تفتیش کے دوران ملزم کی فیملی کی نشاندہی پر سی سی ڈی نے دو ہفتے قبل اغواء کی گئی خاتون کو ہلاک اشتہاری زرغام کے دوسرے گھر سے بازیاب کروا لیا،خاتون کے اغواء کا مقدمہ تھانہ سٹی اٹک میں مغویہ کے والد کی مدعیت میں درج ہے
گوجرخان ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر ہسپتال صفائی عملے کا احتجاج۔ورکرز اور سپروائزر کا اے سی گوجرخان ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان اور اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔ورکرز کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں سرکاری اعلان کے مطابق 40 ہزار سے کم ہے
کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ظالموں نے ایک گروپ کی شکل میں گائے پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر مار دیا
انسان ہو یا حیوان، ظلم ہر صورت گناہِ عظیم ہے۔ ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
بیول، گوجرخان میں بے زبان جانور پر مبینہ تشدد کی ویڈیو وائرل پولیس مظلوموں کو گرفتار کرے
بیول، گوجرخان سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک بے زبان جانور پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے واقعے کی فوری تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی
بی بی سی اردو خود کو دنیا میں آزاد صحافت، غیرجانبداری اور آزادیٔ اظہار کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن اگر اپنے ہی ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس درست ہیں، تو یہ دعووں اور عملی رویے کے درمیان ایک سنگین تضاد کی نشاندہی کرتی ہیں،اطلاعات کے مطابق بی بی سی اردو کے بعض ملازمین نے تنخواہوں میں تاخیر اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے حوالے سے مبینہ دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اگر واقعی ملازمین کو خاموش رہنے، تنقید سے گریز کرنے یا اپنی رائے دبانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، یا ان کی تنخواہوں کو ایسے معاملات سے جوڑا جا رہا ہے، تو یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ صحافتی اقدار، آزادیٔ اظہار اور انسانی وقار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔اور یہ اس ملک کے نشریاتی ادارے کا حال ہے جس کی مثالیں دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے دی جاتی ہیں،یہ انتہائی افسوسناک ہوگا کہ جو ادارہ دنیا بھر میں حکومتوں اور دیگر اداروں سے شفافیت، جوابدہی اور کارکنوں کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے، وہ خود اپنے ہی صحافیوں اور ملازمین کے ساتھ انہی اصولوں پر پورا نہ اترے۔ اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں ہوتے، ان کا اطلاق اپنے گھر سے بھی شروع ہونا چاہیے،بی بی سی کو خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر ان الزامات پر واضح اور شفاف مؤقف دینا چاہیے،اگر تنخواہیں واجب الادا ہیں تو بلا تاخیر ادا کی جائیں، اور عوام کو بتایا جائے کہ واقعی ملازمین پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا یا نہیں۔ کیونکہ اعتماد صرف خبروں سے نہیں، بلکہ ادارے کے اپنے کردار، دیانت داری اور اپنے ملازمین کے ساتھ انصاف سے بھی قائم رہتا ہے،اگر صحافت کا علمبردار ہی اپنے اصولوں سے انحراف کرے، تو پھر دنیا کو صحافتی اخلاقیات کا درس دینے کا اخلاقی جواز بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
@BBCUrdu
روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی اس خبر کو پڑھیں،یہ ملک کی وہ جیل ہے جو حساس ترین سمجھی جاتی ہے،لیکن یہاں پر خرد برد بھی اتنی ہی صفائی سے جاری ہے،مافیا اتنا طاقتور ہے کہ انکوائری بھی نہیں ہونے دے رہا،اگر انکوائری ہوئی تو اسکا بھی وہی حال ہو گا جو ملاقاتیوں سے پیسے وصول کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار کئے گئے ملازمین کی انکوائری کا کیا گیا،زیادہ سے زیادہ کسی چھوٹے سکیل کے ملازم کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے گا،اور افسر شاہی کو کلین چٹ دے دی جائے گی۔۔۔۔۔