آج پاکستان میں زلزلے کے ایسے جھٹکے محسوس کیے گئے کہ نظام لرز اٹھا، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ متوجہ ہوگئے، اربابِ اختیار اور مقتدرہ خوف کے مارے گوشہ نشین ہوگئے، قاضی صاحبان کی نیندیں حرام ہوگئیں اور انقلاب کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
فضا میں بے چینی تھی، ایوانوں میں اضطراب تھا، پورا نظام اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگا، سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہو رہا تھا۔ جمہوریت کے ایوانوں میں مزاحمت کی نئی تاریخ لکھی جا رہی تھی، انقلاب انگڑائیاں لے رہا تھا اور مقتدرہ کے ایوانوں میں یقیناً خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔
پھر اچانک مناظر سامنے آئے۔ اور پھر دنیا نے وہ تاریخی منظر دیکھا جس نے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ تحریکِ انصاف کے پارلیمانی ارکان ہاتھوں میں آتشی رنگوں کے پلے کارڈ اٹھائے، جن پر جلی حروف میں ’’گورنر راج نامنظور‘‘ درج تھا، ایوان میں کیٹ واک کرتے دکھائی دیے۔
آخرکار، تحریکِ انصاف کے ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر ’’گورنر راج نامنظور‘‘ کے خلاف وہ فیصلہ کن مزاحمت کر ہی ڈالی جس کے بعد اب گورنر راج کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی رہ گیا ہے کہ کہیں اسے واقعی نامنظور نہ کر دیا جائے!
پختون معصوم لوگ پہلے بھی بہت بار مرے ہیں۔ اب بھی مرنے اور گولیاں کھانے کے لیے باہر نکل آئے ہیں۔ یہ واپس گھروں کو لوٹ جائیں۔ جن کتی کے بچوں نے انکی لاشوں اور خون پر سودے بازیاں کرنی ہیں وہ عین اس وقت جب سڑکوں پر گولیاں چل رہی ہیں اور شیلنگ ہورہی ہے وہ اے سی والے نرم نرم کمروں میں اجلاس اجلاس کھیل رہے ہیں۔ دو انتہائی بے وقعت اسمبلیوں سے نکلنے تو دور انکے بائیکاٹ کو بھی تیار نہیں۔
Pakistani intelligence agencies attacked student hostels at University Campus, Peshawar, vandalizing rooms housing MPhil and PhD students of the Insaf Students Federation (ISF). Their only offense: raising their voice against the unconstitutional Governor’s Rule.
Across Khyber Pakhtunkhwa, protests have erupted and security forces are firing directly at unarmed demonstrators, leaving multiple injured and several in critical condition.
Under General Asim Munir, the military regime has subverted KP’s elected government, abducted elected representatives, and continues to use lethal force against peaceful citizens to protect its power.
#FascismUnderAsimLaw
#UndeclaredMartialLaw
@amnesty@amnestysasia@AJEnglish@UNHumanRights@SkyNews@BBCWorld
12 اکتوبر ہے۔ آج ہی کے دن 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا۔ اس کا انجام کیا ہوا، وہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن اُس وقت میری پارٹی کا سربراہ مجھے تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ نہ بھاگتا تو شاید وہ مارشل لا زیادہ دیر نہ چلتا۔ تمام اپوزیشن، خصوصاً بینظیر بھٹو، نے اس مارشل لا کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً سب نے مٹھائیاں بانٹیں۔
میں نے تنہا اس مارشل لا کا مقابلہ کیا۔ آج کے نام نہاد وزیر نے سعودی عرب اور دبئی میں نوکریاں لے لیں۔ مجھے 23 سال کی سزا ہوئی۔ مجھ پر تشدد بھی ہوا۔ میرے ساتھ سیل میں موجود لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
ہم نے مقابلہ کیا، لڑ گئے، اور پھر وہ ڈکٹیٹر مرتے دم تک ملک میں قدم نہ رکھ سکا۔
آج اُس سے کئی گنا برا مارشل لا ہے۔ لیکن آج کے دن بھی، 27 سال بعد، اسلام آباد میں 111 بریگیڈ نافذ ہے۔
فرق اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر ڈٹ کر ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ اس ڈکٹیٹر کو ہرا رہا ہے، اسے خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا کارکن بھی آج قربانیاں دے رہا ہے۔
میرے پاکستانیوں! اس کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دینا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔
خوفناک خواجہ، تم اس خطرناک ذہنیت کے ترجمان ہو جس نے بنگلہ دیش بنایا تھا - تم جنرل ایوب، یحییٰ اور ٹکا خان کے اصل جانشین ہو! چغد تم سمجھ نہیں رہے، آفریدی تمہاری نفرت بھری حرکتوں کا انجام بتا رہا ہے! وہ مستقبل کے خطرات کی خبر دے رہا ہے! وہ پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے! تم وہ دھشت گرد ہو جو اس دھرتی کو تباہ کر رہے ہو! خدا تمہارا حساب کرے گا! انشاللہ
“گھر کے آنگن میں آگ لگی ہو تو ایسی چوہیاں اسے آتشبازی سمجھ کر ناچنے لگتی ہیں”
۔۔
موصوفہ سمجھتی ہیں انہیں تاعمر “جیو نیوز” کی نوکری اور “چرس والے سگریٹس” میسر رہیں گے
لانگ مارچ بھرپور طریقے سے اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔ میں ایوب خان کے خلاف مارچ سے لے کر کئی مارچوں کا حصہ رہا ہوں۔ مگر حقیقتاً ان سب مارچوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرنیلی سپورٹ موجود ہوتی تھی۔
عمران خان کا مارچ پہلا اور حقیقی جمہوری مارچ ہے۔ یہ قوم کی آزادی کا مارچ ہے۔ یہ جہاد ہے! عوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔
میں جمہوریت کی پہلی صف کا سپاہی ہوں۔
جب نواز شریف بہانے بنا کر بھاگ جاتے تھے، میں اکیلا لڑا ہوں۔
آج عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہے۔ کیسے اس کا ساتھ نہ دوں؟
عاصم منیر، تمہیں یا تو خود جانا پڑے گا یا اتار دیے جاؤ گے۔ جانا تو اٹل ہے۔
انشاءاللہ ملتان سے مارچ کا آغاز کروں گا۔
عمران خان، تمہیں قدرت نے 25 کروڑ لوگوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور تم اسے جوانمردی اور دلیری سے نبھا رہے ہو۔
تم جانتے ہو، اکیلے تم نے آزاد نہیں ہونا۔ تمہارے ساتھ 25 کروڑ پاکستانیوں نے آزاد ہونا ہے۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔
Happiest Birthday Imran Khan
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
یا تو عاصم منیر رہے گا یا پاکستان رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ جتنا آپ پریشان ہو رہے ہو، مجھے تو کچھ دن کے مہمان لگ رہے ہیں۔
آج کے دن عمران خان ہی پاکستان ہے۔ آپ پاکستان کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتے۔
یہ جنگ حسینیت اور یزیدیت کی ہے۔ حق اور باطل کی ہے۔ باطل کا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
عاصم منیر کے پاس دو راستے ہیں یا سرنڈر کرے یا مارشل لا لگائے۔
اگر مارشل لا بھی لگا تو یہ ایک کمزور ترین مارشل لا ہوگا۔
عاصم منیر صاحب! میلہ لُٹنے والا ہے۔ یہی کنٹینر آپ کے گلے پڑیں گے۔
میری ساری عمر تحریکوں میں گزری ہے۔ یہ تحریک تو آپ نہیں روک سکتے۔ مشورہ ہے بندوقیں پھینکیں، اور مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ عاصم منیر کے دیرینہ ماموں بابر شاہ میرے ورکر تھے۔ اب تو وہ اور وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کے والد بشیر الدین محمود ہمیشہ اسلام آباد میں میرے گھر آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں گھر پر موجود نہ ہوتا تو میرے نوکر گھر پر ہوتے اور وہ آ کر ان کے پاس بیٹھے رہتے۔
اس لیے میرا مشورہ خلوصِ دل سے ہے۔
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا ):
علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی، تینوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرات کو سلام۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں، سہیل آفریدی، آپ بھی آپ کو یہ جنگ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اتنا ڈرا ہوا کسی ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔ یہ بیچارے کنٹینر جمع کرتے رہیں گے اور احتجاج میں یہی کنٹینر ان کی شکست کا باعث ہونگے۔
عاصم منیر، گدی تو آپ کو چھوڑنی پڑے گی! آپ کی طاقت نہتی 70 سالہ نہتی عورتوں پر ہی چلتی ہے! جو طاقت یہاں دکھا رہے ہو یہ بلوچستان یا جنوبی پختون خواہ میں دکھاؤ نا!
میں جی ایچ کیو نہیں ہوں جو زمینوں پر قبضہ کرے۔ تمہارے جھوٹے الزاموں کا بھی مقابلہ کروں گا۔ کل ہی اوقاف کے نوٹس کے خلاف دعوا دائر کرونگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں یہ اس GHQ کی ناجائز مَلَت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔
27 کو اسلام آباد پہنچیں!
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
ہمارے جرنیلوں کو اب بھی لگتا ہے کہ ان سے میں ڈر جاؤں گا۔ ان کاغذی شیروں، بزدلوں نے مجھے ازل سے نقصان پہنچایا ہے۔ نوٹس بھیجا ہے اور میری بیٹیوں کے گھروں کو گرانے کا ارادہ ہے۔
پورے پاکستان کو کہتا ہوں: میرا گھر دیکھو، اگر ایک انچ بھی میرے پاس اوقاف کی زمین ہے تو مجھے سولی چڑھا دینا۔ آمریت کے دور میں انہوں نے میرے ملتان کے گھر پر قبضہ کیا۔ کچھ سال قبل میری بیٹی کی شادی کے دن اسے 8 گھنٹے فوجی چیک پوسٹ پر انتظار کروایا۔ مجھے وہ گھر چھوڑنا پڑا۔ میں اپنے گاؤں مخدوم رشید میں رہتا ہوں۔ یہاں بھی جنرل باجوہ اور فیض کے دور میں میری بیٹی کا گھر گرایا گیا، تمام ذرائع آمدن تباہ کر دیے گئے۔ میرے تمام کاروبار تباہ کر دیے گئے، ملیا میٹ کر دیے گئے۔ آج بھی وہیں پر کھنڈرات موجود ہیں۔
میں تم بزدل جرنیلوں کا مقابلہ کروں گا۔ میں اس قوم کو بتاؤں گا کہ تم نے کس طرح اپنے فائدے کے لیے 80 سال اس ملک کو لوٹا ہے اور اسے اس نہج پر پہنچایا ہے، غریب کو مارا ہے۔ اپنی آخری سانس تک تمہارا مقابلہ کروں گا۔ اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
Generals! I promise I’ll contest you. I’ll fight the ills of democracy till I breathe my last. You’ve tried me every single time. Try me again.
He is not a terrorist he is Agha Sheikh Sarver a journalist in Pakistan. His crime is to report from the ground and to show the public sentiments towards military regime in Pakistan. Please raise your voice against this tyranny in Pakistan. @UNHumanRights@IFJGlobal@CPJAsia@globalfreemedia@RSF_inter
یہ ویڈیو ہارڈ اسٹیٹ والی فوج ، ستر فیصد بجٹ کھانے والے فوج ، 800 ارب روپے کی سالانہ پنشن کھانے والے فوج ، چار مارشل لاء لگانے والی فوج کی ناسوں میں دیکر تشریف سے نکالنی چاہیے۔