بینظیر بھٹو عظیم لیڈر بکمال بلند حوصلہ مند،خاتون تھیں کریم مہربان اللہ شہید رانی کے درجات و مقام بلند فرمائے امین ثمہ امین یا رب محمد و آل محمد دارودو سلام محمد و آل محمد پہ اللھم صلی اعلی مخمدآل محمد وآل محمد
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو صرف امداد نہیں، بلکہ اپنی چھت اور اپنی ملکیت کا حق دیا گیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت سندھ میں 21 لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے گئے، جن کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کی جا رہی ہے۔ یہ محض گھروں کی تعمیر نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کی ازسرِنو تعمیر، خواتین کے معاشی اختیار اور باوقار مستقبل کی بنیاد ہے۔
یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ حقیقی عوامی سیاست صرف وعدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ مشکل وقت میں لوگوں کو سہارا، تحفظ اور مستقل ملکیت فراہم کرتی ہے۔
روٹی، کپڑا اور مکان کے نظریے سے جڑا یہ اقدام سندھ میں عوامی خدمت کی ایک نئی مثال بن چکا ہے۔ ❤️🖤💚
@BBhuttoZardari@AseefaBZ
5 جولائی 1977 کی صبح 1 بج کر 45 منٹ کی روداد بینظیر بھٹو بتاتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ممی میرے کمرے سے صنم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں
” اٹھو، جاگو، کپڑے بدلو. فوج نے قبضہ کر لیا ہے”۔
اور جب حفیظ پیرزادہ کی بیٹی نے فون پر روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے والد کو مارا پیٹا اور ساتھ لے کر چلے گئے تو پنکی کے پاپا نے کہا کہ پُرسکون رہو اور اپنے خاندان کے وقار کا خیال رکھو.
اُسی سال 3 ستمبر رمضان کے مہینے میں صبح 4 بجے کا منظر بینظیر بتاتی ہیں کہ کمانڈوز میرے بیڈ روم میں گھس آئے۔ ایک میرے کمرے میں اُچھلتا کودتا پھر رہا تھا۔ الماری سے اس نے میرے کپڑے نکال نکال باہر پھینکے۔ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی چیزیں الٹ دیں۔ فون کا تار کھینچ کر توڑ دیا۔ میں نے احتجاج کیا تو پستول تان لیا کہ اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو چپ رہو۔
1980 کے ایک دن جب صنم المرتضیٰ میں مقید بیمار پڑی ماں اور بہن سے ملنے آتی ہے تو کیپٹن افتخار صنم کے پیچھے پیچھے کمرے میں گھس آتا ہے۔ بینظیر اسے شرم دلاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر بینظیر پر ہاتھ اٹھاتا ہے کہ میں جہاں چاہوں جا سکتا ہوں۔ ہاتھ اٹھانے پر بینظیر اسے اپنے باپ کا احسان یاد دلاتے ہوئے للکارتی ہے تو وہ ہاتھ نیچے کر دیتا ہے۔
16 دسمبر 1977 کو بینظیر اور نصرت بھٹو قذافی اسٹیڈیم پہنچتی ہیں کرکٹ میچ دیکھنے۔ ہجوم تالیوں کی گونج کے ساتھ ان کے اعزاز میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگلے لمحے قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ آنسو گیس اور لاٹھیوں کی شدید بارش کے بیچ ماں کو تلاش کرتی بینظیر کو جب ماں ملتی ہے تو لوہے کی سلاخوں سے ٹکرائی، پھٹے سر کے ساتھ لہولہان۔
تصویر آج بھی گوگل پر موجود ہے۔
4 اکتوبر 1978 کو بینظیر اور اس کی سہیلی یاسمین کو ملتان ائرپورٹ پر بندوقوں کی نوک پر جہاز سے اتار دیا جاتا ہے۔ یاسمین کو نامحرم اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں کہ تم بینظیر کے ساتھ نہیں جا سکتیں اور بینظیر کو ایک اور چھوٹے سے جہاز میں بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یاسمین نامحرموں سے نگاہ بچا کر، ان کے نرغے سے بھاگ کر دوڑتی بینظیر کے ساتھ چھوٹے طیارے میں گھس جاتی ہے، جس میں صرف تین لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ تیسرا پائلٹ ہے، جو باہر کھڑے پہریداروں کو کہتا ہے کہ اگر اندھیرا ہو گیا تو جہاز اُڑ نہیں سکے گا۔ اسے اڑنے کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ صبح سے بھوکا پیاسا ہے۔ پائلٹ کے لیے پانی اور لنچ باکس لایا جاتا ہے۔ جہاز کے اندر پائلٹ بینظیر کو پانی اور کھانا یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ اس نے بینظیر کی پانی کی ضرورت کو سپاہیوں کے سامنے مسترد ہوتے سن لیا تھا۔ جہاز راولپنڈی پہنچتا ہے، جہاں بینظیر کو اترنا ہے۔ دروازہ کھولتی ہی ہے کہ پائلٹ اشکبار آنکھوں سے اسے مخاطب کرتا ہے ” میں سندھی ہوں”
راولپنڈی میں جہاز سے اتار کر بینظیر کو وہاں پہنچایا جاتا ہے جہاں نصرت بھٹو مقید تھیں۔
بیٹی کے کپڑے پھٹے تھے اور جسم پر خراشیں۔ مگر ماں خوش تھی کہ اب ہم قید میں ساتھ ساتھ ہوں گے۔
یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ سکھر جیل، کراچی جیل، راولپنڈی جیل وغیرہ وغیرہ کی وحشتوں میں مسلسل دربدر رکھتے ہوئے ایک دن نوجوان لڑکی کو ایک اجنبی ڈاکٹر کے سامنے پیش کر دیا جائے اور جو اسے کہے کہ تمہارے پہریداروں کا خیال ہے کہ تمہیں رحم کا کینسر ہے اور تمہارا آپریشن کرنا پڑے گا۔ پھر اسے اسی وحشت کے عالم میں کراچی جیل میں اس جھوٹ کے ساتھ لے جایا جائے کہ آپریشن سے پہلے ہم تمہیں تمہاری ماں سے ملوانے لے جا رہے ہیں اور وہ وحشت سے جیل کی خالی کھولیوں میں ممی ممی پکارتی بولائی پھر رہی ہو اور ماں کہیں بھی نہ ہو۔ پھر بغیر کسی اپنے کی موجودگی کے، پکڑ کر اس کا آپریشن بھی کر دیا جائے۔
پھر اسی نقاہت کے عالم میں اسے چھوٹی بہن سے ملوانے کے لیے ایک اور ہسپتال میں لایا جائے اور چھوٹی بہن اسے اسٹریچر پر مدد کے لیے پکارتی دکھائی دے جسے زبردستی آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جا رہا ہو۔ وہ پکار رہی ہو کہ یہ مجھے قتل کر دیں گے۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔ یہ مجھے قتل کر دیں گے ۔۔۔۔ پولیس نے اس کی چھوٹی بہن کا اسٹریچر گھیرے میں لے رکھا ہو اور اسے طرح طرح کی ٹیوبس لگی ہوں۔ مگر اسے چھوٹی بہن سے ملنے کا موقع نہ ملے اور بخار و نیم غنودگی کی حالت میں واپس جیل پہنچا دی جائے۔
سکھر جیل کی 48 سینٹی گریڈ کی گرمی میں پھٹ چکی جلد، پھنسیوں سے بھر چکے جسم، کان کے شدید انفیکشن میں مبتلا نصرت بھٹو کی پنکی جو پیلے گدلے پانی سے پیاس بجھانے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہے اور جسم پر بار بار چڑھ آتے کیڑے مکوڑوں سے لڑتی رہتی ہے، اسے ماں اپنی قید سے اس کی قید میں خط بھیجتی ہے کہ ۔۔۔۔ میری بہت ہی پیاری پنکی! ۔۔۔۔ دن میں تین یا چار مرتبہ اپنے جسم پر پانی ڈالو تا کہ حدت کم محسوس ہو۔ اس کو آزماؤ۔ 1/2
تاریخ کی خوبصورتی، نئے انداز کے ساتھ۔
سول لائنز مارکیٹ کی بحالی سے کراچی کے قدیم ورثے کو نئی زندگی ملی۔ میئر کراچی @murtazawahab1 کی نگرانی میں شہر کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کا عملی قدم۔
مئیر کراچی @murtazawahab1 کی زیر نگرانی ایک اور تاریخی ورثے (سول لائنز مارکیٹ)کا تحفظ، بحالی اور تزئین و آرائش 💗
■۔ مارکیٹ کی عمارت کو ان کے اصلی پیلے پتھروں، روایتی نقش و نگار اور خوبصورت جالی دار کھڑکیوں کے ساتھ بہترین انداز میں بحال کیا گیا ہے، جس سے اس کا تاریخی اور ثقاقتی حسن برقرار اور نمایاں ہو رہا ہے۔
■۔ مارکیٹ کے اندرونی اور بیرونی حصے میں بہترین فلورنگ کی گئی ہے، مرکز میں خوبصورت فوارہ نصب کیا گیا ہے، اور پورے احاطے کو نہایت صاف ستھرا اور کشادہ بنایا گیا ہے۔
■۔ برسوں سے تجاوزات کا شکار رہنے والی اس تاریخی مارکیٹ کی اصل حالت میں بحالی نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک خوبصورت ماحول فراہم کرے گی بلکہ شہر کے حسن و جمال میں بھی اضافے کا باعث بنے گی۔ 🌹
انشاء اللہ
Well done 🌹
#MayorKarachi #KarachiWorks
18 سال کا جو بیانیہ الطافی نسل پرست ٹولا بنا رہا ہے اس میں
2008 سے 2010 تک مصطفیٰ کمال کے دو سال ۔
2008 سے 2013 تک سندھ حکومت کے ساتھ شراکت داری ۔
2015 سے 2020 تک میئر کراچی مصطفیٰ کمال کے پانچ سال ۔
اس سے پہلے 2002 سے 2007 تک مشرف کے ساتھ شراکت داری ۔
کراچی کی شہری حکومت ایم کیو ایم کے پاس رہی ہے ، پیپلز پارٹی کے پاس شہری حکومت 2023 میں آئی ہے اور صرف تین سال ہوئے ہیں ۔
یہ دنیا کو پتا ہے کہ کراچی شہر میں 2016 سے پہلے کس کی دہشت ہوا کرتی تھی ۔
وسیم اختر بھی اسی دہشت کے دور یعنی 2015 میں میئر بنا تھا ۔
کچھ عرصہ پہلے باہر ملک بیٹھے ایم کیو ایم کے بے نامی اکاؤنٹس نے سول سوسائٹی کراچی کے نام سے ایک چورن بیچا ، جس کو ہم بینقاب کرتے رہے اور وہ چورن دفن ہوگیا ۔
اب وائس آف کراچی اربن سندھ کے نام سے نیا چورن مارکیٹ میں لائے ہیں ، اس کو بھی بینقاب کریں گے ۔
یہ سارے واسع جلیل کے پیرول پر کام کرتے ہیں ۔
Thar’s transformation is a powerful example of the dividends of the 1973 Constitution and the 18th Amendment.
Electricity generation from Thar Block II has grown from 600 MW to nearly 2,000 MW, supplying vital energy to the national grid.
@BBhuttoZardari#PPPTransformingThar
تاریخ کی خوبصورتی، نئے انداز کے ساتھ۔
سول لائنز مارکیٹ کی بحالی سے کراچی کے قدیم ورثے کو نئی زندگی ملی۔ میئر کراچی @murtazawahab1 کی نگرانی میں شہر کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کا عملی قدم۔
تحریکِ انصاف کی قیادت آج اپنی جماعت کی سمت کے بجائے مختلف سیاسی اثرات کے زیرِاثر دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان اگر دوبارہ سیاسی میدان میں فعال ہوئے تو محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کی موجودہ سیاسی اہمیت اور کردار ختم ہو جائے گا
سید حسن مرتضی
@HassanMurtaza96
Sadaf Raza Mashori, a Govt school student from the Bado area of Larkana has been selected in the ITU Climate Innovation Competition Covering 100 Countries worldwide,
Children from only 7 out of 100 Countries were selected.
Sadaf Raza Mashori is the only one student (A Govt school Bado area of Larkana) to be selected from Pakistan 🇵🇰.
شہید عبداللہ مراد کمیونٹی سینٹر کی تکمیل اور افتتاح کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اور عوامی سہولت کا اضافہ ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں KMC کی جانب سے عوامی مقامات کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ شہداء کے نام سے منسوب ایسے مراکز اُن کی خدمات اور یاد کو بھی زندہ رکھتے ہیں۔
#Karachi #KMC #MurtazaWahab
پنجاب میں 20 روز سے فلور ملز کو سرکاری کوٹا نہ مل سکا
پنجاب میں مارکیٹ میں گندم کی قیمت 5300 روپے من تک پہنچ گئی، آٹا مزید مہنگا ہو گیا...!!!
گندم خریداری کی نئی پالیسیاں لانے والے کہاں ہیں...؟؟؟
@NadeemAfzalChan@ShehzadSaeedPPP@BBhuttoZardari
مئیر کراچی @murtazawahab1 کی زیر نگرانی KMC کی ٹیمیں شہر بھر میں ترقیاتی کاموں میں متحرک:
چنیسر ٹاؤن کی UC-1، گلشن آباد ٹاؤن کے چاندنی چوک، مومن آباد کی فرید کالونی اور کورنگی کے گرین ٹاؤن کی اندرونی گلیوں کی تعمیر نو کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
مئیر کراچی کا کہنا ہے کہ KMC شہر بھر میں مقامی رہائشیوں کے مسائل حل کرنے میں متحرک اور کوشاں ہے۔
#MayorKarachi #KarachiWorks
Internal streets of UC 8 in Korangi Town are being attended to by KMC Engineering team. As committed, we will continue to work across the board to serve the people of Karachi #KarachiWorks
تاریخ کی خوبصورتی، نئے انداز کے ساتھ۔
سول لائنز مارکیٹ کی بحالی سے کراچی کے قدیم ورثے کو نئی زندگی ملی۔ میئر کراچی @murtazawahab1 کی نگرانی میں شہر کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کا عملی قدم۔