ممتاز عالم دین ،داعی کبیر ،تبلیغی بزرگ مولانا احسان الحق مرحوم کی وفات پر قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمان کا اظہار تعزیت
حضرت مولانا محمد احسان الحقؒ کی وفات عالمِ اسلام اور بالخصوص اہلِ پاکستان کے لیے بڑا علمی و دعوتی نقصان ہے ۔ مولانا فضل الرحمان
مولانا محمد احسان الحقؒ نے پوری زندگی علم، دعوت، تبلیغ اور تزکیۂ نفس کے لیے وقف کیے رکھی۔ مولانا فضل الرحمان
حضرت مولانا احسان الحقؒ کی دینی، علمی اور اصلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔مولانا فضل الرحمان
مولانا احسان الحقؒ ہزاروں علماء کے استاد اور لاکھوں انسانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے ۔ مولانا فضل الرحمان
حضرت مولانا احسان الحقؒ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک مخلص عالم، مربی اور مبلغ سے محروم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان
حضرت مولانا احسان الحقؒ کی زندگی علم و عمل، دعوت و تبلیغ اور تزکیہ و اصلاح کا حسین امتزاج تھی۔مولانا فضل الرحمان
مولانا احسان الحقؒ کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہیں گی۔مولانا فضل الرحمان
حضرت مولانا محمد احسان الحقؒ کی وفات پر دلی صدمہ ہوا، اہلِ خانہ، تلامذہ اور متعلقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد احسان الحقؒ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔مولانا فضل الرحمان
حضرت مولانا احسان الحقؒ کے انتقال سے پیدا ہونے والا علمی و دعوتی خلا آسانی سے پُر نہیں ہوسکے گا ۔ مولانا فضل الرحمان
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو ہمارے پیچھے
کم بختوں وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے
طریقۂ واردات تو تبدیل کرلو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔
اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کو سننا ہمیشہ ایک فرحت بخش اور نشاط انگیز تجربہ ہوتا ہے، ’ان کہی‘ کو کس طرح نفاست کے ساتھ ’کہی‘ کی مالا میں پرویا جاتا ہے، یہ صرف انہی کا خاصہ ہے اور اس فن میں وہ طاق ہیں۔ وہ مقامات جہاں بڑے بڑے جغادریوں کا پتہ پانی ہوتا ہے وہاں مولانا مسکرا مسکرا کر گزر جاتے ہیں۔ جن طاقتوروں کا نام زبان پر لانے سے درباری شعبدہ بازوں کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، مولانا ان دہشت کے پتلوں کو اتنی شفقت اور بے تکلفی کے ساتھ پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں کہ وہ سب زور آور مولانا کی کلاس کے غبی طالب علم نظر آتے ہیں۔ مولانا اپنی تقریر میں نہ جذباتی الاؤ بڑھکاتے ہیں، نہ ہی درشت الفاظ کی کیلیں ٹھوکتے ہیں اور نہ ہی تڑیوں اور دھمکیوں کی کنکریاں مارتے ہیں لیکن حریف کے دل پر آرے چلتے جاتے ہیں، مولانا مسکراتے ہیں، دانت نکالتے ہیں، قہقہہ مارتے ہیں، آنکھیں مٹکاتے ہیں اور اپنی بانچھوں کو کھلا چھوڑتے ہیں اور مخاطب تلملاتا رہ جاتا ہے۔
جیسا دکھائی دینے کی کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں کہ ایسے نہیں ہو تم
ہاں تم پہ ناز کرتی ہیں وعدہ خلافیاں
ہاں میرے انتظار کے لائق نہیں ہو تم
(شیخ نوید)
کسی بھی ملک کے لیے اگر ریاست کوئی پالیسی بناتی ہے اور وہ غلط ہے، وہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے، تو میں ڈنکے کی چوٹ پر تمہیں کہوں گا کہ تمہاری یہ پالیسی غلط ہے۔