یہ سفید ریش حاجی صمد 20 مہینوں سے سند کے گرم ترین علاقہ دادو جیل میں جعلی ایف ای ارز میں قید ہے
آج سند کے ضلع دادو سیشن کورٹ میں انکی پیشی تھی حاجی صمد کے چلنے والے آٹھ ماہ سے ایف آئی آر میں سرکاری گواہ پہلی بار پیش ہوا۔ دو یف آئی آرز پر جج کا فیصلہ ہونا تھا۔ اٹھ مہینے سے ہم اس سرکاری گواہ کے لیا انتظار کرتا رہا۰
پہلے سرکاری گواہ نے ہمیں کہا تھا کہ میں صاف صاف بیان دوں گا اور آپ کیس سے بری ہو جائیں گے۔ لیکن جیسے ہی عدالت روم میں داخل ہوئے اور جج نے سائیڈ روم کو گواہ کو بلایا، تقریباً ایک گھنٹے تک انے درمیان گفتگو جاری رہی ایک گھنٹہ انتظار کے بعد گواہ باہر ائی گواہ گواہی دینے اور سچ بیان کرنے سے انکاری ہو گیا۔
وکیل نے کافی دلائل اور بحث کی، لیکن آخر میں تین گھنٹے انتظار کے بعد جج نے گواہ بلاتے ہوئے انکو مخاطب کرکے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس کیس میں لالا کو ضمانت مل گئی تو دونوں کو ڈنڈے دیں گے۔ جج نے کہاں گواہ کیس سے اچھے طرح واقف نہیں ہے کیس کو سٹڈی کرکے پر پیشی ہوگی تاہم تاریخ تبدیل کرکے اگلی پیشی 25 اگست مقرر کر دی گئی۔
حاجی صمد نے جج کو مسکراتے ہوئے کہا:
“کوئی بات نہیں، ہماری وجہ سے اپنی روزی روٹی کو نقصان نہ دیں۔ ہم اپنے وطن کے دیوانے ہیں، یہ سب برداشت کرتے رہیں گے۰
یہ سب کچھ ہمارے ساتھ اسلئے ہو رہا ہے کیونکہ ہم پشتون ہے ؟
#FreeHajiSamad
#ReleaseHajiSamad
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔
اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
جہاں نواب و سردار اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہو وہاں نواب و سردار اور انکے کارندے اسٹیبلشمنٹ کیلئے علاقائی سہولتکاری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور اس سہولتکاری کے عوض اسٹیبلشمنٹ سرداروں نوابوں اور انکے کارندوں کو ہر عمل کرنے کی قانونی و عسکری معاونت بطور انعام فراہم کرتی ہے۔
آسمہ جتک اس کے خاندان، اس کے منگیتر اور دو سال قبل آسمہ کے اغوا کے وقت اس کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا یہ سب اسی گٹھ جوڑ کے بلبوتے کا تسلسل ہے۔
نواب ثنا اللہ زہری کے کارندے ہوں، یا سردار کھیتران کے، سرفراز مسوری کے کارندے ہوں یا جمال رئیسانی کے ان پہ اسٹیبلشمنٹ کا سایہ بنا رہے گا چاہے کوئی بھی جرم کریں۔
مولانا صاحب کی طرز سیاست سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی اس واقعے کے حوالے سے تقریر حقائق پہ مبنی ہے۔
آج قبائل سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ، وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا تو ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کی صلاحیت بھی اس کے اندر ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔
اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ اسٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے تو فنا کر دو۔ کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پر نگوشییٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو؟ ایک پوائنٹ بتایا جائے۔
جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔
میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
This is #Balochistan that Pakistan will never allow you to see
20-year-old student Kamran Baloch was brutally tortured by death squads backed by Pakistani Army. Today, when his sister went to receive his body to give him a final farewell, the authorities refused to hand it over.