خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
راشن جو آ رہا تھا وہ افسر کے گھر گیا
روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی۔۔
فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا۔۔
چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے۔۔
حاکم نے کہہ دیا کہ کچھ کھا کے مر گیا
@SHABAZGIL@MaryamNSharif@CMShehbaz
وہ تمام سوشل میڈیا کے لوگ جنہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بھگوان بناۓ ہیں جو سیاسی لوگوں کے اور عہدے داروں کے گروپس میں ہیں اور ان کو فیس سیونگ دیتے ہیں وہ خان صاحب کی قید کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے اس پارٹی کے نام نہاد عہدے داران اور پارلیمنٹیرینز ❗
“My message to the entire nation, to my workers and the party leadership is that your captain is still standing tall with his head held high. Have no fear.”
Message from Former Prime Minister , Imran Khan, (19 August 2025)
موٹر سائیکل کا پیٹرول مہنگا ہے جبکہ جہاز کا پیٹرول سستا ہے۔ یہ دنیا میں کہاں ہوتا ہے؟ جہاز کا پیٹرول اس لیے سستا ہے کہ انہوں نے اور ان کے بچوں نے عیاشی کرنی ہوتی ہے۔
عمران خان کے امیدواروں کو بغیر نشان لوگوں نے لاکھوں ووٹ دیے۔ جس وزیراعلیٰ کی بات کرتے ہیں اس نے 28 ہزار ووٹ لیے جبکہ میری لیڈ 40 ہزار کی تھی۔ فارم 47 والوں سے کہتے کہ انہیں ایک لاکھ ووٹ تو دے دیتے تاکہ لوگ مان جاتے۔
خیال احمد کاسترو
@chaudhry_khaula اللہ اس کے ساتھ آپکو بھی غرق کرے اپکو سارا ظلم بھول بھی گیا جو انہوں نے عوام پہ کیا ہے اشرافیہ کا یہ ہی مسئلہ ہے اپنے کسی پہ آئے تو فوراً دعائیں
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
@DurraniViews یہ سب تو اپنے اپنے گھر میں رہتے ہیں
لیکن ٹکلے تمھارے گھر میں تمھاری باجیوں کے پاس عسکری ٹاوٹ جو رہتے ہیں وہ بھی ہم جانتے ہیں لعنت ہو تم پہ
Imran Khan and Bushra Bibi remain illegally imprisoned and are being subjected to systematic psychological and physical torture through unlawful isolation.
For the past seven months, Imran Khan has been kept in solitary confinement. He has been denied access to his family, his personal doctors, and even basic human rights including books, which he has not been allowed for the last five months.
At this moment, our primary demand is clear: Imran Khan must immediately be shifted to Shifa International Hospital for comprehensive medical examinations and proper treatment for his eye condition.
Today, the 12th of May, CM Sohail Afridi, along with the entire KP Assembly, members of the Punjab Assembly, members of the National Assembly, and Senators from PTI, will come to Adiala Jail to stand in solidarity with their leader, Imran Khan.
Their presence will highlight the issue both nationally and internationally, the ongoing mistreatment and psychological torture being inflicted upon Imran Khan and Bushra Bibi. It is also intended to build pressure on this government (a government brought into power through stolen mandate from Imran Khan) to immediately transfer him to Shifa International Hospital without any further delay.
Our family once again strongly urges Imran Khan’s supporters NOT to come to Adiala Jail today. Police will not arrest elected representatives and Senators, but the supporters remain at serious risk of arrest and mistreatment.
ایک دفعہ پھر خان صاحب کو رات کے اندھیرے میں پمز ہاسپٹل لے کے جایا گیا لیکن فیملی کو اگاہ نہیں کیا گیا اخر یہ کون سے معاملات ہیں جن کو چھپایا جا رہا ہے؟؟ خان صاحب کی صحت کے معاملات پر ان کی فیملی کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے