کسی کالج یا یونیورسٹی کے فرصت کے لمحات میں ایک بہت اچھے مُوڈ میں گائی گئی فیض کی لازوال نَظم۔ اگر اقبال بانو سنتیں تو شاید اس لڑکی کے ماتھے پر بوسہ دیتیں، گذشتہ دس سالوں کے دوران اس لڑکی کی آواز میں یہ نظم بیس پچیس دفعہ تو ضرور سنی ہوگی اور یقین کیجئے ہر بار پہلے سے زیادہ لطف آیا، آپ بھی لطف اٹھائیے
❞شُعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو❝
دَشتِ تنہائی میں
اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سَراب
دَشتِ تنہائی میں
دُوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں
تیرے پہلو کے سَمن٫ اور گلاب
اُٹھ رہی ہے ٫ کہیں قُربت سے
تیری سانس کی آنچ
اپنی خُوشبو میں ٫ سُلگتی ہوئی
مَدھم مَدھم
دُور اُفق پار چَمکتی ہوئی
قطرہ قطرہ
گِر رہی ہے
تیری دِلدار نَظر کی شبنم
اِس قدر پیار سے
اے جانِ جہاں رکھا ہے
دِل کے رُخسار پہ اِس وقت
تیری یاد نے ہاتھ
یُوں گماں ہوتا ہے
گرچہ ھے ابھی صُبحِ فِراق
ڈَھل گیا ہجر کا دن
آ بھی گئی وَصل کی رات
دَشتِ تنہائی میں
اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سَراب
(فیض احمّد فیض)
جب عمران خان نے اپنی منگنی کے حوالے سے لفظ عورت استعمال کیا تو معین اختر نے کہا کہ لگتا ہے آپکی اردو کمزور ہے عورت نہیں لڑکی ۔۔۔ عمران خان نے معین اختر کو اسی وقت حاضری دماغی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی ہوتی ہے جب پچیس سال کی عمر میں منگنی کی جائے ۔۔۔ عمران خان کی مزیدار باتیں ہر سوال پر سکسر 🤎🫶
یہ کل ایران کی سعودی عرب کی سرزمین پر بلاسٹک میزائل حملے کی ویڈیو ہے ایران نے پچھلے چار مہینے کے بعد سعودیہ پر یہ پہلا براہ راست حملہ کیا ہے یاد رہے یہ حملہ پاکستان کے اس بیان کے بعد دیا گیا کہ سعودیہ پر کسی قسم کا حملہ پاکستان کی ریڈ لائن ہو گا
یعنی کہ وہ ٹیکنالوجی جائینٹ دوسرا نیا فون رکھنا افورڈ نہیں کر سکتے تھے اس لیے بٹنوں والا سستا فون لے کر آئے ہیں، اوہ لکھ دی لعنت تیرے تے چولا
@javeednusrat
ٹرمپ اپنے ساتھ جہاز بھر کے ہائی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان کو لے کر چین گیا ہے۔ وہ سب اپنا پرسنل فون ساتھ نہیں لائے بلکہ بٹنوں والا برنر فون لائے ہیں۔ یہ لوگ اس دورے میں بٹنوں والا فون استعمال کریں گے اور پھر پھینک دیں گے۔ انہیں یہ خدشہ تھا کہ اگر ہم اپنا پرسنل فون استعمال کریں گے تو وہ سارا ہیک ہو جائے گا۔ یہ ہے ان کے درمیان اعتماد کا عالم۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو
#PublicNews #PublicProgram #KhabbarNashar @_AdnanHaider@javeednusrat
وائٹل سائنز کے اچھے خاصے ملی نغمے کا پنجاب حکومت کی تقریب میں بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، خاتون کو نہ گانا آ رہا ہے، نہ شرم آ رہی ہے
feeling second hand embarrassment
پہلی دفعہ درست بات کرنے پر آپکو شاباش بنتی ہے۔ آپکی کہی بات کا ثبوت بھی حاضر ہے۔
نواز شریف نے کس طرح اپنے سیاسی مخالفین کیلیے گھٹیا زبان کے استعمال کو فروغ دیا، کیا الفاظ استعمال کرتے رہے، پوری نسل میں زہر گھولا۔ ملاحظہ کیجیے
دُنیا کے پاس مہدی حسن، ٹکر کارلسن اور پئیرس مورگن جیسے بڑے نام ہیں جہاں ہارڈ ٹاک میں بھی شائستگی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہمیں ارشاد بھٹی، ریحان طارق اور مزمل شاہ جیسی کھچیں ملی ہیں جن کا سارا فوکس لوگوں کی نجی زندگیوں کو ڈسکس کرنا اور ذاتیات پر حملے کرنا ہے۔
میرے دوست @AliSufianWasif نے اسی لیے پاکستانی پاڈ کاسٹ کو بہت پہلے ” پَد کاسٹ “ کا نام دیا تھا۔
محترم ایسے ہی چوتیاپوں کی وجہ سے تمھاری صحافت وڑ چکی ہے، بغیر سر اور پیر کے بس کوئی بھی ویڈیو اٹھا کر خبر بنا دو گے، رہی سہی کریڈیبیلیٹی بھی وڑ جائے گی
@ARYSabirShakir
کامیڈین کے فلسفہ مقبولیت کا ایک اور پوسٹ مارٹم
جاہل مسخرا کہتا ہے کہ مقبولیت تو ایک لڑکی ڈانس کرکے بھی حاصل کر لیتی ہے
ہیلن آف ٹرائے مشہور اور مقبول تھی، لیکن مقبولیت کیوجہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر ایک پرنس کے ساتھ بھاگنے میں تھی، اور اُس کے نتیجے میں ایک سلطنت کے تباہ ہونے کیوجہ سے مشہور ہوئ
کلوپیٹرا مشہور اور مقبول تھی تو روم کے دو بادشاہوں جولیس اور انتھونی سے معاشقے اور اُنکو کو تباہ کرنے کیوجہ سے مشہور ہوئ
اب کوئ گدھوں کو سمجھاۓ، “بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہو” کوئ مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہے،
مقبولیت قبولیت کا نام ہے، لیکن قبولیت کی مختلف کیٹگریز ہیں، لیڈرشپ ماڈل، پیشہ وارانہ ماڈل، میدان جنگ کا ماڈل، آرٹس، شو بزنس، فلاح و بہبود کا ماڈل اور انسانیت کی خدمت کا ماڈل
ہم مقبولیت میں ڈاکٹر عبدلقدیر کا موازنہ انجمن سے نہیں کرتے
ہم مقبولیت میں قائداعظم کا موازنہ نور جہاں سے نہیں کرتے
ہم عبدلستار ایدھی کا موازنہ یو ٹیوبر ڈلی بھائ سے نہیں کرتے
ہم مقبولیت میں گاندھی کا موازنہ سری دیوی سے نہیں کرتے
مقبولیت عوام کے لیڈر کے طور پر ہے تو قائداعظم، علامہ اقبال، عمران خان کے نام آتے ہیں،
اگر فلمی اداکارہ کے طور پر ہیں تو شبنم، نغمہ، زیبا، بابرہ شریف کے نام آتے ہیں، اگر ٹی وی اداکار کے طور پر ہو تو فردوس جمال، عابد علی،شفیع محمد کے نام ذہن میں آتے ہیں،
اگر کامیڈین کے طور پر ہے تو معین اختر، عمر شریف، منور ظریف، رنگیلا، ننھا، خالد عباس ڈار کے نام آتے ہیں
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں عمران خان سے زیادہ مقبول لیڈر کبھی پیدا نہیں ہوا؟
گاندھی بر صغیر پاک و ہند کی کل آبادی کے 65 فیصد ہندو آبادی میں مقبول اور قبول تھا،
قائداعظم برصغیر پاک و ہند میں کل مسلم آبادی کے 65 فیصد مسلمانوں میں مقبول اور قبول تھے،35 فیصد مسلمانوں نے تو پاکستان ہجرت ہی نا کی,
شیخ مجیب 1971 میں آدھے پاکستان یعنی 50 فیصد آبادی میں مقبول اور قبول تھا
بھٹو 1971 میں پاکستان کی کل آبادی کے 35 فیصد میں مقبول اور قبول تھا
آج عمران خان پاکستان کی کُل آبادی کے کم از کم 80 فیصد آبادی میں مقبول اور قبول ہے، کسی سیاسی لیڈر کی ایسی مقبولیت یا قبولیت آج کی دُنیا میں بھی شاذو نادر ہی دیکھی گئی ہے
اس ویڈیو کو دیکھ کے دل پھٹ گیا ہے
لیکن وعدہ ہے خدا کی قسم یہ صہونی نہیں بچیں گے اور وہ جو کافروں کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی اس دھرتی پہ عزت سے نہیں رہیں گے ۔ان تمام کافروں اور منافقین کا وقت برا ا گیا ہے ۔💔🥹
محترم اگر برا نہ منائیں تو ان لوگوں کے نام اور فون نمبر بھی شئیر کر دیں، تاکہ کسی آپکی خبر پر اعتراض کرنے کا موقع نہ ملے، پاکستان میں تو ایسے افراد کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے، اور عرب إمارات کو آپ جیسے خبری لال کو پوچھنے کا ٹائم نہیں ہے،
@HarmeetSinghPk
متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کے حوالے سے ایک نہایت تشویشناک اور سنگین صورتحال سامنے آئی ہے۔ متعدد متاثرہ افراد نے براہِ راست رابطہ کر کے بتایا ہے کہ ایسے پاکستانی شہری، جن کے ناموں میں حسن، حسین یا عباس جیسے الفاظ شامل ہیں، انہیں یو اے ای سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی صرف مزدور طبقے تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے پیشہ ور افراد اور بڑی کاروباری شخصیات تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے کئی دہائیوں سے وہاں مقیم ہیں، بعض افراد بیس سے پچیس سال سے کام کر رہے ہیں، ان کا ریکارڈ صاف ہے اور پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بہترین ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اچانک ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔متاثرین کے مطابق پہلے ان کی فیملیز کو ملک سے نکالا گیا، اور اس کے فوراً بعد خود ان افراد کو ملازمتوں سے فارغ کر کے ڈیپورٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک چھ سو سے زائد افراد کو بے دخل کیا جا چکا ہے۔ کچھ متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں بیرکوں میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ سخت رویہ، حتیٰ کہ تشدد بھی کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ شناخت یا خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جس سے انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی لیبر حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ ایسے افراد جو برسوں سے کسی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ یقینی طور پر باعثِ تشویش ہے۔
اس صورتحال میں حکومتِ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کرے اور سفارتی سطح پر اس معاملے کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
میں مریم نواز کا ایڈوائزر ہوتا تو مشورہ دیتا کہ ایک ٹویٹ کریں اور لکھیں
"میں کوئین نہیں، عوام کی خادم ہوں۔ نسیم شاہ میرے بچوں کی طرح ہے، میں نے اس کی بات کا برا نہیں مانا۔ نسیم تم ہیرو ہو، بہترین کھیل پیش کرو، ملک کا نام روشن کرو اور چھا جاو۔ بیسٹ آف لک‘‘
یقین کریں بات ختم ہو جاتی اور مریم نواز کا قد بھی بڑا ہوتا۔