پٹرول کی قیمت میں 22 روپے نہیں فوری طور پر 122 روپے کمی کی ضرورت ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمت گر رہی ہے، جبکہ لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر حکومت 250 روپے فی لیٹر پٹرول کی سطح کو بحال کرے اور اس قیمت کوکم ازکم دو سال کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت ڈیکلئیر کردے تو معیشت میں تیزی بھی آئے گی اور خود ہی آمدن کے اہداف پورے ہونے لگیں گے۔ ٹیکس جمع کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کا استعمال عوام کی جیب پر ڈاکا بھی ہےاور معیشت کی بربادی کا سامان بھی ہے ۔ آئی ایم ایف کو واضح انکار کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔