ملک میں نئے صوبوں کےقیام کے لئے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔
الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے ک�� جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے، انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتا رہا کہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتالیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی،آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کےلئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔آج ڈی جی ISPR کہہ رہے ہیں کہ1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اُس وقت چار صوبےتھے،آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سےزائد ہوچکی ہے، پھر بھی چار صوبے ہیں ،لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف کی تقریر کےجواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کےقیام کو قطعی ناممکن اور out of question قراردیا ہے، پیپلزپارٹی کےبعض رہنماؤں نے تو اسے سندھ کی تقسیم قرار دیکر یہاں تک کہہ دیاہےکہ”نئے صوبے بناکر دیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیاہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے تو صوبے بناکر دکھائے۔اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی ان دھمکیوں کانوٹس لیں گےیانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کےلئے یہ دلیل دیتاہےکہ آپ تویہ کہیں گےکہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈگورننس اورملک کی ترقی کےلئےمزید صوبے بنارہے ہیں،جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم د�� سال کےلئےنافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزر جانےکےباوجود بھی کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔
اور پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کےنام پر سندھ کی تقسیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہےکہ کوٹہ سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنافذ کیا تھا، اگردیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی اور جائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی یہ تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سےتعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔
سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کےلئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کےلئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کےلئےنافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کےوڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہےجنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقا��لوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہےاور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔وڈیروں نے سندھ کےنام پر بہت کمایا ہےجبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کےلئے روٹی تک نہیں ہے۔
فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی سسٹم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسر آئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔
میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گا کہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 440 ویں فکری نشست سے خطاب
یکم اگست 2026
📌محسن نقوی کی اپنی اتنی اوقات نہیں کہ اتنا بڑا بیان دے سکے۔ قاصد یا ٹاؤٹ کا کام صرف پیغام رسانی ہوتا ہے۔ درحقیقت صاحب اقتدار حلقے ضیاء الحق کی طرز پر ایک ریفرنڈم کروانا چاہتے ہیں۔ جس کے نکات پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو قطعی منظور نہیں ہوں گے لیکن سر تسلیم خم کرنے کے سوا اِن دونوں جماعتوں کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ عوامی وؤٹ سے تو اقتدار میں یہ جماعتیں آئی نہیں ہیں۔
📌خیر قصہ مختصر شہری سندھ کے حوالے سے کسی بھی قسم کے اقدام سے پہلے بانی و قائدتحریک جناب @AltafHussain_90 کو آن بورڈ لینا انتہائی اہم ہے کیونکہ پچھلے تجربات کی مسلسل ناکامی یہ سمجھانے کے لئے کافی ہونی چاہیے کہ آج بھی شہری سندھ کس جمہوری شخصیت کا دم بھرتا ہے اور کون عوام کا حقیقی نمائندہ ہے۔۔!!
🟥🟩⬜🇧🇬
@OfficialMQM
#NEW: Toronto police have issued a Canada-wide warrant for 29-year-old Gangadhar Babu, who is accused of posing as a psychic, fortune teller and spiritual healer to allegedly scam a victim out of more than $800,000 before fleeing to India 🚨
आज बाल गंगाधर तिलक का जन्मदिन है इसका कोई एक काम बता दो जो राष्ट्रहित में किया है, इन्हें ब्राह्मणवादी इतिहासकारों ने क्रांतिकारी बताया क्योंकि यह ब्राह्मण थे 🔥
1889 में, बंगाल में नाबालिग लड़की फूलमोनी दासी की मौत हो गई; शादी की रात उसके 35 वर्षीय पति ने उसके साथ जबरन शारीरिक संबंध बनाए थे, जिससे उसे गंभीर आंतरिक चोटें आईं और उसकी मौत हो गई,
इस घटना पर हुए आक्रोश के कारण 'एज ऑफ़ कंसेंट एक्ट, 1891' बना, जिसके तहत 12 साल से कम उम्र की पत्नी के साथ यौन संबंध बनाना बलात्कार माना गया, बाल गंगाधर तिलक ने Age of consent act 1891 का विरोध किया यह कहकर कि यह हमारे हिन्दू धर्म के खिलाफ़ है,
बाल गंगाधर तिलक ने विधवाओं के पुनर्विवाह पर भी आपत्ति जताई और इसे हिंदू धर्म की परंपराओं में दखल माना, तिलक ने महिलाओं की वैदिक शिक्षा पर भी आपत्ति जताई, उन्होंने महात्मा फुले द्वारा बहुजनो के लिए खोले गए स्कूलों को भी राष्ट्र के लिए खतरा बताया ।
سچائی وہ ہوتی ہے جس کا اعتراف آپ کا ناقد اور مخالف بھی کرے۔ اگر اختلاف رکھنے والے بھی کسی حقیقت کی تصدیق کریں تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اصل راستہ یہی ہے کہ عوام کو اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا آزادانہ حق دیا جائے۔ جمہوریت اسی کا نام ہے۔
ایم پی اے معاذ محبوب کا میر علی رضا کے انصاف کیلیے ہونے والے احتجاج میں بیان، کتا تلاش کرنے کیلیے پولیس فورس لگی، 10 ماہ میں 4 ارب کے چالان کیے مگر کریمنل نہیں پکڑے جارہے، صرف چھ ماہ میں 9 ہزار موبائ�� چھن گئے
#ZarayeNews #Karachi #justiceformiraliraza
یہ والا قافل حرامی نسل پرست SPSC میں پیپلز پارٹ�� کی سندھی اشرافیہ کی جانب سے غریب سندھی پڑھے لکھے نوجوانوں کا حق مارے جانے پر ایک لفظ نہیں بولا تھا، مگر سندھ کی تقسیم کا واویلا کر کے سندھی نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ اشرافیہ ہمیشہ انہیں غلام بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ https://t.co/LhbmmCV8Is
کاش کہ اس وقت کام کرنے والے نوٹ کر کے سمجھ گئے ہوتے کچھ عمل کیا ہوتا۔۔۔ یہاں تو ہوا تو کیا۔۔۔ اس جلسے کے بعد آپریشن کہ کہیں یہ سوچ کراچی سے نکل کر لاہور تک نہ پہنچ جائے 🙄
On 7th November; 1966, RSS-Janasangh led a mob of thousands to attack policemen in front of parliament, resulting in death of one cop!
But we never saw such propaganda including family members of policemen!
What a shame!
Blood of cops on the hands of @RSSorg & @BJP4India 🤮
🚨 New marriage visa fraud scam: marry a US Army Veteran. Megha Mitch shares public video on how she got her Green Card in 2 months & shows off her Green Card. Indian women are marrying American veterans to get Green Cards fast. Who is approving visa fraud at @USCIS@USAndIndia?