے کی strengths کو اجاگر کریں۔ ہمیں بحیثیت کارکن یہ سمجھنے کے ضرورت ہے کہ ہم اِس وقت افراد نہیں اس قوم کی امید ہیں۔ ہم جیتے ہوئے معرکوں میں مالِ غنیمت کی تقسیم پر دست و گریباں ہوکر اُس جنگ کو ہارنے کا سبب نہیں بن سکتے جس جنگ میں ارشد شریف اور ظلِ شاہ جیسے لوگ اپنی جانوں سے گئے۔ جس جنگ میں عمران خان اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر اترا ہے۔ جو جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اُس کی آزادی اور حمیت کی جنگ ہے۔
میرا اپنے پارٹی لیڈران کو بھی برادرانہ م��ورہ ہے کہ گذشتہ دو سال کے حالات اور واقعات سے سبق حاصل کریں۔ بہت بڑے بڑے نام تھے کسی نے عمران خان کی حکومت بنائی تھی۔ کسی نے چلائی تھی۔ کوئی خود کو اُس کا سیاسی گرو سمجھتا تھا، تو کوئی اُس کی کامیابی کا ضامن تھا۔ آج کہاں ہیں وہ؟ آپ اپنے تئیں بہت بھی بڑے لیڈر ہوں، مجھ سمیت ہر شخص یہاں relevant تب تک ہے جب تک وہ عمران خان کے نظریے پر کاربند ہے۔ ہمارا مقصد عمران خان، بشری بی بی اور اپنے کارکنان کی رہائی اور اپنے مینڈیٹ کی واپسی ہے۔ ہمارے لیے ہر وہ آواز معتبر ہے جو ہمارے مقصد سے مطابقت رکھتی ہے۔
ہر جنگ میں مالِ غنیمت کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ہماری جنگ میں اس وقت مال غنیمت کے طور پر عزت، شہرت اور عہدے پھیلے پڑے ہیں۔ فیصلہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم نے وقتی فائدے سمیٹنے ہیں یا بروقت سبق حاصل کرکے اپنی جنگ انجام کو پہنچانی ہے
۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت جب ٹکٹس کے فیصلے ہورہے تھے تو اُس وقت کے پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے میرے ٹکٹ کی بھرپور مخالفت کی۔ “نوجوان ہے، سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، نا اپنا کوئی ووٹ ہے نا خاندان کا”۔ صرف ایک شخص تھا جس کو یقین تھا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اِس تبدیلی کا “پوسٹر بوائے” بننا میرے حصے میں لکھا گیا۔ کافی بڑے گھروں میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ ان کی نسلوں کے مستقبل کا سوال تھا۔ الزامات کی بوچھاڑ، جعلی ڈگری سے لیکر غلیظ ذاتی حملے ہ��ئے۔
اگلی حکومت میں عمران خان نے پھر اسی ذی شعور اعلی قیادت کے مخالف جاکر سب سے بڑے بجٹ والی وزارت سونپ دی۔ بڑی بڑی کرسیوں پر لوگ تلملائے۔ اللہ کا کرم تھا اُس نے مجھے عمران خان کا اعتماد قائم رکھنے کی توفیق دی۔ دہشت گردی کی واپسی پر میرا سٹینڈ اور ۹ مئی کے بہانے تو بعد میں ہاتھ آئے کہ جن کے ذریعے مجھے انتخابات سے مائنس کرنے کا جواز ڈھونڈا۔ “ڈی چوک پر پھانسی” کی دھمکی تو باجوہ صاحب نے مجھے مارچ ۲۰۲۲ میں ہی پہنچا دی تھی۔ اور یہ ضروری بھی تھا، میرا نشانِ عبرت بننا ضروری تھا۔مگر مس کیلکولیشن ہوگئی۔ ہم سمجھاتے رہ گئے مگر اپنے گھمنڈ میں سمجھ نہیں پائے۔۔وہ بات جو عمران خان جانتا تھا، جو یہ سمجھ نہیں پائے کہ میں تبدیلی کا پوسٹر بوائے ضرور تھا فقط میں ہی تبدیلی نہیں تھا!
عمران خان نے ہزاروں کی پود اپنے ہاتھوں لگائی تھی۔ اور اُن ہزاروں کے بعد لاکھوں تیار ہیں۔ میں نہیں لڑا۔ میرے ایک یونین کونسل کا ورکر اِن خ��ائی کے دعویداروں کے حمایت یافتہ امیدوار سے تاریخی لیڈ لے گیا۔
جن خاندانوں کو اتنے سال گھاک سیاست دان نہیں ہرا سکے آج اُس بلور خاندان سے جیت کر یوتھ ونگ کا صدر مینا خان آفریدی حلف لے رہا ہے۔ جس فاٹا کی نشستوں پر ایک خاندان سے ��وسرے خاندان کی باریاں لگتی تھیں اُس کے نمائندگی میرے بازو سہیل آفریدی کے پاس ہے۔ وہ جس کو پختونخواہ میں عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے کا دعوی تھا، اُس کی رعونت پر آخری فاتحہ پڑھنے والا شاہ احد میرے آئ ایس ایف کا نوجوان ہے۔ پختونخواہ میں مسلم لیگ کے آخری قلعہ ہزارہ پر یوتھ ونگ کے اکرام خان غازی نے انصاف کا پرچم لہرایا، شیر علی آفریدی، شاہد خٹک، اب کتنوں پر کاٹا لگانا ہے؟
مجھے انتخابات سے باہر کر دیا اور میدان سے بھی ہٹنے پر مجبور کردیا لیکن شور کم ہوا کیا؟ مجھ سے اونچا بول رہا ہے صدام ترین، پارلیمان میں جگہ بناتے تو شاید اُسے سال لگ جاتے مگر اُس کا حق چھین کر آپ نے ��ُس کی آواز دنوں میں گھر گھر پہنچا دی۔ قاسم خان سوری نہیں ہے، تو سالار کاکڑ ہے آپ نے اُس کا مینڈیٹ جس کو بھی دیا عوام کے لیے تو وہی نمائندہ ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ عالمگیر محسود اور ارسلان گھمن کو قیادت سے دور رکھا تھا، اپنے ہاتھوں ان کا راستہ صاف کردیا۔ آج ان کی سیٹیں لے کر اوروں کی جھولی میں ڈال بھی دیں تو کون سی کسی نے عزت سمیٹ لی اور کون سی ہار انہوں نے تسلیم کرلی؟
اور یہ تو وہ نام ہیں جو ہم سُن رہے ہیں۔ دو سال سے پارٹی کو کون زندہ رکھے ہے؟ عمران خان تو چھ مہینے سے جیل میں ہے، مجھ سے فسادی بھی منظر سے غائب ہوگئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہ بڑے بڑے نام توڑ دیے؟ “لیڈر” لیڈر نہیں رہے۔ کوئ ہرس و حوس میں لُڑک گیا۔ کوئی جبر کے سامنے ہار گیا۔ کسی نے گھر بار کی عزت بچائی تو کوئی آل اولاد کے نام پر ٹوٹ گیا۔ ایک سہارہ تھا انتخابی نشان کہ کھمبے کو بھی ملا تو لوگ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے وہ بھی لے لیا۔ پھر کون تھا کہ جس نے گاجر، مولی، گائے، بھینس، چمٹے، پیالے گھر گھر پہنچائے؟ پاکستان کی عوام، بچے بچے کو ازبر تھا کہ عمران خان کا نشان کون سا ہے! فقط جوان نہیں۔۔ ۸-۱۰ سال کے بچوں کو بھی علم ہے کہ عمران خان کیا ہے!
ایک مراد سعید خاموش ہوا تو اتنی زبانیں کھل گئیں۔ اتنی زبانیں کھینچوگے تو کتنے سر گویا ہونگے کوئی اندازہ ہے؟
آج سے دس سال پہلے ایک بڑے صحافی کا فون آیا تھا، دُکھی تھا، ایک بہت بڑے سیاست دان نے کہا تھا “دیکھو! یہ کیسے لوگوں کو لے آیا ہے عمران خان پارلیمان۔ اب یہ بیٹھیں گے ہمارے برابر؟”۔ آج اور بھی تلملا رہا ہے، عمران خان نے اُس کے ولی عہد کی تاج پوشی کے امکانات خاک کردیے۔ بہت سوں کے قدموں تلے سے زمین سرکی ہے ابھی جبر کے ہاتھوں سے تھامے ہیں تو نہیں لگ رہا، جب ہاتھ تھک جائیں گے (جو کہ تھکیں گے کیونکہ انہیں بڑا بھی خدائی کا دعوی ہو، ہے یہ انسان ہی) تو گمنامی کے اندھیروں میں گُم ہونے کی خواہشوں کو زباں ملے گی۔ تب تک جمے رہنا ہے۔ منزل پر نظر رکھنی ہے۔ اپنا حق واپس لینا ہے۔ برابر نہیں برتر ہو تم۔ مالک ہو تم۔
السلام علیکم میری ٹویٹر فیملی کے دوستو۔۔۔!
الحمداللہ آپ لوگوں کی سپورٹ اور دعاؤں کی وجہ سے آج ایک عام وکیل ہزاروں لوگوں سے مخاطب ہے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنے کپتان سے مُلاقات تھی الحمداللہ جو کم عمری میں پوری ہوئی بیشک اس سب میں والدین کی دعائیں شامل ہیں ۔میری آج آپ سے ایک درخواست ہے ہمارے ورکرز نے جو قربانیاں ان دس ماہ میں دی ہیں انکو یاد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ہم ماؤں بہنوں اور بزرگوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے آج ہمارے پڑھے لکھے نوجوان جیلوں سے رہا ہو کر ب�� روزگار ہو چُکے ہیں انکی نوکریاں جا چُکی ہیں اور ان جھوٹے مقدمات میں نامزد ہونے پر اب انکو اچھی jobs ملنا ناممکن ہے ۔آپ سے حلفاً کہتا ہوں یہ لوگ باشعور اور ذہین ہیں یہ اپنی فیملیز کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اگر آپ کے پاس کوئی CV لے کر آئے تو خدارا انکو منع مت کیجے آپکو ان رہائی پانے والے لوگوں کی ہر قسم کی گارنٹی دینے کے لیے میں تیار ہوں ۔آج مجھے دُکھ ہوا کہ ہمارے ایک ورکر کو جو 5 ماہ قید رہا اسے نوکری سے اسوجہ نکال دیا گیا کہ لاہور میں اسکی شخصی ضمانت دینے کے لیے کسی نے حامی نہ بھری ۔وہ آج مایوس ہو کر واپس اپنے علاقے جا رہا تھا اور فون پر کہنے لگا جب کپتان کو ہماری ضرورت پڑے گی ہم دوبارہ قربانی دیں گے۔الحمداللہ میری درخواست پر ایک صاحب نے انکو بطور ڈرائیور اپنے ساتھ رکھ لیا ہے آپ بھی ایسے لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔ اللہ کریم ہم سب کے حال پر رحم فرمائے آمین
We need to admit that the PTI leadership could have handled the post elections scenario in a much better way.
Mistakes were made and lessons must be learned. However, people need to understand that not everyone is a leader like Imran Khan.
People have limitations. We have no confirmation of anyone being compromised or deliberately trying to sabotage the party.
Most of the rumors are based on speculations, ironically made by the emotional well-wishers of the party. The need of the hour is to stay united and keep our focus on the following points:
1- Getting Khan out of Jail ASAP
2- Keep fighting to take our stolen mandate back from the thieves
3- Keep highlighting the rigging and dirty role played by the departments
4- Keep the international media engaged.
5- Last but not the least “Ghabrana nahi hai”
@MichaelKugelman Why would it have no value? He is democratically elected leader with majority in 2 provinces and center. Our mandate has been stolen and mandate thieves are being imposed on us. Instead of being hypocrite, u should raise voice for democracy or keep ur trap shut.
Sure as hell better than being a poster child for corruption and drawing room deal making !
Bhutto was the ultimate populist with "Maangta hai har insaan, roti kapra aur makaan” (its another matter Sindh is still waiting for deliverance)
Benazir Bhutto also took the populist path with with "na pir ka, na ka Mir ka, vote Benzair ka"
HRK's issue isn't with populism and nor should it be, it's with the fact that PPP no longer holds the mantle.
They've shaken off their traditional role and become a party of the status quo, by the status quo and for the status quo.