@Mfatiamh03@SrBachchan Sir, This Clip is viral in Pakistan, Please correct the statement that Karachi has never been part of Punjab, It is the part Sindh since the inception of human history. Some ignorant people using your statement as history.
Regards.
@Humachughtai Once a Toota Always a Toota.@AajKamranKhan
لیکن بیچارے بھٹو نے کیا واردات کی ہے چغتائیوں کے ساتھ کے ان کو خواب میں بھی بھٹو یاد آتا ہے۔
خیر رودالیوں کا کام ہی بین ڈالنا ہے وہ بھی پیسہ لیکر۔روتے رہیے ۔
@mahparasafdar اور ہم سمجھتے ہیں کے بٹوارے کے وقت جو Nexus بنا تھا مہاجر بیوروکریسی اور پنجابی فوج کا، اسی کی سارے سازش تھی سندھیوں کو اپنے شہروں سے بیدخل کرنے کے لئے۔ باجی جتنا بڑا سندھیوں کا دل ہے ، اس کا چوتھائی حصہ بھی اگر باقیوں میں ہو تو ، کوئی مسئلا ہی نہ ہو۔
@mahparasafdar آپ لوگ کیوں بھول جاتے ہو کے خون خرابہ بٹوارے کے بعد ہوا تھا،کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی۔اوراس خون خرابے میں سندھیوں کا کوئی کردار نہیں۔ باقی علی گڑھ کے لونڈے اتنے قابل تھے تو پاکستان وہاں بنا لیتے صرف سندھ میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔
@prohibent پنجاب اور بنگال کے لوگوں نے اپنی زمین کا بٹوارہ دیکھا ، ان کا دکھ سمجھ میں آتا ہے، ان کے کلیم بھی ہوسکتے ہیں ، آپ کا حق پوری پاکستان پر تھا ، تاوان صرف سندھیوں نے کیوں بھرا۔
@prohibent محترم ، یہ جو الف لیلا کی داستان لکھی ہے، پہلے یہ بتائیں کے جب بٹوارہ سندھ کا نہیں ہوا تو سندھیوں کا کیوں ہوا، اور UP. Cp کے سارے لوگ منہ اٹھا کے سندھ میں ہی کیوں آئے، نوشکی، میانوالی اور بنوں بھی پاکستان تھا ادھر کیوں نہیں گئے۔
@Rumii_Elia@sindhustaani@VHPDigital کوئی مجبوری نہیں تھی ھجرت کی تم لوگوں کو ، بنگال اور پنجاب کا بٹوارہ ہوا تھا ، ان کی ھجرت سمجھ میں آتی ہے، پاکستان تو مستونگ، لیہ اور بنوں بھی ہے، وہاں بھی جاکر اپنی قابلیت دکھاتے یا صرف سندھ ہی ہے پاکستانیت دکھانے کے لئے۔ ابھی بھی وقت ہے دھرتی کے ساتھ جڑ جائو ، امر ہو جائوگے۔
@Rumii_Elia@sindhustaani@VHPDigital نکے، دماغی خناس ان لوگوں میں ہے جو چار نسل کے بعد بھی مہاجر بنے ہوئے ہیں۔۔ شکر کرو کہ سندھ میں رہ رہے ہیں پنجاب میں بسنے والے مہاجرین کا کیڑا تو کبھی کا نکال دیا ہے پنجابیوں نے۔
@sindhustaani@Rumii_Elia@VHPDigital ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ھندستانی مہاجرین کو جو ابھی بھی خود کو مہاجر سمجھتے ہیں ایسے ہی واپس بھیجا جائے جیسے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جارہاہے۔
@mahparasafdar اور آخری بات اہل سندھ کا کوئی کردار نہیں بھی تھا اگر تو جناح کو بھی کیا پوٹلی میں لے آئی تھے جیسے اپنے حصے کا پاکستان اپنی پوٹلی میں لائے تھے۔
@mahparasafdar پنجاب کے چار لوگوں کےنام بھی بتائیے جنہوں نے تیر مارا تھا اس وقت۔ خون خرابہ ھجرت کی دوران ہوا ہے جس میں لوگ مرے، کوئی آزادی کی جنگ نہیں لڑی گئی تھی۔ بٹوارہ جب سندھ کا نہیں ہوا تو سندھ کے لوگوں کا کیوں ہوا۔ باقی یہ جو مہاجر مخلوق ہے اتنے قابل تھے تو ادھر ہی پاکستان بنا لیتے۔
@RShahzaddk جانتے کیا ہو K4 کے بارے میں. نہ ایریا کا پتا، نہ ہی پروجیکٹ کی Constructibilty کا پتہ۔ Client کون ہے ، contractor کون ہے ، Scope کیا ہے۔ بس ھر بات پہ اپنی چولیں مارنے ہیں۔
ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔
تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔
لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔
لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔
ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔
تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں،
تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
@CSMR786 منیب فاروق تو طوطا ہے ، مالکوں نے جو بولنا سکھایا وہی بولے گا۔ جیسے بلوچستان ایک SHO کی مار تھا نقوی کے لئے، ویسے ہی صوبے بھی بنا لینا۔ باقی زیادہ تر پنجابی دانشور ، انکر، سیاستدان، بیوپاری اور میڈیا مخلوق ہمیشہ کرائے پر دستیاب ہیں، مارتے رہو چولیں۔وہ گھوڑا وہ میدان۔ دیکھتے ہیں