@MeAsmaGul خدا کے نہ ہونے پر انسان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے انسان کا اپنا وجود اور پوری کائنات خالق کے وجود کی دلیل ہے کائنات کی تخلیق کو اتفاقی حادثہ قرار دینا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں ہے
@JafariaTV1 شیعہ نے جب اللہ کے مقابلے میں اپنے اہل بیعت بنا لیے
نبوت کے مقابلے میں امامت کی اصطلاح گھڑ لی
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے پہلے خلافت کو نہ مانا
پانچ صحابہ کے علاوہ سب کو مرتد سمجھا
قرآن کو محرف مانا
بغیر گواہوں کے نکاح کو جائز کہا
تو سنی کیوں ان کو مسلمان سمجھیں
@MubashirAZaidi چونکہ قبہ صخرہ کو دیکھنے یہود و نصاری بھی آتے ہیں اس لیے وہاں وہ آیات تحریر کی گئی ہیں جن میں دعوتی مواد یعنی عقائد وغیرہ کا ذکر ہے لہزا سورۃ الاسراء کی پہلی آیت اس کے مناسب حال نہیں تھی
@shak_drazfar@ahsaan211 یہ بھی عجیب بات ہے کہ آیت مباہلہ میں نہ اہل بیت کا لفظ آیا اور نہ تطھیر کا ذکر لیکن اس کی شان نزول والی حدیث میں ان دونوں کا ذکر ہے اوراسی حدیث کو لے کر سورہ احزاب کی آیت کی وضاحت اور مصداق بیان کیا جاتا ہے
@Mufti9828 گھر کی پہرے داری چوکیدار بھی کرتا ہے اور کتا بھی
چوکیدار گن پکڑ کر ادھر ادھر نظر رکھتا ہے اور کتا بھونکتا رہتا ہے
نہ چوکیدار کی وفاداری میں شک ہے اور نہ کتے کی وفاداری میں
المبشرين حقاً بالجنة هم أبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم فقط بدليل هذا الحديث الصحيح في صحيح البخاري
أما حديث العشرة المبشرين فليس بصحيح ولو كان صحيحاً لكتبه البخاري رحمه الله في صحيحه
یہ تختی استنبول میں *حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ* کے مزار پر لگی ہوئی ہے۔
اس تختی پر اوپر عربی میں اور نیچے ترکی زبان میں لکھا ہے۔
*نیچے ترکی میں لکھا ہے اس کا ترجمہ:*
> "یہ کتبہ لیبیا کے بادشاہ ادریس السنوسی کی طرف سے حضرت ایوب سلطان کے مزار کو ہدیہ کیا گیا ہے۔ 1957"
*اوپر عربی میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تعارف ہے، اس کا اردو ترجمہ یہ ہے:*
> ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
> ان کا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف بن غنم بن مالک بن نجار ہے اور نجار کا نام تیم اللہ ہے۔ وہ بنی ثعلبہ بن عمرو بن خزرج میں سے ہیں۔
>
> ابو ایوب انصاری نے ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی اور مدد کی۔ وہ بیعت عقبہ، غزوہ بدر، غزوہ احد اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
> ہجرت کے 52 سال بعد، جب وہ ایک لشکر میں تھے جو یزید بن معاویہ کی قیادت میں قسطنطنیہ (استنبول) کی طرف جا رہا تھا، تو حضرت ابو ایوب بیمار پڑے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی کیا حاجت ہے، تو انہوں نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے سوار کر کے دشمن کی سرزمین میں جہاں تک جا سکو لے جاؤ، جب آگے جانے کا راستہ نہ ملے تو وہیں مجھے دفن کر دینا اور واپس آ جانا۔ یزید نے ایسا ہی کیا اور انہیں قسطنطنیہ کے قریب دفن کیا۔ یہی ان کی قبر ہے رضی اللہ عنہ۔
یہ وہی جگہ ہے جہاں آج ایوب سلطان مسجد ہے ۔
> (کتاب الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر سے منقول)