The myth of a state that runs on coercion, somehow imposes economic development and fills the coffers of the state while denying the people basic human dignity is nonsense that history has exposed again and again. Such a state is not a ‘hard’ state but a lawless farce that hollows out the state. For every coercive-development state in East Asia there are dozens of failed dictatorships in Africa and South America. Every Pakistani dictatorship has left the country structurally and economically weaker. Yet we refuse to learn. Every few years, after another bout of failed oppression, we hear the ‘system’ being blamed. Fact is that when elections are stolen, the judiciary subjugated and the people silenced the field is left open for arbitrary exercise of power without accountability. Such exercise of power only breeds corruption and desperation. While every constitutional structure can be improved the real issue is the arbitrariness of power. Unless the real issue is resolved no system will work. The people will remain alienated and the ‘system’ will continue to shoot them down. https://t.co/eegjtcLIxg…
یہ بھی تو خاصا دلچسپ منظر ہے کہ جب نئے صوبوں پر بیانیہ بنانے کے لیے عمران خان کے پرانے کلپس کی ضرورت پڑ جائے کہ دیکھیں عمران خان کیا کہتے تھے عمران خان کا انتظامی یونٹس پر کیا مئوقف تھا !
ذرائع کے مطابق نون لیگ میں نظریاتی اعتبار سے دو مختلف رائے پائی جا رہی ہیں۔
ایک گروپ کے مطابق بغیر کسی دیر کے مقتدرہ کا سجا پاؤں پکڑ لینا چاہیے کیونکہ حقیقت میں نون لیگ کے باس کوئی عوامی حمایت موجود نہیں۔
دوسری رائے یہ ہے کے کھبا پاؤں پکڑنا چاہئیے کیونکہ وہ زیادہ قریب ہے۔
پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی میں صرف 10 منٹ اور سینیٹ میں صرف اور صرف 2 منٹ اظہارِ خیال فرمایا۔ حکومت کو تو محسن نقوی کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے قیمتی وقت نکال کر 12 منٹ پارلمینٹ کو عطا کئے۔
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
Thousands rallied in Islamabad in support of protesters in Pakistan-administered Kashmir after deadly election-related unrest. The next phase of voting is scheduled for August 2.
Al Jazeera's Kamal Hyder reports from Islamabad.
Imran Khan will Return, inshaAllah!
When 90% of Nation is on one side against the Status Quo, there is no way that selfish status quo can prosper.
They will regret all their lives for losing the people forever … tyranny will never be forgotten or forgiven.
اردو ترجمہ یہ ہے کہ جس صوبے میں اساتذہ کو تنخواہ دینے کےلئے پیسے نہیں ہیں۔
خاکروبوں کو آدھی تنخواہ مل رہی ہے۔مڈل کلاس پچھلے ستر سال کے سب سے بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔چھوٹے کاروبار بند ہونے کےقریب ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات پوری دستیاب نہیں۔کڑوڑوں لوگ باقاعدہ علاج کروانےسے قاصر ہیں۔
وہاں عوام کوناجائز بھاری جرمانے اورٹیکس نافذ کرکے افسر شاہی کے لئے نئی آسامیاں اور پھر ان کا پروٹوکول ، نویں نکور گاڑیاں، اے سی والے دفتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کس نے کیا ؟ صوبے کی امی جان نے۔
گڈ گورننس کا سوال پھر کیوں نہ پیداہو؟
ڈیڑھ برس قبل لاہور میں اربوں کا فراڈ۔ کراچی کی رہائشی فاطمہ سلیم نے اپنے لاہوری کاروباری پارٹنر سہیل عدنان سے سے مل کر عام شہریوں کو "بحریہ کوزین " نامی کمپنی کے نام پر شہریوں کو اربوں کا ٹیکا لگایا۔ آٹھ ماہ تک لٹنے والے اسکا پیچھا کرتے کرتے بالآخر دونوں کو پولیس کے حوالے کروانے میں کامیاب ہو گئے- چونکہ اس فراڈ میں کسی طاقتور کا پیسہ شامل نہیں تھا لہٰذا پولیس نے ایک روپے کی ریکوری کیے بغیرانھیں جوڈیشل کر دیا۔
اب دونوں ملزمان ہر پیشی پر متاثرین کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ تم نے ہمارا کیا بگاڑ لیا' جلد باہر آ کر تمہیں سبق سکھاتے ہیں۔ اربوں کا فراڈ اور ریکوری صفر،پولیس اور نیب دونوں اب تک ملزمان سے ایک روپیہ ریکوری نہیں کرسکے،نیب افسران کی فراڈ کے معاملات میں ریکوری کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ کے باوجود برآمدگی نہ ہونا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ عام آدمی کے لیے یہ سسٹم کیا کررہا ہے؟ لٹنے والے ڈیڑھ سال سے ذلیل ہیں اس نظام نے جس کو وہ ٹیکس دیتے ہیں انہیں انصاف کے نام پر کیا دیا؟
یہ حکومت بھی انہی کی لگائی ہوئی ہے جن کے وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ ہیں۔ تحریک انصاف کے لوگ مارے گئے موصوف محسن نقوی کو شاباش دے رہے تھے اپنی دم پر پاؤں آیا تو چیخیں نکل رہی ہیں۔ تم سب ایک ہی ٹوکری کے گندے پھل ہو۔
It is insanity to create a language barrier between the populace and the affairs of the state and close all avenues of advancement for those not able to compete with the English language proficiency of a small minority. The language barrier extinguishes creativity and ultimately aspiration for all but a small set that is able to break through the barrier. Only a handful of countries once ruled by Britain or France have created this barrier. No country where prosperity has been widespread has imposed such a barrier: not China, not Japan, not South Korea. Closer to home Turkey and Iran have created eco-systems of knowledge and progress in their own national languages. From drone engineering to astronomy-physics and AI every PhD dissertation in Iran is submitted in Persian. Their graduates compete with and outperform the best in the world. Nobody denies a teaching of English or whatever else is needed for communication and research. But to make a foreign language a necessity to advancement in one’s own land is a crime that we have committed for generations against our own hapless people.
جناب میرے خاندان سے میں پہلا شخص جو سیاست میں عمران خان کی وجہ سے آیا۔ 1973 کےخاندانوں، جاگیرداروں، نوابزادوں تینوں کےویڈیوں ثبوت موجودہیں کہ سالار این اے263 کوئٹہ سےالیکشن جیت گیا۔ تین دن بعد ایک ایسا شخص جو مقابلے ہی میں نا تھا اسکے فارم 47 میں جیت کااعلان ہوگیا۔
ہنڑ دسو جی؟
To demonstrate tangible solidarity with the Kashmiri populace and to alleviate their suffering amidst the ongoing oppression, tyranny, and brutal siege in Azad Kashmir, a comprehensive relief convoy is scheduled to depart for the region on Monday, August 3, 2026, at 10:00 AM, from F-10 Markaz, Islamabad.
This extensive convoy will comprise ambulances, essential pharmaceuticals, medical specialists (physicians), paramedical personnel, dedicated volunteers, and fundamental nutritional provisions.
Individuals desirous of accompanying this humanitarian convoy in their personal vehicles are earnestly requested to formalize their participation by completing the appended registration form.
An urgent appeal is extended to healthcare professionals—particularly physicians, nurses, and paramedics—to actively contribute their expertise to this vital humanitarian endeavor. Furthermore, generous donations of medicinal supplies, surgical instruments, and other indispensable relief commodities are highly welcomed and can be deposited with the organizers.
For Further Information and Inquiries:
Contact Number: 03130517674
Registration Form Link: https://t.co/fB2ZTdZLrT…
Issued by:
Tehreek Tahaffuz Ayin e Pakistan (Movement for the Protection of the Constitution of Pakistan) & Pakistan Rights Movement.
اسلام آباد میں پنجاب حکومت کا سرکاری "پنجاب ہاؤس" ہے۔ پھر راول ڈیم کنارے "ریسٹ ہاؤس" بنانا کیوں ضروری تھا؟ اب پنڈی میں ایک اور "سرکٹ ہاؤس" کیوں بنایا جا رہا ہے؟ جبکہ مری میں بھی "پنجاب ہاؤس" اور "گورنر ہاؤس" الگ الگ ہیں۔
ملک کے غریب عوام سے یہ کھلواڑ نہیں تو کیا ہے ؟؟؟
لالو کھیت کے رہائشی محمد رحمان کا دعویٰ تھا کہ اسکی تین برس کی بیٹی ڈکیتی کے دوران ڈاکو کی فائرنگ سے جانبحق ہو گئی مگر پولیس تحقیقات سے پتہ چلا کہ بچی کا والد اپنی رائفل صاف کر رہا تھا اس دوران گولی چلنے سے بچی جان سے گئی اور والد نے جھوٹ بولا