کاش ایسی پوسٹ کرنے سے پہلے لوگ تاریخ کا مطالعہ کر لیتے ۔ علامہ 1938 میں انتقال کر گئے ، اس وقت تک پاکستان کا نام کبھی کسی تحریک میں استعمال نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ 1940 کی قرارداد لاھور میں بھی پاکستان کا نام نہیں بلکہ مسلمانوں کی آزاد ریاست کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ چوھدری رحمت علی نے لندن میں 1933 میںُ ایک چھوٹا سا پمفلٹ لکھا تھا جس میں آزاد مسلمان ریاست کا نام پاکستان تجویز کیا گیا تھا مگرپاکستان نام کو برصغیر میں 1946 کی الیکشن میں پہلی دفعہ استعمال کیا گیا اورکمال ہے کہ اس جھوٹے خط میں علامہ اقبال بارہ سال پہلے پاکستان کا نام لکھ رہے ہیںُ
سوال یہ ہے کہ قوم کے اندر ایک محکمہ ہے جسکو کوئی ذمہداریاں دی گئی ہیں اسکو ہم نے بندوق ہاتھ میں پکڑا دی یے تو وہ ہمارے سینے پر رکھ کر یہ کہتا ہے کہ جو نظام میں بتاؤں گا اسکے مطابق تم اس ملک کو چلاؤ گے - جاوید احمد غامدی
بہترین سوال: آپکی فیلڈ کیا ہے؟
بہترین جواب:"فیلڈ مارشل"
میری فیلڈ۔۔ مارشل۔۔😉
تم لوگوں کو آزادی کے معنی بھی نہیں معلوم۔۔!
مجھے آزادی کا مطلب معلوم ہوتا تو میرا انتقال 1948 میں ہو چکا ہوتا
دو لیجنڈ۔۔۔ہمارے ماضی، حال اور شاید ہمارے مستقبل کی صحیح عکاسی کرتے ہوئے
سرلنکا نے انگلینڈ کے چار سو 400 سے زائد رنز کا ہدف چیس کیا اور دنیا کی دوسری ٹیم بن گئی جس نے چار سو 400سے زائد رنز کا ہدف حاصل کیا ہو۔
#EnglandCricket#SriLankaCricket#SlVsEng
مین اسٹریم پاکستان، بالخصوص پنجابی انٹلیجینشیا، ہر وقت یہ دلیل دیتی ہے کہ پختونخوا اپنی اسٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے جل رہا ہے، اور اس طرح ریاست کے کردار اور مداخلت کو یکسر نظرانداز کر دیتی ہے۔ اس کا جواب محسن داوڑ کے اس ویڈیو کلپ میں ملاحظہ کیجیے۔
Mashar Afrasiab Khattak has a profound understanding of Pakistan’s complexities and the root causes of its challenges. He has articulated these underlying issues in brief yet comprehensive terms.
#MasharAfrasiabKhattaksab#NDM#NSM
If I tell of the sorrows in my heart;
It will burn my tongue
If I keep in my heart ; I am afraid it will burn me from inside but if I let it out ; I afraid it will burn the whole world . I cannot let it out ; So I let my sorrow stay inside
😡یہ جرم ایسا نہیں تھا کہ سر تن سے جدا کر دیا جاتا۔ یہ صرف خارجیوں کا تصور اور نظریہ ھے😡
یہ نئی نویلی دلہن اپنے شوھر کے ساتھ اگر ہنی مون منانے جاتی تو شاید زندہ بھی رہتی اور خوشحال بھی۔
لیکن انہوں نے ہنی مون کے بجائے عمرہ کا انتخاب کیا اس سوچ سے کےنئی زندگی کا آغاز خدا کے گھر سے کیا جائے۔
لیکن سعودیوں نے اس نئے نویلے بنگلادیشی جوڑے پر توہین کا الزام لگا کر سر تن سے جدا کردیا۔
کیونکہ اسکے خاوند نے کسی مسجد میں اپنی ھمسر کے ماتھے کو چوما اور کسی پاکستانی دلال نے ویڈیو بنا کر سیکیورٹی اہلکاروں کو بھیج دی۔
اگر اس گناہ کی یہ سزا ہے تو ٹرمپ کے اگے عورتیں نچوانے والے اور کعبہ کی شبیہہ پر شکیرا کو نچوانے والے کیوں زندہ ہیں۔
اس نام نہاد توحید کے نام پر امریکہ و اسرائیل کے دلال ملک نے رونالڈو کو سائن کرنے کی خاطر ملکی قانون کو بدل دیا تھا جسکے مطابق بغیر نکاح کے ریلیشن میں رہنا بھی جائز قرار دیا گیا۔
لیکن چونکہ یہ غریب تھا شاہی حکم پر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا
آل سعود کی بادشاہی میں یہود کعبتہ اللہ میں گھومتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو زبح کردیا جاتا ہے۔۔