رسولِ اکرم ﷺ جب رات کے پُرسکون لمحات میں تہجد کے لیے قیام فرماتے تو اپنے ربّ کے حضور یہ جامع اور ایمان افروز دعا عرض کرتے:
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔
تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے۔
تو ہی حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے۔
جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔
اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ہی لیے جدوجہد کی اور تیرے ہی حضور فیصلہ پیش کیا۔
پس میرے اگلے اور پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر، تمام گناہ معاف فرما دے۔
تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
حوالہ : یہ مبارک دعا جامع الترمذی (حدیث: 3418) میں مروی ہے، اور اس کے الفاظ دیگر کتبِ حدیث میں بھی منقول ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات جس تک حدیث پہنچتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ فہم رکھنے والا ہوتا ہے۔”
یہ حدیث سنن ابن ماجہ (حدیث: 232) میں روایت کی گئی ہے۔
یہ دعا بندگی، یقین، توکل اور مغفرت کی کامل تصویر ہے۔
تہجد کے لمحات میں اسے پڑھنا دل کو نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے اور بندے کو اپنے رب سے قریب کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس دعا کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡم
’’رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ » ”
اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، ( اور آسمان و زمین کے درمیان روشنی پیدا کرنے والا ) تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم کرنے والا ہے، تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، تو حق ہے تیرا وعدہ حق ( سچا ) ہے تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیرے ہی خاطر میں لڑا اور تیرے ہی پاس فیصلہ کے لیے گیا۔ اے اللہ! میں پہلے جو کچھ کر چکا ہوں اور جو کچھ بعد میں کروں گا اور جو پوشیدہ کروں اور جو کھلے عام کروں میرے سارے گناہ اور لغزشیں معاف کر دے، تو ہی میرا معبود ہے، اور تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے“۔
(جامع الترمزی 3418)
حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں ۔
(سنن ابن ماجہ 232 )
جس ملک میں طلبا یونیورسٹی کالجز کی چھت سے کود کر خودکشیاں کریں اور ریاست ٹک ٹاکرز اور بیغیرتی عام کرنے والوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کررہی ہو تو اس ریاست نے زوال ہونا نہیں بلکہ زوال پذیر ہوچکی ہے
یہ لڑکا میٹلرجی کے شعبے سے وابستہ تھا اور کراچی میں’’ہنڈا اٹلس‘‘ میں ملازم تھا۔ اس لڑکے کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ لیڈ پکھلانے والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانا ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل تھا لیکن ہائر مینیجمنٹ نے دبائو ڈال کر یہ خطرناک تجربہ کرنے کا رسک لیا۔ فرنس پھٹ گیا اور یہ لڑکا اپنے چھے اور ساتھیوں سمیت جھلس گیا۔ حادثہ ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد تک محمد عامر زندہ رہا اور اس پوزیشن میں تھا کہ بیان دے سکتا، لیکن کمپنی مینیجمنٹ نے جان بوجھ کر ہسپتال پہنچانے میں دیر کی تاکہ جو جان باقی ہے وہ بھی ختم ہوجائے اور بیان نہ لیا جا سکے۔
چھے لوگ اس خطرناک تجربے کی بھینٹ چڑھے تو ’’ہنڈا اٹلس‘‘ نے اب فوت ہونے والے ورثا کو ڈرایا دھمکایا اور چند لاکھ پیسوں کا لالچ دے کر کہا کہ کہ تمہارا بندہ تو گیا اس دنیا سے۔ لیکن اگر قانونی کاروائی کے چکر میں پڑو گے تو جو چند لاکھ ملنے ہیں وہ بھی نہیں ملیں گے۔کپمنی نے ان ورثا سے سٹاپم پیپر پر لکھوا لیا کہ ہم عدالتی کاروائی نہیں چاہتے اور یہ ایک حادثہ تھا۔ باقی کے ورثا تو بیچارے خاموش ہوگئے لیکن محمد عامر کے بڑے بھائی ’’شریف اللہ‘‘ نے پاکستان کے پولیس اور عدالتی نظام سے مایوس ہوکر اس مقدمے کو سوشل میڈیا پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ آج کے دور میں جب ایک طرف ’’ہنڈا اٹلس‘‘ جیسا سرمایہ دار ہے اور دوسری طرف ایک مڈل کلاس بڑا بھائی تو سوشل میڈیا ہی آخری امید باقی بچتی ہے۔ شریف اللہ صاحب کا مطالبہ ہے کہ
۔۔۔۔۔ایک انکوائری ہونی چاہئے کہ لیڈ والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانے کا فیصلہ کس نے کیا ؟ جس کا فیصلہ تھا اسے کٹہرے میں لایا جائے
۔۔۔۔۔۔محمد عامر نے جھلس جانے کے بعد بڑے بھائی کو کال کرکے کہا کہ میرے آفس میں ایک ڈائری پڑی ہے جس میں آج کے تجربے کے بارے میں کچھ حقائق ہیں۔ اسکو پڑھاجائے لیکن وہ ڈائری کیوں غائب کردی گئی۔
۔۔۔۔۔۔حادثہ ہوتے ہی جگہ کو لاک کرکے فرنس کے آس پاس کی جگہ کی صفائی کردی گئی۔ کرائم سین سے شواہد کو کسکی اجازت پر صاف کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔کمپنی کو پتا تھا کہ آگ لگنی ہے اس لیے پہلے سے آگ بجھانے کا سامان پاس لاکر رکھا گیا ،لیکن جب پتا تھا کہ آگ لگنے کا اندیشہ ہے تو چھے لوگوں کو اس آگ میں کیوں جھونکا گیا۔
میں نے آج تک آپ لوگوں سے اپنی کسی ذاتی تحریر کو شئر کرنے کی درخواست نہیں کہ لیکن یہ تحریر میں نے شریف اللہ اور محمد عامر کے لیے لکھی ہے۔ میں اس پوسٹ کے ساتھ ضروری لنکس نتھی کر رہا ہوں۔ آپ لوگ ان کی وال پر جائیے اور مزدروں کا ساتھ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر انکی آواز کو اٹھائیے۔ اگر عوام کا دبائو ہوگا تو پولیس اور عدلیہ خود بخود ایکشن لینے پر مجبور ہوگی۔
آپ کم از کم محمد عامر کی فیملی کی آواز تو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
مبشر اکرام
جسے اللہ تعالی یاد رکھے
اسے بھلا کس چیز کا غم و خوف !
اللہ تعالی کا محبوب بندہ بننے کا آسان سا فارمولا !
القرآن الکریم:
سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔
( سورہ بقرہ، آیت 152 )
مایوسیوں کو مٹائیے ریپوسٹ کیجیئے !
72شہدائے کربلا💔😭
حسب توفیق شئیر کردیں
1 حضرت امام حسین بن علی
2 حضرت عباس بن علی
3 حضرت علی اکبر بن حسین
4 حضرت علی اصغر بن حسین
5 حضرت عبداللہ بن علی
6 حضرت جعفر بن علی
7 حضرت عثمان بن علی
8 حضرت ابوبکر بن علی
9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی
10 حضرت قاسم بن حسن بن علی
11 حضرت
I request all international human rights organizations to raise their voice against the massacre of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) workers in Islamabad, Pakistan, on 26 November night.
I want you to help the people of Pakistan ensure the safety of the PTI’s founder and former prime minister, Imran Khan, whose life is in danger in prison following the massacre.
Khan is the leader of Pakistan’s largest political party, who was indicted on trumped-up charges and has been imprisoned for one and a half years.
On behalf of millions of Pakistanis, I, Tayyaba Raja, a former political prisoner, request your urgent assistance in this matter.
Thanks and regards
@UNHumanRights@amnesty@UN_HRC@hrw@UNWatch@HRF@omctorg@OpenSociety@freedomhouse@ISHRglobal@realZalmayMK@realDonaldTrump@elonmusk
جولیان اسانج کے ادارے وکی لیکس نے 85 منٹس پر محیط ڈاکومنٹری جاری کی ہے خان صاحب کے حوالے سے اور انکی جدوجہد کے حوالے سے
یہ ڈاکومنٹری ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہر بندے کے موبائل تک پہنچانا ہمارا کام ہے
ضرور دیکھیں خود لگائیں آگے پہنچائیں