جب چھوٹے بچے یا بچیاں
اکیلے دکان پر سامان لینے جائیں،
تو انہیں درج ذیل باتیں لازمی سکھانی چاہئیں:
1. دکان پر کھڑے ہونے کی صحیح جگہ (سب سے اہم)
کاؤنٹر کے باہر رہیں: بچوں کو واضح طور پر بتائیں کہ انہیں ہمیشہ دکان کے کاؤنٹر یا گلے کے باہر، پبلک جگہ پر کھڑے ہونا ہے۔
کبھی بھی دکان کے اندر، پردے کے پیچھے، یا کاؤنٹر پار کر کے ایسی جگہ نہیں جانا جہاں سے باہر کھڑے لوگ انہیں دیکھ نہ سکیں۔
فاصلہ رکھیں: دکاندار یا دوسرے گاہکوں سے ایک مناسب فاصلہ (کم از کم دو ہاتھ کی دوری) رکھ کر کھڑے ہوں۔
راستہ کھلا رکھیں: ہمیشہ ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں سے بھاگنے یا باہر نکلنے کا راستہ بالکل صاف ہو۔
2. بات چیت کا طریقہ اور لہجہ
مضبوط اور اونچی آواز:
بچوں کو سکھائیں کہ دکاندار سے بات کرتے ہوئے ڈرنے یا شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی بات (سامان کا نام) بالکل صاف اور اتنی اونچی آواز میں کہیں کہ آس پاس کے لوگوں کو بھی سنائی دے۔
فضول باتوں سے گریز:
دکاندار کو صرف کام کی بات بتائیں، اپنے گھر کے حالات، امی ابو کہاں ہیں، یا گھر میں کون کون ہے، ایسی معلومات دکاندار یا کسی بھی اجنبی کو بالکل نہ دیں۔
3. "ناں" کہنے کی عادت (آپ کی بتائی ہوئی بات)
متبادل کا انتخاب: جیسا کہ آپ نے اس بچی کو سمجھایا، بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالیں کہ اگر کوئی دکاندار بدتمیزی کرے، غصہ دکھائے،
سامان دینے میں جان بوجھ کر دیر کرے، یا دکان کے اندر بلائے، تو وہاں کھڑے رہنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ فوراً کہیں: "مجھے نہیں چاہیے" اور دوسری دکان پر چلے جائیں۔
چیزیں واپس کرنا:
اگر دکاندار خراب چیز دے یا پیسے پورے واپس نہ کرے، تو وہیں کھڑے ہو کر بحث کرنے کے بجائے چیز وہیں چھوڑیں اور گھر آ کر بڑوں کو بتائیں۔
4. جسمانی حفاظت اور "نو ٹچ" (No Touch) اصول
ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں: بچوں کو سختی سے سمجھائیں کہ دکاندار ہو یا کوئی گاہک، کسی کو بھی انہیں پیار سے یا کسی اور بہانے سے ہاتھ لگانے، ۔
کندھے پر ہاتھ رکھنے، یا گال تھپتھپانے کی اجازت نہیں ہے۔
کوئی چیز مفت نہ لیں:
اگر دکاندار اپنی طرف سے کوئی ٹافی، چاکلیٹ یا آئس کریم مفت میں دے، تو وہ ہرگز نہ لیں۔
5. سامان لینے اور پیسے دینے کا طریقہ
پیسے پہلے سے تیار رکھیں:
دکان پر جا کر جیبوں یا پرس سے پیسے ڈھونڈنے کے بجائے، گھر سے ہی پیسے ہاتھ میں یا کسی محفوظ جیب میں رکھ کر جائیں۔
سامان لے کر فوراً واپسی:
جیسے ہی دکاندار سامان اور باقی پیسے دے، انہیں وہیں کھڑے ہو کر گننے یا دیکھنے کے بجائے سیدھا گھر کا رخ کرنا چاہیے، یا کسی محفوظ جگہ (جہاں ہجوم ہو) کھڑے ہو کر دیکھنا چاہیے۔
۔
والدین کے لیے ایک چھوٹی سی مہم:
شروع شروع میں بچوں کو اکیلے بھیجنے کے بجائے، خود ان کے ساتھ جائیں اور دور کھڑے ہو کر ان پر نظر رکھیں۔
جب وہ دکان کے باہر کھڑے ہو کر صحیح طریقے سے سامان لے لیں، تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
آپ کا یہ طریقہ بچوں میں خود اعتمادی بھی پیدا کرے گا اور وہ ہر قسم کے حالات سے باخبر رہی
دو تین وجوہات ہیں ایک تو سپلائی ڈیمانڈ ، جب سپلائی کم ہو گی اور دنیا میں ڈیمانڈ ذیادہ تو کسی بھی commodity کا ریٹ اوپر جائے گا
دوسرا بہت بڑا امر
رسک پرائسنگ (Risk Premium) ہے
تاجر اور ریفائنریز ہرمز جیسے چوکن پوائنٹ پر رسک کا اضافی
پرائس (risk premium) لگاتے ہیں
چاہے اسی فیصد تیل دوسری جگہ سے آ رہا ہو، سب ایک ہی
گلوبل بینچ مارک (Brent Crude) پر منحصر ہوتے ہیں
اگر ایک بڑا سپلائر خطرے میں پڑ جائے تو پورا مارکیٹ "احتياط" کے طور پر قیمت بڑھا دیتا ہے اور تیسرا بڑا امر
آربیٹریج (Arbitrage) ہے
اگر کوئی ملک اپنے تیل کی قیمت کم رکھے تو تاجر فوراً اسے خرید کر دوسری جگہ بیچ دیں گے جہاں قیمت زیادہ ہے
اس لیے تمام تیل کی قیمتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایک جگہ کی کمی دوسری جگہ کی قیمت بھی بڑھا دیتی ہے
عالمی مارکیٹ ایک ہی ہے اور فیوچر کنٹریکٹس طے کرتے ہیں موجودہ ریٹ
ہرمز پر تناؤ =
عالمی سپلائی کا خطرہ = تمام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یہ معاشی اصول ہے
بالکل ایسے ہی یوریا اور زرعی اجناس وغیرہ بھی react کرتی ہیں
یہ globalisation کا drawback بھی ہے
کیونکہ تمام تجارت عالمی ہو چکی
یواے ای معلومات :
متحدہ عرب امارات سات امارات کے وفاق کا نام ھے۔
ابوظہبی ، دبئی، شارجہ ، عجمان ، ام القوین ، راس الخیمہ اور فجیرہ۔
دیکھنے میں یہ سب ایک ہی ملک لگتا ہے، لیکن ہر امارت کا اپنا حکمران اور مقامی انتظامی اختیار بھی ھیں ۔ وفاقی قوانین اپنی جگہ نافذ ہوتے ہیں، مگر کئی سماجی اور انتظامی معاملات میں ہر امارت کا مزاج اور ضابطہ مختلف محسوس ہوتا ھے۔
مثلاً شارجہ کا ماحول دبئی کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند اور اسلامی روایات کی عکاسی کرتاھے ۔ شارجہ دبئی کے بالکل ساتھ ھے۔ آج دونوں کی آبادی اور عمارتیں اس طرح مل چکی ہیں جیسے ایک ہی بڑے شہر کے دو علاقے ہوں۔ پہلے ان کے درمیان کھلا علاقہ یا صحرا محسوس ہوتا تھا ، مگر اب کئی مقامات پر سرحد صرف سڑک ، چھوٹے ٹیلے یا انتظامی حد کی صورت میں رہ گئی ھے۔
شارجہ میں لباس کے معاملے میں نسبتاً احتیاط کی جاتی ھے اور کھلے عام شراب نوشی یا شراب رکھنے پر سخت پابندی ھے۔ اس کے برعکس دبئی کا ماحول نسبتاً کھلا ھے ، خاص طور پر سیاحت ، ہوٹلوں ، کلبز ، لباس اور تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے۔
اسی طرح باقی امارات کا بھی اپنا اپنا مزاج اور قوانین ھیں ۔
متحدہ عرب امارات میں مجموعی سیاسی اور ریاستی پالیسیاں صدر ، وزیراعظم اور تمام امارات کے حکمرانوں کی مشترکہ مشاورت سے طے ہوتی ہیں ، جبکہ ہر امارت کو اپنے مقامی معاملات میں خاصا خودمختار اختیار حاصل ہوتا ھے ، تاہم وفاقی پالیسیوں کی پابندی سب پر لازم ہوتی ھے ۔
ری سائیکل شدہ ایلومینیم سے بنے برتن پہلے ہی پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کے کچن ویئر سیکٹر پر United Nations Conference on Trade and Development (UNCTAD) کی ریسرچ کے مطابق، گوجرانوالہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد ایلومینیم برتن سازی کا مرکز ہے۔ اس میں خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی جانچ کے لیے معیار کی یقین دہانی (quality assurance) کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے، اور بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی برتن سازی کی صنعت بڑی حد تک ایلومینیم کے فضلے اور اسکریپ پر انحصار کرتی ہے، جس سے آرسینک، کیڈمیم اور سیسے جیسی دھاتوں کے سامنے آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکہ میں U.S. Food and Drug Administration (FDA) نے بھی کچھ پاکستانی ساختہ ایلومینیم کُک ویئر کو ان درآمدی مصنوعات میں شامل کیا ہے جن سے سیسہ خارج ہو سکتا ہے، جن میں گوجرانوالہ کی Sonex Cookware اور “Made in Pakistan” کے نشان والے Town Food Service کے ایلومینیم ساس پین شامل ہیں۔( اے آئی ترجمہ)
Don't pay for Netflix, use Flixio
Don't pay for HBO Max, use Moviebox
Don't pay for Apple Music, use ESound
Don't pay for Apple TV, use Streamly
Don't pay for Peacock, use GlitchTV
Don't pay for Hulu, use ShowZone
Don't pay for Disney, use Netmirror
Don't pay for Spotify, use Lyra
Don't pay for Prime Video, use CineHub
Don't pay for Paramount+, use EpicFlix
Don't pay for YT Premium, use Brave browser
(SAVE THIS before it disappears).
نئے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین توجہ فرمائیں: 🔽
اب تمام لوڈز کیلئے سولر صارفین کو لائسنس نیپرا سے لینا پڑے گا
پہلے نیپرا صرف 25Kw سے زیادہ لوڈ کے سولر صارفین کو لائسنس جاری کرتا تھا
اب 25Kw اور اس سے کم لوڈ کا لائسنس بھی نیپرا جاری کرے گا
نوٹ: آف گرڈ سولر صارفین کیلئے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں
*ادرک کا قہوہ*
روزانہ رات کو پی کر سوئیں
*افادیت*
💥 *معدے سے ہوا کو خارج کرتا ہے..*
💥 *ادرک ایک اینٹی ایجن ہے.*
💥 *امیون سسٹم ، ہاضمے کو بہتر کرتا ہے.*
💥 *ادرک خون کو پتلا کرتا ہے جو کہ دل کے امراض کے لیے بہت مفید ہے.*
💥 *یادداشت کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے.*
*قہوہ بنانے کا طریقہ*
💥 *ادرک کو کدوکش کر لیں.تقریبا 2 چمچ..*
*دیگچی میں چھ کپ پانی ڈالیں ادرک ڈال کر تب تک پکائیں کہ تین کپ رہ جائے.*
💥 *گڑ یا شہد میں سے کچھ بھی استعمال کر سکتے ہیں..*
💥. *ادرک جب پکنے رکھیں قہوے کے لیے تو ساتھ میں ایک بندے کے حساب سے دو لونگ بھی ڈال دیں...... اور جب قہوہ تیار ہو تو لونگ بھی چبا لیں اور، ادرک بھی چبا کر کھا لیں... نتو سونے پر سہاگہ ہوجائے گا*
لیجئے ادرک کا قہوہ تیار ہے.دن میں ایک بار ضرور پیئیں.
*خوش رہیں آباد رہیں.*
Follow the دیسی دوا اور نسخے channel on WhatsApp: https://t.co/sfJSoKFM9Z
متحرم تمام والدین نوٹ فرما لیں:
*نادرا نے بچوں کے فارم ب کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا، اب ہر بچے کا 3 بار ب فارم بنوانا پڑے گا*
1. پہلا ب فارم: بچے کی پیدائش پر تصویر کے بغیر بنے گا، معیاد 3 سال کی عمر تک ہوگی
2. دوسرا ب فارم: 3 سال عمر ہونے کے بعد تصویر کے ہمراہ بنے گا، معیاد 10 سال کی عمر تک ہوگی
3. تیسرا ب فارم: 10 سال سے زیادہ ہونے پر بچے کی تصویر، آئرس اور فنگر پرنٹس لیئے جائیں گے، میعاد 18 سال کی عمر تک ہوگی
*نوٹ: ب فارم بنوانے کے لیے بچے کے ہمراہ قریبی نادرا دفتر تشریف لائیں یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے گھر بیٹھے بنوائیں*
عمرہ زائرین یا وزٹ ویزہ پر جب آپ سعودی عرب جاتے ہیں توہر خریداری پر 15%ٹیکس ادا کرتے ہیں
واپسی پر یہ پیسے حکومت آپ کو واپس کرتی ہے کہ آپ رھائشی نہیں ہیں
طریقہ کار جانئیے اس ویڈیو میں ۔۔
The classism is insane. It wasn't chapri last year when only expensive brands were selling it and only a higher income bracket could afford it. Let people wear whatever they want. No one made fun of the Kashmiri bangles every other girl was wear this eid.