عجیب قوم ہیں ہم، چند دن شور مچاتے ہیں اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں
سرحد یونیورسٹی کے طلبہ اور پمز ہسپتال کے بچوں کو بھی بھول گئے
یاد رکھیں جب قومیں ظلم اور ناانصافی بھلا دیتی ہیں تو ظالموں کو مزید ظلم کا حوصلہ ملتا ہے
ظلم کے خلاف آواز تب تک اٹھانی چاہیے جب تک انصاف نہ مل جائے
جس دن سوال پوچھنا جرم اور تنقید کرنا قابلِ سزا بن جائے، اُس دن خاموشی امن نہیں رہتی، جبر بن ��اتی ہے۔
اختلاف کو کچلنے کے بجائے جواب دینا سیکھیں؛ کیونکہ آزاد سوچ کو قید کرنا کسی ریاست کے لیے عزت نہیں۔
#شفقت_مسعود_کو_رہا_کرو
اگر سچ بولنے والا خطرہ بن جائے اور سوال کرنے والا مجرم، تو سمجھ لیجیے مسئلہ الفاظ میں نہیں، طاقت کے رویے میں ہے۔
قلم کو زنجیر پہنائی جا سکتی ہے، مگر سوچ کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
#شفقت_مسعود_کو_رہا_کرو