فوج کو شرم آنی چاہیئے کہ ایک ایسی گھٹیا، منافق، نسل پرست اور متعصب عورت کو ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط کیا جو ملک کے دشمن کو اپنا کہہ رہی ہے اور اپنے ملک کے ایک صوبے کو دشمن کہہ رہی ہے، مودی اتنا تمہارا یار ہے تو جاؤ بھارت اس کی گود میں بیٹھ جاؤ یہاں کیا کر رہی ہو۔
عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ یہ جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا موڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
نواز شریف TV پہ الشفا ہسپتال کی گلیاں دیکھ رہے تھے اور گہری سانس لینے کے بعد کہا
میری واری تے اک پین چود پٹواری بھی نہیں نکلا تھا اور ڈھڑام سے گر کر مر گئے