کبھی آپ نے سوچا مولانا فضل الرحمان پر نصف درجن سے زائد خودکش حملے کیوں ہوئے؟ کیونکہ دہشتگردوں اور خوارج کی نظر میں مولانا واجب القتل ہیں، مگر کیوں؟ اس لئے کہ وہ پاکستان کے آئین، قانون، پارلیمان اور جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں یعنی وہ خوارج کے مقابلے میں ریاست کیساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے فقط خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ دہشتگردوں اور خوارج کیخلاف باقاعدہ تقاریر کیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں، ایک بندہ جس کی 40 سالہ جمہوری جدوجہد ہے اسے غدار اور باغی قرار دینا انتہائی بدقسمتی ہے، ریاست پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے، اگر میری جانب کوئی اشارہ کرے کہ آپ کے دامن پہ داغ لگا ہے بجائے اس کے کہ میں اس داغ کو دھوؤں الٹا اشارہ کرنے والے کے گلے پڑ جاؤں، ستم ظریفی اور شومی قسمت تو دیکھئے کہ جنہیں یہ بھی نہیں پتا کہ TANQEED "ت" سے لکھی جاتی ہے یا "ط" سے وہ بھی مولانا فضل الرحمان پر تنقید کر رہے ہیں
یہ کیا ہو گیا؟؟؟ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی ٹرینڈنگ تو دن گزرتے ہی ختم شد ۔۔۔ اب صرف جے یو آئی کے سوشل میڈیا مجاہدین ڈٹے ہوئے ہیں اور ہاں یہ بھی یاد رہے کہ اگلوں کی مہم پیسے لے کر چلائی جا رہی ہے جبکہ مولانا کے متوالے اپنے بل بوتے پر میدان میں ہیں اگلوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ کن ہڈ حراموں پر پیسے ضائع کر رہے ہیں #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ @MoulanaOfficial
#معافی_مائی_فٹ پاکستان میں No.1 Trending
یہ صرف ایک ٹرینڈ نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ نظریے کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ جمعیت کے تمام ابابیلوں کو سلام، جنہوں نے اتحاد اور محنت سے ہر پروپیگنڈے کا جواب دیا۔
یہ تو صرف آغاز ہے۔