زیارت کے 4 مزید نوجوانوں کو شھید کردیا گیا جن میں صرف ایک کو دھرنے لایا گیا باقیوں کو نہیں چھوڑا جارہا۔
مت چھوڑوں! بیشک جلا دو ۔۔۔ لیکن یاد رکھو! یہ قوم اپنے بچوں کا بدلہ لینا جانتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا دادا افغانستان سے ہجرت کر کے آیا تھا یہ سارے افغانی ہے۔(فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا رپورٹ)
اگر افغانی نسبت آپ اور آپ کے آقا کےلئے باعث شرمندگی ہے تو پھر،، غوری میزائل ،، ابدالی میزائل۔ اور غزنوی میزائل کے نام بدل دیجئیے کیونکہ تینوں افغانی تھے۔
باجوڑ، گدون امازئی میں افیوم کی کاشت پر آپ نے سینکڑوں لوگوں کو مارا کیونکہ آپ اسے غلط سمجھتے تھے۔ اب کیا ہوگیا ہے جو گلستان سے لے کر کہاں کہاں تک ہزاروں ایکڑ پر افیوم کاشت کی گئی ہے اور آپ کے حکم پر کاشت کی گئی ہے؟ آپ افیوم کے ان پیسوں سے لشکر بنا کر اسے ہم سے لڑانا چاہتے ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ یہ جنازوں پر سیاست کر رہے ہیں۔
اللہ پاک نے کہا ہے کہ قصاص میں تمہاری زندگی ہے۔ ہم کس سے قصاص لیں؟ تم ہمیں صبح شام مارتے ہو کیونکہ تمہارے پاس بندوق ہے؟ حکومت بزور قوت تمہاری ہے۔ غاصب ہو تم۔
وزیراعلی صاحب کو جلدی ہے کہ یہ جنازے دفنائی جائیں۔
وزیراعلی صاحب! بات صرف ان شھداء کے ساتھ ہونے والی ظلم تک نہیں رہی، پشتون قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے ذریعے ہماری معدنیات سے بھری ہزاروں ایکڑ زمینیں لوگوں نے انتقال کی ہے کہ ہمارے خزانے لوٹ سکیں، اس کے خلاف دھرنے جاری رہیں گے
جو بھی آیا ہے، میرے اور تمہارے وطن میں میلہ سجتا ہے۔"
"ہر ۳۰ سال بعد، اس قوم نے ایک بار پھر اپنی تنظیم سازی اور اپنے آپ کو سنوارنے کے کام کو ادھورا نہیں چھوڑا ہے۔"
"ہر ۳۰ سال بعد اس وطن میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے۔"
"یہ ہنگامہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم (مایوس ہو کر) اپنے پیاروں کو چھوڑ دیں، یہ غوغا اس لیے نہیں ہے۔"
"وہ اس قوم میں یہ اہلیت دیکھتے ہیں، وہ اس قوم میں یہ جرات دیکھتے ہیں، وہ اس قوم میں یہ تنظیم دیکھتے ہیں،"
"اور اس جرگے، اس زندگی اور اس بحث و مباحثے میں وہ یہ قابلیت دیکھتے ہیں کہ یہ خطہ اس کام کو سنبھالے گا۔"
"اور یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، یہ یاد رکھنا، کہ جو کوئی بھی ہمارے درمیان اس وطن میں کسی دوسرے کا اختیار تسلیم کروائے گا، افغان اور پشتون کے بغیر—"
"یہ وطن افغان چلائے گا، یہ وطن پشتون چلائے گا اور انصاف کے ساتھ چلائے گا۔"
"یہ بات پشتونوں نے ثابت کی ہے اور زمانوں سے ثابت کی ہے۔"
"پشتون تاریخ میں ہمیشہ طاقتور اقوام کے درمیان آباد رہے ہیں۔"
"افغان وطن کے شمال میں روس اور ماوراء النہر (وسطی ایشیا) ہیں، یہ بہت طاقتور لوگ ہیں اور اس کے پڑوسی ہیں۔"
"بائیں طرف عرب اور ایران واقع ہیں، دائیں طرف چین ہے، نیچے ہندوستان ہے۔ ہماری آبادی ان طاقتوروں کے سامنے بہت کم ہے، ہم تعداد میں بہت کم لوگ ہیں،"
"لیکن تاریخ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ پشتون نے کبھی بھی روس کی ایجنٹی کی ہو چین کے خلاف،"
"یا چین کی ایجنٹی کی ہو ہندوستان کے خلاف، یا ہندوستان کے لیے ایجنٹی کی ہو چین کے خلاف۔"
"اس قوم نے ہمیشہ اپنی پگڑی اور اپنا سر اونچا رکھ کر یہاں وقت گزارا ہے،"
"اور اسی دوران انہوں نے پورے ہندوستان پر اپنی بادشاہت قائم کی ہے۔"
"عزیزو! یہ موجودہ پاکستان جس نے آج آواز اٹھائی ہے، یہ موجودہ ہندوستان جس کے پاس آج ایٹم بم ہیں،"
"یہ دونوں (خطے) افغان کے زیرِ اثر اور زیرِ دست رہے ہیں۔"
"افغان ہی ان کا قائد تھا، افغان ہی بادشاہ تھا اور افغان ہی رہنما تھا۔"
"آج یہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں جن سے دنیا کانپتی ہے، اور ہم ان کے درمیان میں رہ گئے ہیں اور ہمیں چوکیدار یا پتا نہیں کیا کچھ سمجھا جاتا ہے۔"
"عزیزو! ہم کسی سے شکوہ نہیں کرتے، کسی کے ساتھ دشمنی نہیں کرتے، بات صرف اتنی ہے کہ—"
"ہم اس وطن میں سر اٹھا کر جینا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں۔"
"ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے، پاکستان ہمارا ملک ہے۔"
"پاکستان کی عمر ۷۸ سال ہے، یہ مجھ سے شاید ایک آدھ سال بڑا ہوگا۔"
"یہ افغان، یہ بلوچ، یہ سندھی، یہ پنجابی سب بھائی ہیں اور دل سے اس وطن کے بیٹے ہیں،"
"وہ اس وطن کے باسی ہیں۔"
"لیکن ایک بات ہے، خود کو افغان کے برابر لانا اور اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ضروری ہے۔"
"عزیزو! بات یہ ہے کہ آج لوگوں نے تمہارا وطن دیکھ لیا ہے۔"
"تمہارا وطن دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہے، خواہ یہ پشتون کا وطن ہو یا بلوچ کا خطہ ہو۔"
"آج سب سے بری بات یہ ہے کہ دنیا کے طاقتور یہ سوچتے ہیں کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کی زمینیں چھین سکتے ہیں،"
"اور انہوں نے ماضی میں ایسا کیا بھی ہے، یہاں تک کہ آزاد ملکوں کے صدور کو زندہ گرفتار کیا۔"
"ایسے حالات میں عزیزو! پشتون کہتے ہیں کہ 'جنگ کے دن گھوڑے کو تیار نہیں کیا جاتا'۔"
"ہم پچھلے تین سالوں سے چیخ رہے ہیں کہ او لوگو! مصیبت آ رہی ہے، لیکن کوئی بات نہیں، اب بھی دیر نہیں ہوئی۔"
"اب بھی وقت ہے کہ پشتون یہ سمجھیں کہ ہمارے وطن کو خطرہ ہے۔"
"پشتونوں میں یہ اہلیت موجود ہے، میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ—"
"نہ یہاں عدالت ہے، نہ یہاں حکومت ہے، نہ یہاں انصاف ہے اور نہ ہی وہ اسلام ہے جس کا ذکر قرآن کریم کرتا ہے۔ یہاں صرف دھوکہ، فراڈ اور بدمعاشی ہے۔"
"اس کے خلاف یہ دھرنے جاری رہیں گے۔"
"میں یہ تجویز پیش کر رہا ہوں اور اس پر کام بھی کر رہا ہوں کہ یہاں پشتونوں کا ایک بڑا جرگہ بلایا جائے۔"
"تمام پشتونوں کا جرگہ ہوگا، جس میں ایک ہزار، بارہ سو یا پندرہ سو لوگوں کو مدعو کیا جائے گا۔"
"یہ جرگہ فیصلہ کرے گا کہ ہم اس وطن میں زندگی کیسے گزاریں گے اور اپنے ان خزانوں، وسائل اور خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی حفاظت کیسے کریں گے۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
پاکستان کو hard state بنا دیا گیا ہے جس میں ہر مخالف کو گولی سے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہم پاکستان توڑنا نہیں چاہتے لیکن اگر خدانخواستہ اپ نے لازمی ملک توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر خون بہا کر کیوں؟
ہم امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ ہماری یہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ زر و زور کی بدولت آئی ہے۔ ہمارے وطن کے معدنیات کی متعلق یہ جو بھی معاہدے آپ سے کریں گے، ہم اس کے پابند نہیں ہونگے۔
آپ نے معاہدے کرنے ہے تو عوام کے ساتھ کریں
محمود اچکزئی بتاتے ہیں منگی چیک پوسٹ پر جب دہشتگردوں نے حملہ کیا پولیس اہلکاروں نے ہتھیار نہیں ڈالے اتنا لڑے کہ گولیاں ختم ہو گئیں مدد کے لئے سکیورٹی اداروں کو کالز کی جواب میں کچھ نہ بھیجا گیا
گولیاں ختم ہونے کے بعد 8سے 9 پولیس اہلکار شہید ہو چکے تھے باقی جو بچ گئے تھے ان کو اغواہ کیا پہاڑوں پر لے جا کر ان کو شہید کردیا
شہدا کی لاشیں گھنٹوں پہاڑوں میں پڑی رہیں حکومت ریاست کوئی بھی لاشیں اٹھانے نہیں آیا مقامی لوگوں نے اہلخانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹرک منگوا کر مزدوروں کی مدد سے لاشیں نیچے اتروائیں اور جب لاشیں گاؤں لے کر جا رہے تھے حکومت کے لوگوں نے لاشیں ان سے لینے کی کوشش کی کے ہمارے حوالے کردیں
ہم کیسی ریاست ہیں ہم اپنے شہیدوں کی لاشیں نہیں اتار سکے اور ہمارے وزیراعظم ٹو پیس سوٹ پہن کر جنازے میں پہنچتے ہیں بے حسی کی انتہا دیکھیں
اسدطور
ہم افغانستان کو پانچواں صوبہ نہیں بننے دیں گے۔ یہ ایک آزاد ملک ہے۔ اسٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی قبول نہیں ہوگی۔
ہمارا ہر کارکن جمہوریت کا لشکر ہے۔ ہم کوئی مسلح مسلح لشکر نہیں بنا رہے ہیں۔
میں نے 2B-2B کے خلاف سپریم کورٹ جا کر اسے چیلنج کیا تھا۔ عہدوں کی طلب نہیں تھی۔
پاکستان کی بقا آزاد عدلیہ، آزاد صحافت اور افواج کے دائرہ کار میں رہنے میں ہے۔ انہیں سیاست میں نہ گھسیٹیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں قید بزرگوں اور بچوں کو پارلیمنٹ کی قرارداد یا آرڈر کے ذریعے رہا کیا جائے۔
اگر ان باتوں کا برا مانتے ہیں تو مانیں، میں یہ کہتا رہوں گا۔
آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔
آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔
ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔
کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
اگر کوئی پاکستان کو چلانا اور بچانا چاہتا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، بچانے اور چلانے کا طریقہ یہ ہوگا کہ یہاں ایک آئین ہوگا، ہر ادارہ آئین میں متعین کیے گئے فریم ورک کا پابند ہوگا، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی اور داخلہ اور خارجہ پالیسیاں وہی سے نکلیں گی۔
یہ پاکستان ترقی کرے گا
افغانستان کے ساتھ ہمارے انتہائی برادرانہ تعلقات ہیں،افغانستان آزادی کے بارے میں انتہائی حساس ہے۔ افغانستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے اور افغانوں کو بھی ہر صورت میں پاکستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے
گولیوں، دھماکوں سے مسائل حل اور ختم نہیں ہوں گے، برطانیہ، امریکہ، روس افغانستان میں داخل ہوئے انہیں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑااور افغانستان سب کا قبرستان بن گیا۔ خدا نخواستہ اگر ہم نے یہ غلطی کی تو یہ سارا پشتون بلوچ علاقہ خطرناک آگ کی لپیٹ میں آجائے گا
ہمارے خطے میں ایران کی جو صورتحال ہے اگر دنیا کے طاقتور ممالک امریکہ،روس، چین،برطانیہ، فرانس کا میدان جنگ ہمارا خطہ بنا تو پھر بہت بڑی بربادی ہوگی۔یہ ہم کئی سال سے کہہ رہے تھے کہ ہمارے حکمرانوں کی عقل کا امتحان ہے۔ ہمیں ہر صورت اپنے خطے کو جنگ سے نکالنا ہے
افغانستان کے معاملے میں لوگ مداخلت نہ کریں، افغانستان تاریخی طور پر آزاد رہا ہے۔ا
گر خدانخواستہ افغانستان ٹوٹا تو پاکستان اور ایران بھی ٹوٹ جائیں گے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کریں
بلوچ ماما اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے نام پر لوگ پشتونوں کی گاڑیاں جلاتے ہیں، گاڑیاں، نقدی وغیرہ چھینتے ہیں، ہمیں بتائیں کہ جب آپ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو میرے لوگوں کو مارنا کون سی آزادی ہے؟ میرے گھر کے سامنے غنڈا ٹیکس چوری، لوٹ کھسوٹ یہ سب کیا ہے؟