بولتے کیوں نہیں مرے حق میں. آبلے پڑ گئے زبان میں کیا۔
سرحد کے پار دونوں طرف ایک ہی کہانی ہے ایک ہی فارمولے پر لکھی۔ لیکن جب منہ عسکری موتیوں سے بھرے ہوں تو عوام سے بولنے کا حق تو چھینا ہی جاتا ہے لیکن جن کو بولنے کی اجازت ہے ان کی قریبی نظر کمزور کر دی جاتی ہے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
#خان_قید_نہیں_یرغمال_ہے
معذور قوم کی وہیل چئیر پر بیٹھی لنگڑی لڑکی کو خاردار تاروں میں گھسیٹنے والی پاکستانی وحشی پولیس
بیٹیوں پر ڈنڈنے برساتی انڈین پولیس
یہ تو نہیں کہ یہ لڑکیاں بہت طاقتور ہیں
ان کے جسم فولادی ہیں
انہیں ڈر نہیں لگتا، درد نہیں ہوتا
مگر دونوں بیٹیاں اپنی اپنی قوم کی ترجمانی کر رہی ہیں
" آپ لوگ اپنے بچوں کو کیسے فیس کرتے ہیں "
سن کر پولیس والوں کی نظریں شرم سے جھک گئیں
مگر پاکستانی پولیس اور دیگر بندوق بردار مقدس ادارے
مجال ہے جو 9 مئی کے ظلم و لوٹ مار اور 26 نومبر کے قتل عام پر ذرا بھر شرمندہ ہوں
ہمارا سامنا تاریخ عالم کے سخت سفاک اور ظالم ترین ڈکٹیٹر سے ہے
سری لنکا ، نیپال ، بنگلہ دیش کے بعد اب بھارت میں صدیوں پرانے بھوت موت کے قریب ہیں
پاکستان ان سب سے آگے تھا
سب سے پہلے پہل کر چکا تھا
مگر 26 نومبر کے قتل عام کے بعد حوصلے ہار گیا
کیونکہ ان میں سے کسی ملک کے نہتے نوجوانوں کو مشین گنز کا سامنا کرنا پڑا
شاید اس لیے وہ سرخرو ہوئے
جب بھاجپا سرکار ، مودی اور اس کا میڈیا اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا آپ نے فلسطین کاز کی بہت حمایت کی
جب ہمارے عمران خان کی عوامی حکومت آئے گی تو نیہا جی آپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے گی اور اسٹیٹ گیسٹ کا رتبہ دیا جائے گا
انقلاب جیتے گا
ظالم ہارے گا
ان شاءاللہ
صیہونی میڈیا ہار گیا
گودی میڈیا ہار گیا
عسکری تو ان کے لیول کا بھی نہ تھا
کب کا ہار چکا
کیونکہ سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے
سوچ قفس میں آزاد رہتی ہے
تبدیلی ہی دنیا کا واحد مستقل ہے
ہوا نہیں چلے گی تو"حبس"ہوگا
اور یہی طوفان کی نوید بنتا ہے
یہی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے
@Aadiiroy2 رپلائیز پڑھنے کے بعد تجھے چاہئے کہ شرم سے ڈوب مرے
کیا فائدہ ایسی زندگی کا جسے چلانے کے لیے جھوٹ کا کاروبار کرنا پڑے
کر کے کھانا تو تیرے بس کا نہیں