وہ ماں، جس نے اپنے بچے کے قتل کے بعد دن رات عدالتوں کے چکر کاٹے، گواہوں کی تلاش کی، اور انصاف کی ایک کرن کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، آخر کار اس ظلم کی دنیا سے خود رخصت ہو گئی۔ اس کی جدوجہد، اس کا صبر، اور اس کی امید ایک ایسی داستان ہے جو معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔
ایک ماں کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ اپنے بچے کا کھونا ہے، اور جب اس دکھ کے ساتھ انصاف کی امید بھی دھندلی پڑ جائے، تو یہ درد روح کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
#Release_Leader_of_Majority
کبھی کبھی کسی کی موجودگی ہی بہت کچھ کہہ دیتی ہے، الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک نظر ہی کافی ہوتی ہے احساسات کو سمجھانے کے لیے۔ یہ خاموشی بھی ایک زبان ہے جو دل کی بات کر جاتی ہے 💙.
#مزاحمت_سے_زنجیریں_ٹوٹیں_گی
ان سب لوگوں کو آٹھ فروری کو دیکھنا ہے کہ یہ کیا کرتے ہیں
آٹھ فروری کو اگر اسی طرح نکل کر انھوں نے مین شاہراہیں بند نہ کیں اور عمران خان کی رہائی تک وہاں نہ بیٹھے تو پھر یہ سب بھی پتلی تماشہ کا حصہ ہیں ۔
It's been 3 years snd 3 months since I lost my brave investigative journalist husband, Arshad Sharif, and I'm still fighting for justice in Pakistan and Kenya. As a journalist, it's not easy to keep going without spouse, facing harassment and in battle for justice, but I'm grateful for the unwavering support of my country fellows, local journalists unions, lawyers, social media users and international media community.
Special thanks to PFUJ and RIUJ for standing with me, and a big thank you to IFJ for awarding me the International Press Card (IPC) on your 100-year celebration. I'm proud to be a journalist, activist, and unionist, and I'll continue to play my role in promoting press freedom and seeking justice.
#JusticeForArshadSharif
@IFJGlobal@ifjasiapacific@abellanger49
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
Day 1180 without Arshad Sharif
Day 1180 without Justice
تمہارا جانا کبھی بھول نہیں پائیں گے ہم
جب بھی بات ہوگی تمہاری تمہیں یاد کریں گے
وہ مسکراتا چہرہ بار بار یاد آئے گا
تم تو نہیں آو گے لوٹ کر اب
پر تمہارا احساس ہمیشہ ساتھ رکھنگے ہم
#ArshadSharifShaheed
#JusticeForArshadSharif
میرے پاکستانیو !!
تمام لوگ کان کھول کر سن لیں!
8 فروری 2026 وہ دن ہے جسے ہم نے عمران خان کی رہائی کا دن بنانا ہے۔ ہم نے اس دن کو مقصد دیا، مگر آج بھی کچھ لوگ جان بوجھ کر اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اب صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ عمران خان کا نام نہیں، بلکہ وہ نظریہ ہے جس نے غلام ذہنوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یاد رکھو!
عمران خان کوئی عام شخص نہیں جسے روکا جا سکے۔ عمران خان ایک سوچ ہے، ایک تحریک ہے، ایک بیداری ہے۔ اسی لیے عمران خان کے نام پر سیاست چمکانے والے، سوشل میڈیا کے جعلی ایکٹوسٹس، اور وقتی مفاد پرست آج بھی لعنت کے مستحق ہیں۔
8 فروری 2026 کو اگر تم سڑکوں پر نہیں نکلے، تو تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جو لوگ اس دن بھی بہانے بنائیں گے، وہی دراصل ظلم کے سہولت کار ہوں گے۔ عمران خان کے نام پر ریائیاں، ذاتی سیاست اور مفاد پرستی اب بند ہونی چاہیے۔
یہ ملک ذاتی مفادات کی سیاست نے برباد کیا ہے۔
اللہ پاک ان تمام چہروں کو بے نقاب کرے جو عمران خان کے نام پر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں، اور اس جدوجہد کو کمزور کرنے والوں کو نیست و نابود کرے۔ آمین۔
8 فروری 2026 — فیصلہ کن دن۔ یا حق کے ساتھ، یا تاریخ کے کٹہرے میں۔
We strongly condemn the unlawful isolation of @ImranKhanPTI and the denial of his basic human and legal rights. Blocking family meetings is psychological abuse and a clear violation of Pakistan’s Constitution, prison laws, and international human rights standards. We urge @UNHumanRights@UN@amnesty@hrw@ICRC@UN_Women@HRCP87 to take immediate notice.
اس سور کی شکل جب سامنے آتی ہے تو دل کرتا ہے کہ اس سور کو کوئی کُتے کی موت مار دے، اس کُتے کو، ذہنی مریض کو ذرا بھی خوفِ خدا نہیں، یہ سور پتا نہیں عمران خان سے کون سے بدلے لے رہا ہے، اس کے منہ پہ تھوکنے کو بھی جی نہیں چاہتا اتنی غلیظ اور کُتی چیز ہے یہ۔
#اڈیالہ_کے_باہر_دس_ہزار
جب بھی آپ کو عمران خان پر جیل میں ہونے والے مظالم پر غصہ آئے تو اس کا سب سے بڑا مجرم یہ شخص ہے- یہی وہ ذہنی مریض ہے، جس نے عمران خان پر جیل میں تشدد کی انتہاء کر رکھی ہے-
باقی مریم نواز، وزیر داخلہ، جیلر وغیرہ بھی ظالم تو ہیں، لیکن پھر بھی مہرے ہیں-
#اڈیالہ_کے_باہر_دس_ہزار #چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
سوچو پورے ملک میں ظلم و جبر فسطائیت کا دور جاری ہے
یہ وہ سور ہے جو اس پہ ایک لفظ نہی بولتا لیکن جیل میں قید ایک شخص پہ کتے کی طرح بھونکتا ہے
#اڈیالہ_پہنچو_خان_کی_خاطر
لگتا اس کی بھی پوری ویڈیوز ہیں اس کے مالکوں کے پاس
یہ چلے تھے نام مٹانے ریڈ لائن لگانے
لیکن عوام نے عمران خان کے نعرے ہوٹلوں بازاروں شادی ہالوں ائرپورٹس ہرجگہ لگا دیے
#اردو_زبان#اڈیالہ_پہنچو_خان_کی_خاطر