کیا ہم واقعی اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے ہی وفادار ساتھیوں کی قربانیاں بھول گئے؟
حسان خان نیازی پر جیل میں ہونے والے مبینہ ظلم پر بات آخر کیوں نہیں ہوتی؟ حسان نیازی کے ہاتھ کے ناخن اتا لیے گئے تھے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹا۔
آج حسان خان نیازی اپنے ماموں عمران خان کی طرح ثابت قدم کھڑا رہا۔ نہ وہ جھکا، نہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا، نہ اپنی وفاداری پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ اس نے اپنی جوانی، اپنی آزادی اور اپنا سکون قربان کر دیا، مگر وفا کا دامن نہیں چھوڑا۔
جب صنم جاوید یا فلک جاوید کے ساتھ کوئی تشدد ہوتا ہے تو پوری قوم آواز اٹھاتی ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حسان خان نیازی کے لیے وہی آوازیں خاموش کیوں ہو جاتی ہیں؟ کیا انصاف اور حمایت صرف عہدوں یا شہرت والوں کے لیے ہے؟
صنم جاوید اور فلک جاوید جتنا حق رکھتے ہیں کہ ان کے لیے آواز اٹھائی جائے، اتنا ہی حق حسان خان نیازی کا بھی ہے۔ اگر کسی کے پاس عہدہ ہے تو حسان خان نیازی کے پاس بے مثال وفاداری، استقامت اور قربانی ہے۔ وفاداری کسی عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔
حسان خان نیازی نے اپنے ماموں کے لیے اپنی جوانی قربان کر دی، ہر مبینہ ظلم برداشت کیا، مگر کبھی سر نہیں جھکایا۔ افسوس کہ آج ان کا نام لینے والے بھی کم رہ گئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
میں جب تک زندہ ہوں، ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا رہوں گا جس نے ہمارے قائد کا ساتھ وفاداری سے نبھایا۔ حسان خان نیازی جیسے وفادار کارکن ہماری جماعت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ خدارا ان کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں۔ ان کے لیے بھی اسی طرح آواز اٹھائیں جیسے ہم اپنے دوسرے کارکنوں کے لیے اٹھاتے ہیں۔
وفاداروں کو بھلا دینے والی قومیں اپنی تاریخ خود کمزور کر دیتی ہیں۔ حسن خان نیازی کو مت بھولیے، ان کے لیے آواز اٹھائیے۔
@AbuzarFurqan@ahmad__bobak@Skiper786@rizwanghilzai
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
یہ ہے پاکستانی Gen Z ایک ایسی نسل جسے شاید کچھ لوگ کمزور، نکما اور بے اثر سمجھ رہے تھے۔ ابھی چند دن پہلے جب بھارت میں Gen Z سڑکوں پر نکلی تو باہر بیٹھے بہت سے لوگ پاکستانی Gen Z کو طعنے دے رہے تھے کہ یہ ناکارہ ہے، یہ کچھ نہیں کر سکتی۔
مگر آج ذرا پاکستانی Gen Z کو دیکھ لیجیے۔
اسے لیڈ کرنے والا کوئی ایک شخص نہیں، کوئی مخصوص جماعت نہیں، کوئی بڑا لیڈر نہیں۔ یہ نوجوان اپنی آواز، اپنے شعور اور اپنے ضمیر کے ساتھ خود کھڑے ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی 'جنریشن زی' (Gen Z) کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے۔
گزشتہ دو ماہ سے کشمیری، بالخصوص راولا کوٹ کے رہائشی، خونریزی، انٹرنیٹ کی بندش اور کرفیو جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔
ہم ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو کشمیر اور کشمیری عوام کی آواز بنا ہے۔ ہم ہر صاحبِ ضمیر انسان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے ساتھ کھڑا ہو۔ ہم صرف اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے خواہاں ہیں اور حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ عوام کے جائز مطالبات کو گولیوں کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
ہمارا سسٹم اب انڈسٹری کی پیداوار ملک میں خوشحالی لانے کی بجائے رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔بیوروکریسی اپنےفائدےکی فکر کرتی ہے۔جب ایک معاشرہ نیچے جاتا ہے توسسٹم بدلنے میں وقت لگتا ہے۔نیا پاکستان ایک بٹن نہیں بلکہ اصلاحات،جدوجہداورمائنڈ سیٹ کی تبدیلی ہیں
عمران خان
@Skiper786 ممکن کو چھوڑیں، واپسی کے کوئی امکان ہی
نہ بچے۔
کہاوت ہے: "اگر کوئی آپ کو چھوڑ کر جانا چاہے تو اس کا ہاتھ مت پکڑو، اسے راستہ دے دو۔"
تو پھر بس اسے راستہ دے دیں… انڈیا کا بارڈر بالکل ٹھیک رہے گا۔