اس رقم کا میں نے سٹی بینک الفاح برانچ لاہور سے ڈرافٹ بنایا تھا- ڈرافٹ کی رقم کئی ملین جرمن مارک تھی - یہ 90کی دہائی کے اوائل کی بات ھے حکومت اسوقت ppp کی تھی- نواز شریف نے یہ ڈرافٹ خود جا کر بوسنیا کے حوالے کیا- جو لوگ نواز شریف کو الزامات کا ھدف بناتے ھیں
#ذرا_سوچیں
1/2👇
دعوے سے کہہ سکتا ہوں، پوری پی ٹی آئی میں ایسا جواب دینے والا شاید ہی کوئی ہو، چاہے وہ خان ہی کیوں نہ ہوں۔ سوال کرنے والی خود جواب سے مطمئن بھی ہوئی اور اس کے علم میں بھی اضافہ ہوا
@RanaSikandarH
میاں صاحب کو اقتدار سے استعفٰی کے لئے مجبور کرتے وقت پیٹ پہ سٹک بھی ماری تھی کسی میں ایسی جرت نہیں تھی باتیں بنائی ہوئی ہے اگر ایسا کرتا تو اس کے ہاتھ توڑ دیتے وہ ملک کے وزیراعظم تھے وہ نوازشریف تھا نوازشریف کو چھوٹا موٹا آدمی نہیں ہے۔
کیپٹن صفدر نے رول دیا ارشاد بھٹی کو، اس سوال پر کہ آپ کے سسرال شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کا سوال: ”تمہارا پیو حافظ آباد میں کچے مکان میں رہتا تھا، دادا سے پھر تیرا پیو بہتر ہوا۔ اب تم اسلام آباد آ کر بڑے گھر میں رہتے ہو، جوتے ارمانی کے پہنتے ہو، ٹوپی ڈیزائنر کی پہنی ہوئی ہے۔ تو کیا تمہیں خدا نے دیا تو تم نہیں پہنو گے؟“ اور بھٹی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا!
کیپٹن صفدر کا بھٹی کو جواب
مجھ پر ہی ساٹھ ستر مقدمے بنے، رویا نہیں، عدالتوں میں مقابلہ کیا، پانچ پانچ سو صفحات کے جواب اپنے ہاتھ سے لکھے۔ بھٹی جی! ڈالر کمانے کے چکر میں اس بار کیپٹن صفدر کے سامنے پھنس گئے
یوتھیوں دن برے چل رہے ہیں لیکن بھٹی کا ستارہ سورج کے پاس آکر پھنس گیا ہے جو اس نے کیپٹن صفدر کو اپنی براڈکاسٹ میں بلا لیا بھٹی سے کیپٹن پھڑیا ہی نہیں جا رہا 65 میں تم تھے نہیں پیدا نہیں ہوا تھا تو تم سے کیا بات کرو اتفاق فاؤنڈری نے فوج کی خدمت کی بغیر پیسوں کے اتنی بڑی فیکٹری تھی
کٹر یوتھیا بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ پاکستان میں صوبوں کی کارکردگی میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے باقی صوبوں کے وزرائے اعلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ابھی یہ ان کا پہلا ٹرم ہے ساتھ میں نک دا کوکا والوں کی بے حسی بھی بیان کر دی
سب سے انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ کل جب عمان کے وزیر ہاؤسنگ سے چیف منسٹر صاحبہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے ماڈل کے متعلق بتایا کہ جن کی 1000 ڈالر عمانی آمدن ہے اسے وہ گرانٹ دیتے ہیں اور جن کی 1000 ڈالر سے اوپر آمدن ہے انہیں گھر بنانے کیلئے انٹرسٹ پر قرضہ ملتا ہے۔پھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ ہم انٹرسٹ کے بغیر 9 سال کیلئے قرضہ دے رہے ہیں اور اس کی قسط 9 ہزار روپے ماہانہ ہے ۔جس پر عمانی وزیر حیران ہوئے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بہت ایپرشیڈ کیا۔
(وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری)
پنجاب کو جو اعزاز ملا ہے یہ انیس سال بعد ملا ہے ریکارڈ مدت میں دو لاکھ سے زائد گھر مکمل ہو رہے ہیں لوگ اپنی مرضی کے حساب سے نقشے بنا کر گھر بنا رہے ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔ مبشر لقمان
چیف سیکرٹری پنجاب نے پبلک نیوز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا۔ ٹربیونل نے اینکر سلمان حیدر، رپورٹر انور سمرا اور انتظامیہ کو فی کس 50،50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب کے حق میں مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے کی ڈگری جاری کی گئی۔ پبلک نیوز نے چیف سیکرٹری پنجاب کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر 22 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اخراجات سے متعلق خبر نشر کی تھی، جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پنجاب کے نئے ہتکِ عزت قانون کے تحت قائم ٹربیونل میں دعویٰ دائر کیا تھا۔
ارشاد احمد بھٹی، انور حسین سمرا اور سلمان حیدر نے چیف سیکرٹری سے متعلق غلط خبر نشر کرنے کے معاملے پر این سی سی آئی اے میں اپنے بیانات جمع کرواتے ہوئے غیر مشروط معذرت کر لی ہے۔ غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات نہ صرف افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ صحافت کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں محض معذرت کافی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں جھوٹی خبروں، غلط معلومات اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی ہو اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ ملے۔
بریکنگ نیوز
چیف سیکرٹری پنجاب پبلک نیوز کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئے
ٹربیونل نے اینکر سلمان حیدر، رپورٹر انور سمرا اور انتظامیہ کو فی کس 50,50لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیدیا
ٹربیونل نے چیف سیکرٹری پنجاب کے حق میں مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے کی ڈگری جاری کردی
پبلک نیوز نے چیف سیکرٹری پنجاب کے گھر کی تزئین آرائش سے متعلق 22کروڑ 50لاکھ روپے کے اخراجات سے متعلق خبر نشر کی تھی
چیف سیکرٹری پنجاب نے ساکھ کو نقصان پہنچانے پر پنجاب حکومت کے نئے قانون کے تحت قائم ٹربیونل مین دعویٰ دائر کیا تھا
Chaired an important security meeting with @CSKPOfficial Shahab Ali Shah, IGP @KP_Police1 Zulfiqar Hameed, and other senior officials. The province cannot afford complacency when terrorism, crime and law-and-order challenges continue to threaten our people. At a time when Khyber Pakhtunkhwa is facing a serious security challenge, the provincial government must make the safety of its people its foremost responsibility. Political activity cannot come at the expense of security, and every institution must focus on protecting lives and maintaining peace.
جیسے عمر چیمہ حقائق اور دلیل کے ساتھ پی ٹی آئی کی آتما رول رہا ہے ایسے ہی کچھ اور صحافی بولنے لگ جائیں تو میڈیا پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بیانیہ بکنا بند ہو جائے گا