پاک پتن کی غریب بچیاں ۔۔تھانے صحیح سلامت جاتی ہیں اور پھر ان کی لاشیں ان کو ورثاء ملتی ہیں۔۔ ان کے لیے وہ اواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی جو نور مقدم کے لیے اٹھائی گئی ۔۔۔ان کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا جائے ۔۔۔اخر کیسے دونوں کا اکٹھا دل بند ہو گیا
#JusticeForAminaAndAnmol
تھانہ ٹاؤن شپ لاہور پولیس حراست میں
دونوں لڑکیوں کی موت حرکت قلب بند ہونے کے باعث ھو گئی
جان بحق ہونے والی دونوں لڑکیوں انمول اور آمنہ کو آبائی علاقہ پاکپتن میں سپردخاک کردیا
ہماری بچیاں شام کو واپس نہیں آئیں رات بھی گزر گئی تو لاہور پولیس نے فون کیا کہ آپکی بچیاں یہاں تھانے میں ہیں،
ہم ابھی جا ہی رہے تھے کہ دوبارہ فون آیا کہ آپ جناح اسپتال جائیں آپکی بچیاں فوت ہوگئی
وہاں سے پولیس اپنی کسٹڈی میں جسد خاکی لیکر آئی جب تدفین کر رہے تھے تب بھی ہمیں جنازوں کے پاس نہیں جانے دیا گیا..
یہ ویڈیو ایک ٹی وی چینل نے چلائی ہے جس میں بچیوں کے اہل خانہ کا یہ بیان ہے....
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی خودکشی کی کوشش۔
20 گولڈ میڈل اور نو چاندی اور براؤن میڈل لینے والی سونیا فاروق نے خودکشی کی کوشش کیوں کی.
پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مجھے جنسی تعلقات بنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ سونیا فاروق ۔
ہاسٹل میں سوتے ہوئے ہماری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور اسے استعمال کر کے ہمیں بلیک میل کیا جاتا ہے ثمرا بشیر
میں نے اس نا انصافی اور اس ظلم کے خلاف تین بار درخواست جمع کروائی مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ثمرا بشیر
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہم لڑکیوں کو رات کے ڈیڑھ بجے ہوسٹل سے نکال دیا۔
ثمرا بشیر
یہ نوجوان لاہور کا محمد صائم ہے،تین بچوں کا باپ ہے، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں ریاض کے جگر ٹرانسپلانٹ سینٹر میں بے یارومددگار پڑاہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہے ۔سعودی عرب کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اسے ائیر ایمبولینس کے ذریعے فورا پاکستان لے جائیں جہاں اس کی فیملی اسے جگر کا عطیہ کرے تو اس کی جان بچ سکتی ہے
حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے شہری کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے اور صائم کو سعودی عرب سے PKLI لاہور منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ممکن ہے کہ تین معصوم بچوں کو ان کا باپ لوٹایا جا سکے
03044352009
@manwarjamal بہت بڑی تعداد سٹار افیسرز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے موجودہ یونٹس کم ہیں تو یونٹس بڑھا جائےکے ان کو ایڈجسٹ کیق جائے گا یاصدارتی نظام کی طرف موو کریں
1879 میں مصر کے ایک عام دیہاتی علاقے کفر الشیخ کی ایک سادہ عورت مبارکہ خفاجی نے ایک کسان ابراہیم عطا سے شادی کی۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے شوہر نے اسے اس وقت طلاق دے دی جب وہ حمل کے آخری مہینوں میں تھی۔
مبارکہ اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ اسکندریہ منتقل ہو گئی، جہاں اس نے اپنے بیٹے علی ابراہیم عطا کو جنم دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو بہتر تعلیم اور بہتر مستقبل دے گی۔
زندگی نے اسے سخت حالات دیے، مگر اس نے مایوسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ اگر چاہتی تو اپنے بیٹے کو محنت مزدوری پر لگا سکتی تھی، مگر اس نے خود سڑکوں پر پنیر بیچ کر اس کی پرورش کی۔
اس نے اپنے بیٹے کو رأس التین پرائمری اسکول میں داخل کروایا۔ جب وہ ابتدائی تعلیم مکمل کر چکا تو اس کے والد اسے واپس لے جانے آئے تاکہ اسے صرف بنیادی تعلیم کے بعد مزدوری پر لگا دیں۔
لیکن مبارکہ کے خواب بڑے تھے۔ اس نے ہمت اور حکمت سے اپنے بیٹے کو چھپا کر قاہرہ منتقل کیا اور اسے خدیویہ اسکول درب الجمامیز میں داخل کروایا۔ تعلیم جاری رکھنے کے لیے وہ ایک گھرانے کے یہاں ملازمت کرتی رہی۔
علی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور 1897 میں میڈیکل کالج میں داخل ہوا اور 1901 میں ڈاکٹر بن کر فارغ التحصیل ہوا۔
کچھ سال بعد سلطان حسین کامل شدید بیمار ہوئے اور ان کی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر عثمان غالب نے ڈاکٹر علی ابراہیم کا نام تجویز کیا۔ انہوں نے کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد انہیں سلطان کا چیف سرجیکل کنسلٹنٹ اور ذاتی معالج مقرر کیا گیا اور “بیگ” کا خطاب ملا۔
1922 میں انہیں بادشاہ فواد اول نے “پاشا” کا خطاب دیا۔
1929 میں وہ قاہرہ یونیورسٹی کے پہلے مصری ڈین بنے اور بعد میں اسی یونیورسٹی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔
1940 میں وہ وزیر صحت بنے، اسی سال انہوں نے مصری میڈیکل سنڈیکیٹ قائم کیا اور اس کے پہلے صدر بنے، ساتھ ہی وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
ایک ان پڑھ دیہاتی اور طلاق یافتہ ماں نے ایسا بیٹا پروان چڑھایا جس نے تاریخ بدل دی۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔
ہر اس ماں کو سلام جو زندگی کی حقیقی درسگاہ ہے۔
آزاد کشمیر پر پروپیگنڈہ کرنے والے بی بی سی کو ابصار عالم کا چیلنج
بی بی سی کو چیلنج ہے کہ غزہ پر بھی تو کچھ لکھیں،ڈاکومینٹری بنائیں،بی بی سی اور برطانیہ کے نیتن یاہو نے 22 ہزار بچے ماردیے ہیں،بی بی سی والے پنجابی میں وی لاگ کررہے ہوتے ہیں،اردو میں لگے ہوتے ہیں،پشتو،فارسی سمیت پتہ نہیں کس کس زبان میں لگے ہوتے ہیں
لیکن اتنی غیرت نہیں ہے کہ اسرائیل کے خلاف اسٹوری کریں،میری بی بی سی میں کام کرنے والوں سے درخواست ہے ایک اسٹوری نیتن یاہو کے خلاف کریں،پنجابی میں وی لاگ بھی کریں،دیکھتا ہوں اگلا وی لاگ ہوتاہے یا نہیں
ایف بی آر نے ٹیکسٹائل ملوں کو کیمرے نصب کرنے کے لیے الٹی میٹم دیدیا*
یکم جولائی سے ٹیکسٹائل ملوں پر کیمرے نصب ہوں گے، 180 ملز مالکان کو حتمی وارننگ دے دی گئی۔
ٹیکسٹائل ملز کیمرے اپنے اخراجات پر لگوائیں گی، کیمرے نہ لگوانے پر ملیں بند تصور ہوں گی۔۔
ایف بی آر شوگر، سیمنٹ اور کھاد فیکٹریوں میں کیمرے نصب کروا چکا ھے۔
🚨چار مالک جنرل سٹور میں موجود تھے،
🚨موقع سے گرفتار بھی پانچ افراد کو کیا گیا،
🚨لیکن زیادتی اکیلے ملازم نے کی اور قتل میں بھی صرف وہی ملوث تھا،
🚨حالانکہ بچی کے ورثاء کو ان چاروں مالکان نے بھی کہا کہ وہ یہاں سے جاچکی ہے،
🚨بات ہضم نہیں ہورہی۔
شیخوپورہ میں ایک شخص گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا تھا وہاں پنجاب پلس کا ایک شیر جوان آیا اور اس شخص سے کہا میں وردی والا ہوں فرنٹ سیٹ پہ میرا حق ہے تم پیچھے بیٹھو اس بات پہ تکرار ہوئی اور پولیس والے نے اس شخص کی ٹانگ میں گولی مار دی ۔۔۔
سرگودھا کی ایک اور بیٹی 8 روز سے لاپتہ۔۔۔
ننھی پری کے والدین غم سے نڈھال۔۔۔!
سرگودھا کے چک 138 جنوبی کی رہائشی 8 سالہ عروج ولد احمد شیر 15 جون دوپہر 2 بجے اپنے گھر سے لاپتہ ہے۔
عروج نے نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور پیلے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی ہے، 8 روز سے اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
عروج کے والدین شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ انہیں صدیوں کے برابر محسوس
ہو رہا ہے۔
اگر کسی نے اس عروج کو کہیں دیکھا ہو یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتا ہو تو خدارا فوری طور پر درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔
📞 03006072279
📞 03006036730
آپ کی ایک کال، ایک پیغام یا ایک شیئر عروج کو اس کے بے چین والدین کی آغوش تک واپس پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ عروج کو خیر خیریت سے جلد از جلد اپنے والدین سے ملا دے۔ آمین 🤲🏻
ٹیلی کام کے بل پر بہت واویلا ہے۔ بجا ہے مگر ہماری بھاڑے کی اکانومی میں یہ انوکھا اور پہلا قانوں نہیں ہے جس میں پرائیویٹ سیٹھ سرکار کی مدد سے لوگوں کے وسائل ہڑپ کرتے ہیں۔ گڑ کنٹرول آرڈیننس 1948 میں ہی آ گیا تھا جس کے تحت کسی پرائیویٹ شوگر ملز کی عملداری میں گڑ بنانے کی ممانعت تھی۔ جب اسی کی دہائی میں اتفاق سے اتفاق والوں کی ملیں ضیاء نے سیاستدانوں کو سرکاری قرضے سے لگوا کر دیں تو اس قانوں کے تحت دھڑا دھڑ بیلنے ضبط کیے گئے۔ اس کے بعد سے گڑ انڈسٹری آج تک نہیں اٹھ سکی۔
کسانوں کا گنا زبردستی ان ملوں تک پہنچانے کے لیے سڑکوں کی ضرورت تھی، وہ بھی سرکار نے یا انڈسٹری نے نہیں بنائیں بلکہ گنے کے کاشتکاروں پر شوگر سیس ٹیکس لگایا گیا جو ابھی تک وصول کیا جا رہا ہے
ہر ایک من گنے پر ایک روپیا۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ٹیکس سرکار کا کوئی ادارہ اکٹھا نہیں کرتا بلکہ شوگر مل اکٹھا کرتی ہے یعنی آنے والے گنے سے شوگر سیس کاٹ لیتی ہے۔ گنے کی انڈر انوائسنگ عام ہے یعنی اگر ایک لاکھ ٹن گنا کرش کیا گیا ہے تو پچاس ہزار ٹن شو کیا جائے گا جبکہ سیس ہر من پر کاٹا جائے گا۔ ظاہر نہ کیے جانے والے گنے کا سیس بھی سیٹھ کے پاس جاتا ہے۔
سوچیں پرائیویٹ پارٹیز کو نوازنے کے سرکار کہاں کہاں تک جاتی ہے۔
منقول
پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ سامنے رکھ کر اگر آپ سے کہا جائے کہ “آپ آزاد ہیں، اپنی مرضی سے فیصلہ کریں”، تو یہ آزادی نہیں، خوف ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 بظاہر 5G، فائبر آپٹک اور ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتا ہے۔ ترقی ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی کی قیمت کون ادا کرے گا؟
ذرا سوچئے۔
آپ نے پوری زندگی کی کمائی سے گھر بنایا۔ قرض اتارے۔ بچوں کے خواب قربان کیے۔ پھر ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے آپ کی پراپرٹی تک رسائی درکار ہے۔
آپ کی ذاتی پراپرٹی کی رسائی کے متعلق، نئے قانون میں درج ہے کہ، کمپنی آپ کی رضامندی چاہے تو آپ اسے خود جواب دیں۔ اگر کمپنی کو آپکے "نا مناسب انکار" پر اعتراض ہوا تو ایک سیکریٹری لیول کا عہدیدار تیس دن میں اس شکایت کو سن کر فیصلہ کرے گا اور پراپرٹی مالک کو پانچ کروڑ تک جرمانہ کر سکتا ہے۔
میرا اعتراض ٹیلی کام انفراسٹرکچر یا 5G سے نہیں ہے۔
میرا اعتراض اس بات پر ہے کہ قانون یہ واضح نہیں کرتا کہ "نا مناسب انکار" آخر ہوتا کیا ہے۔
اگر ایک شہری کو پہلے سے یہ ہی معلوم نہ ہو کہ کون سا انکار جائز ہے اور کون سا پانچ کروڑ کے جرمانے کا سبب بن سکتا ہے، تو پھر قانونی تحفظ کہاں ہے؟
قانون میں یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ یہ بے چارہ "نا مناسب انکار" انکی نظر میں کیا ہے۔ یعنی کہ آپ کا انکار ہی نامناسب انکار ہوگا۔
یہ رضامندی ہے یا دباؤ؟
یہ اختیار ہے یا دھمکی؟
یہ معاہدہ ہے یا مجبوری؟
قانون کہتا ہے آپ انکار کر سکتے ہیں۔
مسئلہ انکار کے حق کا نہیں، بلکہ اس حق کی حدود اور تعریف کے غیر واضح ہونے کا ہے۔
پہلے بھی لوگ اپنی پراپرٹی پر ٹیلی کام کمپنیز کے ٹاور لگوا کر پیسے کمارہے تھے، لیکن دونوں طرف آزاد رضامندی تھی پھر معاہدے طے پاتا تھا۔
سوال یہ ہے پھر یہ قانون کیوں بنانا پڑا؟
اس لئیے کہ ٹیلی کمپنیزی اگر زبردستی چاہٰیں تو حکام سے شکایت لگا کر جرمانہ کروا سکتی ہیں۔ اور جب قانون میں "نامناسب انکار" کی تعریف شامل نہیں تو ہر انکار "نامناسب انکار" بن جائے گا اور پراپرٹی مالکین دباو میں رضامند ہوں گے۔
یعنی کی زبردستی کرکے رضامندی لی جائے گی۔
یہی اس بل کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔
دنیا بھر میں نجی ملکیت کا حق صرف زمین کا حق نہیں ہوتا، یہ آزادی کا حق ہوتا ہے۔ جس دن ریاست شہری کے “نہیں” کہنے کے حق کو کمزور کر دے، اسی دن “ہاں” کی اخلاقی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
مجھے 5G سے اختلاف نہیں۔
مجھے فائبرائزیشن سے اختلاف نہیں۔
مجھے ڈیجیٹل پاکستان سے اختلاف نہیں۔
لیکن مجھے اس سوچ سے اختلاف ہے کہ ایک عام شہری کے سر پر پانچ کروڑ روپے کی تلوار لٹکا کر پھر اس کی رضامندی کو رضامندی کہا جائے۔
یاد رکھیے۔
جائیداد کا حق صرف اس وقت تک حق ہے جب مالک کو “نہیں” کہنے کا حقیقی حق حاصل ہو۔
ورنہ پھر گھر آپ کا ہوتا ہے، اختیار کسی اور کا۔
نوٹ: یہ قانون قومی اسمبلی سے پاس ہوکر سینیٹ میں زیر بحث ہے جس پر بحث فل حال موخر کردی گئی ہے۔ بس آپ قومی اسمبلی سے پاس ہوجانے کا مزا لیجئے کہ کیسی خامی کیساتھ پاس ہوگیا۔ امید ہے کہ سینیٹ اس قانون کو یا تو مکمل طور پر رد کر دے گا یا پھر نقائص درست کرواکر پاس کروائے گا۔
شہزاد احمد مرزا
جرمانے ہی جرمانے
ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ 2000 روپے
غلط جگہ پارکنگ پر جرمانہ 1000 روپے
ممنوعہ جگہ کی طرف گاڑی کے داخلے پر جرمانہ 500 روپے
بائیک پر تین افراد بٹھانے پرجرمانہ 2000 روپے
پلاسٹک کے ہیلمٹ پہننے پر جرمانہ 5000 روپے
ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی پر جرمانہ 1000 روپے
ون وے پر جرمانہ 2000 روپے
بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانہ 2000 روپے
اب دوسرا پہلو دیکھیئے
سڑک پر بے شمار گڑھے کھڈے ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
ناکارہ سگنل لائٹس ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
سڑک کی کھدائی کے بعد اسکی مرمت نہیں ہوتی ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
سڑک پر سیاسی، عسکری فلیکسز اور بینرز لگوائے جاتے ہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
فٹ پاتھ پر بےشمار تجاوزات ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
سڑک پر ابلتی کچرا کنڈیاں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
سڑکوں پررات کے اوقات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں
دن دھاڑے چوری ڈکیتیوں کی واردات، پکڑنے پر پولیس باقاعدہ حصے دار۔ عوام کے مال اور جان کی تحفظ کا کوئی ذمہ دار نہیں
ایسا لگتا ہے کہ عوام صرف مجرم ہیں اور جرمانے ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں
انتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔
ان پر کوئی قواعد و ضوابط لاگو نہیں ۔
وہ مسائل کے حل کے لیے کبھی ذمہ دار نہیں ۔
کیا انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیئے؟
شہری فرائض ادا کریں
شہری تکلیف کا سامنا کریں
شہری ٹیکس ادا کریں
شہری چوروں سے بچنے کا انتظام خود کریں
شہری حکومت کا خزانہ بھریں
اور حکومت ہمارے ٹیکسوں سے عیاشیاں کرے
حالات تبدیل ہونے چاہئیں
یہ سب ممکن ہوگا عوام میں بیداری پیدا کرنے سے
اس پیغام کو پھیلائیں ۔
شعور پیدا کریں ۔
صدائے احتجاج بلند کریں ۔
وقت آچکا ہے کہ حکومت انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی کرے اور ٹیکسوں سے حاصل کی گئی رقم عوام پر استعمال کرے*
سوہنا ملک اور سوہنے لوگ سلامت رہیں