مکمل طور پر غیر سیاسی
مراثی کی بیوی بھاگ گئی تو وہ بھاگا بھاگا سسرال پہنچا۔
دور سے دیکھا کہ سالے کا بیٹا بیٹھا آم چوس رہا ہے تو شور ڈال دیا ، اوئے بھولے تیری پھوپھی دوڑ گئی ہے اوئے بھولے تیری پھوپھی دوڑ گئی ہے
سالے کا بیٹا بھی آخر مراثی تھا انجان بن کر بولا:👇
یورپ میں گرمی سے سڑکیں پگھلنے لگیں۔۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہونے لگی ، ٹرانسفارمرز زیادہ گرمی سے دھماکوں سے پھٹ گئے ۔۔اور 21 جون سے لے کر آج کے دن تک یعنی صرف 9 دن میں 1300 لوگوں کی موت واقع ہو گئی۔
کیا اب گرمی ہمارا کا مستقبل ہو گئی؟ یورپ میں بحث چھڑ گئی
اگر آپ سب اجازت دیں تو PTA ترمیمی بل قومی اسمبلی سے پاس کروانے پر مسلم لیگ ن کے سوشل بائیکاٹ اور احتجاج کا ایک مہذب طریقہ تجویز کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟
کیونکہ ہم مجبور اور مظلوم پاکستانی اب مہذب ممالک جیسے بائیکاٹ اور احتجاج کے راستے ہی اپنا سکتے ہیں؟
شزا فاطمہ جھوٹ بول رہی ہیں کیونکہ شاید انہوں نے اپنا ہی پیش کردہ بل بھی نہیں پڑھا ہوا۔۔۔
آئیں میں آپ کو PTA ترمیمی بل پڑھاتا اور سمجھاتا ہوں
👇👇
بل کی دفعہ 27 اے ون میں لکھا ہوا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اختیار ہوگا کہ وہ پبلک اور پرائیویٹ جگہ زیر استعمال لا سکیں۔ پرائیویٹ جگہ کی تعریف دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ qb میں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ جگہ کا مطلب عام شہریوں کی ہر قسم کی جائیداد ہوگی اور یہ دفعہ اگر پاکستان میں نافذالعمل کسی قانون کی خلاف ورزی بھی تو بھی کسی دوسرے قانون کا PTA ترمیمی بل کی اس دفعہ پر اطلاق نہیں ہوگا ( قانون کی سادہ زبان میں اسے جنگل کی کلاز کہیں گے)
اب 27 اے کی ضمنی دفعہ 2 میں لکھا ہوا ہے کہ جائیداد کا کوئی مالک یا اتھارٹی 27 اے ون میں کمپنی کو حاصل اختیار اور حقوق میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ( یعنی 27 اے ون میں کمپنی جائیداد کا حق حاصل چکی ہوگی)
اب 27 اے کی ضمنی دفعہ 3 میں طریقہ لکھا ہوا کہ کمپنی کسی شہری کو ای میل یا تحریری خط لکھے گی کہ ہمیں یہ جگہ درکار ہے، خاموشی پر ایک یاد دہانی ای میل یا خط لکھے گی، اگر شہری خاموش رہا تو اسے معاہدہ منظور سمجھا جائیگا، یعنی وہ معاہدہ جو شہری نے پڑھا ہی نہیں ہے۔
اب دفعہ 27 بی میں واضح لکھا ہوا ہے کہ جو کوئی بھی معاہدہ میں رکاوٹ ڈالے گا یا 27اے کے تحت کمپنی کو حاصل ہوگئے ہوئے حقوق (یعنی حاصل ہوگئی ہوئی جائیداد) میں تاخیر پیدا کرے گا، اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ (ایسا کہیں نہیں لکھا کہ معاہدہ کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا)
یہ سب کچھ لکھا ہونے کے بعد حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ نہیں لکھا ہوا۔۔۔
چوری پکڑنے جانے پر اب حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ جو شائد آئی ٹی کی وزیر اور خواجہ آصف کی بھانجی ہیں مقدر کی اتنی دھنی کے گھر سے ایم پی اے کے فارم لیکر الیکشن کمیشن آفس پہنچی تو اگلوں نے ایم این اے بنا دیا
محترمہ نے اب ایک ایسا کانڈ کر دیا ہے جو کسی کو بھی 5 کروڑ کا جرمانہ کروا سکتا ہے
ہوا کچھ یوں کہ خواجے کی بھانجی نے پارلیمنٹ سے بل پاس کروا لیا ہے جس کے مطابق ٹیلی کمیونکیشن کمپنی اپنے پسند کی نجی جگہ مکان یا دکان پر اپنا کھمبا گھاڑ سکتی ہیں انکار کی صورت میں مالک مکان٬ پلاٹ یا دکان کو 5 کروڑ روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا 🤓
کل ملا کر خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی گھر مکان دکان جگہ کی ملکیت رکھتے ہیں تو پھر آپ ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی کے چئیرمین جناب جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کے رحم و کرم پر ہونگے کہ وہ جب چاہیں آپ کی زمین پر ٹاور کھڑے کر کے آپ کو چلتا کریں -
شکریہ میریم نواز شریف صاحبہ 🙂
آج میں میو ہسپتال لاہور میں ٹیسٹ کروانے گیا ۔
تب مجھے اندازہ ہوا کہ آپ پنجاب میں اپنے چچا جناب میاں شہباز شریف وزیراعظم پاکستان سے بھی زیادہ ترقی کیسے کر رہی ہیں ۔
ہسپتال میں 44 ڈگری گرمی میں پنکھے نہیں ہیں ۔
عوام جو پہلے ہی مہنگائی کی ستائی ہوئی ہے اس کو اس گرمی میں مزید ستایا جارہاہے ۔
بیٹھنے کے لیے بینچ تک نہیں ہیں ۔
ٹھنڈا پانی تو دور گرم پانی بھی نہیں آرہا ۔
اور ڈاکٹرز اور نرسز تو ایسے رویہ اختیار کرتی ہیں جیسے ادھر ہم انکی جائیداد پر قبضہ کرنے آے ہو۔
اور وارڈز بواے یا دروازوں پر مامور ہماری بہنیں اندر کسی چڑیا کو پر بھی نہیں مارنے دیتی علاوہ انکے جو پیسوں سے انکے ہاتھ گرم رکھے جب آپ نے 100 یا 50 دے دیئے تو اس وارڈ کے آپ مالک ہیں ۔
خیر یہ تو آپ کے لئے روٹین کی باتیں ہیں ۔
اصل ترقی تب آئی نظر جب ہماری اللہ اللہ کر کے ٹیسٹ کی باری آئی کاؤنٹر پر گیا تو جناب کہتے ہیں ایک ٹیسٹ 3800 میں ہوگا ۔
جب پوچھا بھائی اتنا مہنگا تو جواب ملا کروانا ہے تو کرواں ورنہ پیچھے ہٹوں ۔
پھر میں نے سوچا میاں صاحب کے دورے حکومت میں یہ ترقی تھوڑی کم تھی لیکن آپ کے دور میں تو زور وشور سے جاری ہے ۔
بس آخر میں احترام کے ساتھ آپ پنجاب حکومت کے نمائندوں وزیر صحت ،اور ایم ایس میو ہسپتال لاہور کو تھوڑی سی شرم دلواے غریب آدمی کا قتل عام بند کر ے شکریہ ۔
عمران ورک
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا باغ، کنواں اور گھر ابھی بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ھے۔ جب حضور کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم حج کرنے آتے تو یہاں اپنا خیمہ لگایا کرتے تھے۔۔
کھیڑا اس اسسٹنٹ کمشنر کا فین ہوگیا جے وئی
جن دفتروں میں عام عوام کو گھسنے نہیں دیا جاتا وہاں بابا جی کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے باخدا اس شخص کی پرورش کسی نیک ماں باپ نے کی ہے
آج تک کی فیورٹ ترین یہ ویڈیو ہے اور اسے ہر جگہ پہنچانا آپکا کام ہے کہ قوم ایسے لوگوں کو پسند کرتی ہے
بی ایل اے کے پاس پراپیگنڈے کی ایک ٹھوس وجہ مسنگ پرسنز اور پھر ان کی ناقابل شناخت لاشوں کا ملنا ہے
مگر یہ بھی سچ ہے
کہ اداروں نے اتنے لوگ مسنگ نہیں کئے
جتنے کہ بی ایل اے اب تک فوجی افسران و اہلکار مار چکی ہے
مسنگ پرسنز کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کر لینا چاہیے تاکہ بی ایل اے کی پراپیگنڈہ پاور اور اسے ملنے والی عوامی ہمدردی کا توڑ کیا جا سکے
کہ ہم کسی صورت بلوچستان کو کھونا افورڈ نہیں کر سکتے ہیں
#پاکستان
جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔
اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔
میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔
(چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں)
میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں
"پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔
جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔
میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ
تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔
بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ
ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔
@shaherawan1
نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔
ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔
اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔
پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ
ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔
اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور
تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔
صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور
خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔
اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔
ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔
شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔
اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔
تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔
حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو
ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔
خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت
اپنے ایک پاو گوشت کے لیے
عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔
یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔
حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔
ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔
ویسے۔۔ان کا یار
امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔
کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔
پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن
دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو
ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔
کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔
حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو
حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔
(اسد آر چوہدری)
@NawazSharifMNS@CMShehbaz@OfficialDGISPR@MaryamNSharif@SKhaqanAbbasi
Video of making fake eggs.
کیا انڈے بھی مصنوعی طریقے سے بنائے جاتے ہیں؟؟
جو انڈے ہم کھاتے ہیں وہ اصل میں صرف مرغیوں سے نہیں آتے۔ بندہ کس چیز پر اعتبار کرے؟؟
تشدد کرنےوالے ایف آئی اے سب انسپکٹر محمد اقبال ولد محمد اسماعیل کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے کیونکہ عوام کی بڑی تعداد وہاں اکٹھی ہو گئی اور انکی لیڈئ اہلکار سمیت یہ اہلکار گاڑی وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اور معاملہ بگڑ گیا ۔
جو توڑو وہی لال
یہ ایف آئی اے ٹیم راولپنڈی میں ایک سنار کی دوکان پر ریڈ کرتی ہے ،دوکاندار اور سیلز مین پر تشدد بھی کرتی ہے بولنے کا انداز ایسا کہ جیسے دوکاندار نہیں کوئی اور مخلوق ہیں ،عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے عوام پر ہی ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں ، ایف آئی ٹیم ریڈ کرے مگر کسی کی تزلیل تو نہ کرے سوال پوچھنے پر جوان بیٹے کے سامنے والد کو تھپڑ ماریں گے تو کوئی برداشت نہیں کرے گا ،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ صاحب عوام پر بھی رحم کریں یہاں انسان بستے ہیں اس لئے گزارش ہے کہ ان سرکاری ملازمین کو پہلے تربیت دیں نہیں تو ان لوگوں کو بارڈر پر بھیج دیں
@PakPMO@MohsinnaqviC42@fia
انتہائی شرمناک گری ہوئی حرکت ہے 🥲
سرگودھا تھانہ سٹی پولیس سے درخواست ھے ٹرسٹ پلازہ مارکیٹ میں موجود اس لنڈے کے سستے ڈان کو فوری گرفتار کرکے اسکا سافٹ ویئر اپڈیٹ کیا جائے
پلازے میں ہر آتے جاتے شہری پر پانی پھینک کر گری ہوئ حرکت کرتے ہوئے ویڈیو بنا کر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرتا ھے ، اس بے شرم انسان نے غریب مانگنے والے خواجہ سرا پر بھی پانی پھینکتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی ہے
ایسے گندے کردار معاشرے پر بدنما داغ ہیں،
#Sargodha #BreakingNews
وزیرخزانہ اورنگزیب
(وڈے شاہ جی کی) غلط چوائس ہے۔
اس نے پٹی پڑھائی ہوئی ہے کہ
میں معیشت میں"اصلاحات"لا رہا ہوں جو سیاستدان وزیرخزانہ نہیں لا سکتا۔
(یہ غلط ترین سوچ ہے)
ایک تو وہ اس پولیٹیکل اکانومی میں اصلاحات نہیں لا سکا
دوسرا
وہ ایسا بندہ ہے جو ہمارا کم اورIMF کا زیادہ لگتا ہے۔IMF کو اس پر اتنا یقین ہے جتنا ان کو اپنے آپ پر بھی نہیں۔
کیونکہ
یہ بندہ ایک پاو گوشت کے لیے گائے حلال کرنے کے لیے آئیڈیل ہے۔
ایران/امریکہ جنگ جس کے باعث پوری دنیا تباہ ہوئی اس پر پاکستان کے لیے ایک ریلیف IMF سے نا لے سکا۔۔IMF کی قسط کے بدلے آئندہ بجٹ میں وہ تمام شرائط مان لیں جو جنگ سے پہلے والی معیشت کے لیے تھیں۔
اب اس بات پر امید لگا کر بیٹھ گئے ہیں کہ
ایران پر سے پابندیاں ہٹیں گی تو
پاکستان کو بڑا فائدہ ہو جائے گا۔
ایسے وزیرخزانہ کے ہوتے یہ ممکن نہیں لگ رہا کہ عوام کو واضح ریلیف ملے۔
(اسد آر چوہدری)