لوٹ مار کے یہ ضابطے صرف اور صرف کسان کے لیے ہیں، جو بدقسمتی سے سرائیکی ہیں، ورنہ پنجابی سیالکوٹ، گجرانوالہ، گجرات اور فیصل آباد کی فیکٹریوں کو گیس، بجلی اور ٹیکس چھوٹ کی سہولت میسر ہے، بنگلہ دیش کیوں بنتے ہیں !!! سوچیں، سرائیکی قوم کے ساتھ ظل بند ہونا چاہیے
کسان نے مہنگے ذیزل اور کھاد کے ساتھ فصل کاشت کی، مارچ کے بعد کٹائی شروع ہوتی ہے، یہ لوگ مارچ میں کم قیمت کھاد کا ناٹک کرکے کسان کو گندم کا ریٹ مہنگی اور بلیک کھاد کے برابر نہیں دیں گے اور ریٹ طے ہو گا 839 روپے بوری کے حساب سے جبکہ کسان 3000 روپے بوری خرید کر فصل کاشت کر چکا
کسان کو کس طرح لوٹا جاتا ہے، سیزن کے وقت بمپر کراپ کی بوگس خبریں چلا کر فصل سستے داموں کسان سے لوٹ لو، پھر مہنگی بیچو یہی نہیں کمی کا رونا رو کر ڈیوٹی فری مہنگے ڈالرز میں خریدو اور عوام کو مہنگی بیچو، پھر اب یہی ناٹک کسان کے ساتھ کھاد کے نام پر ہو رہا
وزیر اعظم عمران خان کا لاہور دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس۔
زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت
پنجاب حکومت سے واقع کی رپورٹ طلب
200 فالورز کا اضافہ کریں لسٹ میں شامل ہونے کے لیے آئی ڈی مینشن کریں.
ریٹوئیٹ🔁کریں ریٹوئیٹ والوں کو فالو کریں اور فالو بیک دیں✅
مجھے فالو کریں اور نوٹیفکیشن 🔔 آن کریں.